سعودی جیل میں قید کے دوران ایسا کچھ نہیں ہوتا، سیکیورٹی حکام نے دوٹوک موقف دیدیا

سعودی جیل میں قید کے دوران ایسا کچھ نہیں ہوتا، سیکیورٹی حکام نے دوٹوک موقف ...
سعودی جیل میں قید کے دوران ایسا کچھ نہیں ہوتا، سیکیورٹی حکام نے دوٹوک موقف دیدیا

  

جدہ (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کے ایک سیکیورٹی افسر نے کہا ہے کہ سعودی جیلوں میں سخت مشقت، نسل پرستی اور نجی حقوق کی خلاف ورزی جیسا کچھ نہیں ہے۔ عرب نیوز کے مطابق ریاض میں واقع الحایر جیل کے ڈائریکٹر خالد المالکی نے صحافیوں کی جانب سے جیل کے دورہ کے موقع پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی جیلوں میں کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچنے کیلئے قیدیوں کو عمر اور جرائم کی مناسبت سے مختلف گروپوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ گروپوں کو ایک ہی جگہ پر رکھا جاتا ہے جیسا کہ منشیات کی حوصلہ افزائی اور ان کی فروخت کرنے والوں اور منشیات کے عادی مجرموں کو ایک ساتھ ہی رکھا جاتا ہے۔

المالکی نے کہا کہ سعودی جیلوں میں قیدیوں سے سخت مشقت نہیں کرائی جاتی” کام کا انتخاب قیدی خود کرتے ہیں جس کے بدلے میں انہیں معاوضہ دیا جاتا ہے“ ۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں موجود تمام عملہ قیدیوں کے وقار کا خیال رکھتا ہے اور انسانیت کے اصولوں کے تحت رویہ اختیار کرتا ہے“۔

انجینئرنگ افیئرز کے ڈائریکٹر سعد العارفی کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کھلنے والی اس جیل میں 7,272 قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش ہے۔ ” جیل حکام ضعیف اور معذور افراد کی ضروریات کا بھی خیال رکھتے ہیں اور دو افراد کو ایک کمرے میں ٹھہرانے کیساتھ انہیں وہ تمام ضروری اشیاءمہیا کرتے ہیں جن کے ذریعے وہ چلنے پھرنے کے قابل ہوں اور جیل میں موجود دیگر سہولیات کو بھی استعمال کر سکیں“۔ انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں اس جیل کی استعداد کار میں اضافہ کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے جس کے تحت اس میں 9,400 قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش پیدا کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ” جیل کا رقبہ 1.8 ملین مربع میٹر ہے جس میں 5 کمپلیکس موجود ہیں، ہر کمپلیکس میں چاریونٹ ہیں اور ہر یونٹ میں 256 قیدی موجود ہیں جنہیں دو وارڈز کے سیکشن میں رکھا گیا ہے۔ ہر وارڈ میں 22 کمرے ہیں اور ایک کمرے میں 6 قیدیوں کو رکھا جاتا ہے“۔

سعد العارفی نے مزید بتایا کہ 90,000 مربع میٹر کے رقبے پر صنعتی شہر قائم کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے جس کے باعث قیدی اپنی پسند کے مطابق کام کر سکیں گے۔ جیل میں دانتوں اور دیگر بیماریوں کے علاج کیلئے صحت کے مراکز، ڈرماٹالوجی،ریڈیالوجی اور اوپتھلمالوجی ڈیپارٹمنٹس بھی موجود ہیں جبکہ یہاں وقتاً فوقتاً تعلیمی، تکنیکی اور پیشہ وارانہ ٹریننگ کیلئے پروگرام کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے۔

العارفی کے مطابق حکام نے جیل کے رقبہ کو مکمل طور پر استعمال میں لانے کیلئے گرین ہاﺅسز بنانے کا منصوبہ بھی تیار کیا ہے جہاں مختلف سبزیاں اور پھل اگائے جائیں گے جبکہ پولٹری اور لائیو سٹاک کیلئے بھی جگہ مختص کی جائے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جیل میں قیدیوں سے ملنے آنے والوں کیلئے بھی کچھ پابندیاں ہیں ، جیسا کہ صرف قریبی رشتہ داروں کو ملنے کی اجازت دینا اور جیل کے اندر کسی بھی قسم کی کھانے پینے کی اشیاءلانے پر پابندی ہے تاہم فیملی وزٹ کیلئے ہر ایک قیدی کو حق حاصل ہے کہ وہ 12 گھنٹوں تک یا اس سے زائد کیلئے ملاقات کر سکے۔

مزید : عرب دنیا