امریکہ نے سعودی عرب کے خلاف بڑا فیصلہ کرلیا، سنگین ترین خطرہ پیدا ہوگیا

امریکہ نے سعودی عرب کے خلاف بڑا فیصلہ کرلیا، سنگین ترین خطرہ پیدا ہوگیا
امریکہ نے سعودی عرب کے خلاف بڑا فیصلہ کرلیا، سنگین ترین خطرہ پیدا ہوگیا

  

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی تاریخ کے سب سے بڑے دہشتگردی حملے میں سعودی عرب کو ملوث کرنے کی سازش اپنے آخری مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے اور اب کسی بھی وقت 9/11 انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے وہ صفحات منظر عام پر آسکتے ہیں کہ جو امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات کو ہمیشہ کے لئے بدل کر رکھ دیں گے۔

اخبار ڈیلی میل کے مطابق امریکی حکومت 9/11 رپورٹ کے سعودی عرب سے متعلقہ 28 صفحات کا کچھ حصہ منظر عام پر لانے کی تیاری کرچکی ہے اور اس بات کا جائزہ لیا جارہا ہے کہ ان صفحات میں سے کون سے حصے ابتدائی مرحلے میں دنیا کے سامنے لائے جاسکتے ہیں۔ امریکی صدر باراک اوباما کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر بین روڈز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صدر اوباما نے نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر کو مذکورہ صفحات کا جائزہ لینے کا حکم دے دیا ہے تاکہ فیصلہ کیا جاسکے کہ کونسے حصے شائع کئے جائیں۔

امریکہ میں خود کشی کے واقعات میں 24 فیصد اضافہ، ایک سال میں 42 ہزار لوگوں نے اپنی جان لی

امریکی سینیٹر باب گراہم کا کہنا ہے کہ 9/11 دہشت گردی کے ذمہ دار 19 دہشت گردوں میں سے 15 سعودی شہری تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ان 19 افراد نے اتنی بڑی کارروائی اپنے طور پر کی یا انہیں کوئی حکومت مدد فراہم کررہی تھی۔ ان کا اشارہ سعودی حکومت کی طرف ہے۔

9/11 تحقیقاتی کمیشن میں شامل رہنے والے ٹم رومر کہتے ہیں کہ یہ 28 صفحات ابتدائی پولیس رپورٹ جیسے ہیں، جن میں الزامات، اشارے، گواہان کے بیانات، ہائی جیکروں کے متعلق معلومات اور مختلف لوگوں سے ان کی ملاقاتوں کے شواہد موجود ہیں۔

واضح رہے کہ 9/11 تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ 838 صفحات پر مشتمل تھی، جن میں سے متنازعہ 28 صفحات کی اشاعت اس وقت امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے حکم پر روک دی گئی تھی۔

مزید : بین الاقوامی