رمضان المبارک میں ذخیرہ اندوزی

رمضان المبارک میں ذخیرہ اندوزی
 رمضان المبارک میں ذخیرہ اندوزی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ماہ مقدس رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ دنیا بھر میں فرزندانِ توحید اس کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اس با برکت مہینے کی برکات سمیٹنے کے لئے ہر مسلمان اپنے تئیں خود کو تزکیہ نفس کے لئے تیار کر رہا ہے۔ روزے کی فضیلت تو ہم سب پر عیاں ہے اور ہم بخوبی واقف ہیں کہ نماز فجر سے نماز مغرب تک اپنے آپ کو اشیاء خوردو نوش سے دور رکھ کر اور اللہ کے قریب کر کے اپنی نفسانی خواہشات پر کیسے قابو پانا ہے۔ صبر و استقامت کا جو درس روزے سے ملتا ہے کسی اور عبادت سے میں نہیں۔ ہم میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اس ماہ مقدس میں بھی اپنا مفاد تلاش کرتے ہیں اور اس کے حصول کے لئے اللہ کے تمام احکامات فراموش کرنے سے بھی نہیں کتراتے۔ ایسے لوگ روزہ رکھنے کی تیاریوں کے بجائے اجناس ذخیرہ کرنے کی تیاریاں کرتے ہیں۔ روزہ داروں کے استعمال کی اشیائے خوردو نوش پس انداز کر لی جاتی ہیں اور پھر انہیں اصل قیمت سے زیادہ میں فروخت کیا جاتا ہے۔ خود ہی یہ لوگ کساد بازاری کے ذریعے پہلے کھانے پینے کی چیزیں غائب کر دیتے ہیں پھر رمضان سے چند روز قبل روزہ داروں کی جیبیں خالی کرواتے ہیں۔ اب جبکہ رمضان کے آغاز میں ایک ماہ سے زائد کا عرصہ باقی ہے مارکیٹ سے دال، گھی، چاول، چنا، سبزیاں، پھل، سویاں اور کھجور جیسی اشیائے ضروریہ غائب ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

روزے دار اللہ کے قریب ہونے اور یہ ذخیرہ اندوز اللہ سے دور ہونے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ ضلعی و تحصیل سطح پر مارکیٹ کمیٹیاں اور پرائس کنٹرول میجسٹریٹس موجود ہونے کے باوجود کوئی بھی اس قسم کی خود ساختہ گرانی یا ذخیرہ اندوزی کا سد باب نہیں کرتا۔ اوپن مارکیٹ کا تصور سنا کر جان چھڑوانا معمول بنتا جا رہا ہے اور ہم اپنی ذمہ داریاں صحیح طور پر نبھانے سے قاصر ہیں۔ مبارک ساعتوں کے اس مہینے میں بھی ہم اللہ کے بندوں کو تنگ کرنے سے باز نہیں آتے۔ اور جو اس خلاف وزی کو روکنے پر مامور ہے وہ بھی نا جانے کس بنا پر اپنے فرائض منصبی سے فرار حاصل کر رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ خاموش تماشائی ہے تو صوبائی یا وفاقی حکومت بھی اس طرف کوئی خاص توجہ نہیں دے پا رہی۔ اب تو بلدیاتی نمائندے بھی وجود میں آ چکے ہیں۔ ویسے تو یہ ذمہ داری بھی انہی کی بنتی ہے کہ ذخیرہ اندوزوں یا گراں فروشوں کو قانون کے شکنجنے میں جکڑ دیں لیکن شاید محسوس یوں ہوتا ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی اپنی ذمہ داری نبھانے کو تیار نہیں۔

رمضان المبارک کے حوالے سے ایک اور بھی گزارش ضروری ہے کہ ہمیں اس امر کا ہر لمحے احساس رہنا چاہئے کہ یہ ماہ مقدس ہمیں سادگی اور قناعت پسندی کا درس دیتا ہے سحری اور افطاری میں زیادہ پکوانوں کا استعمال روزے کی اصل مقصدیت سے دور لے جاتا ہے۔ ہمارے پیارے نبیؐ سوکھی روٹی اور کھجور سے روزہ رکھتے اور افطار کیا کرتے تھے لیکن ہم سنت نبویؐ کو چھوڑ کر بڑے بڑے دستر خوان سجانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اگر ہم میں سے ہر شخص اس ماہ مقدس میں سادگی اپنانے کا فیصلہ کر لے اور یہ طے کر لے کہ اصل قیمت سے زائد کوئی اشیائے ضروریہ نہیں خریدنی اور ایک پائی بھی ذخیرہ اندوز کو اضافی نہیں دینی تو ذخیرہ اندوز اپنی موت آپ مر جائیں گے لیکن اس کے لئے پختہ ایمان اور اعتقاد کی ضرورت ہے۔ روزے کا مقدس اللہ کی خوشنودی کا حصول ہونا چاہئے نہ کہ دکھاوا۔ روزہ اللہ کے لئے ہے اور اسی سے اس کی جزا کی امید رکھنی چاہئے۔

مزید : کالم