’جب خواتین لال رنگ پہنتی ہیں تو اس کا مطلب دراصل یہ ہوتا ہے کہ وہ۔۔۔‘ جدید تحقیق میں ایسا متنازعہ ترین انکشاف کہ دنیا بھر کی خواتین نے ہنگامہ برپاکردیا

’جب خواتین لال رنگ پہنتی ہیں تو اس کا مطلب دراصل یہ ہوتا ہے کہ وہ۔۔۔‘ جدید ...
’جب خواتین لال رنگ پہنتی ہیں تو اس کا مطلب دراصل یہ ہوتا ہے کہ وہ۔۔۔‘ جدید تحقیق میں ایسا متنازعہ ترین انکشاف کہ دنیا بھر کی خواتین نے ہنگامہ برپاکردیا

  

برمنگھم (نیوز ڈیسک) خواتین کے سرخ لباس کو قدیم دور سے ہی ان کی تولیدی ذرخیزی سے منسلک کیا جاتا رہا ہے، لیکن ایک جدید تحقیق میں بھی جب کچھ اسی طرح کے نتائج سامنے آئے تو ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ قدیم دور کے خیالات اپنی جگہ، لیکن آج کے زمانے میں سائنسدان اس بات کو ماننے پر تیار نہ تھے کہ خواتین اپنی تولیدی زرخیزی کو ظاہر کرنے کے لئے ان دنوں کے دوران سرخ لباس پہننے کو ترجیح دیتی ہیں۔ 

تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ خواتین جب تولیدی ذرخیزی کے عروج پر ہوتی ہیں تو غیر ارادی طور پر ہی سرخ اور گلابی رنگ کا لباس زیادہ پسند کرتی ہیں۔ اس کی ایک توجیہہ یہ بھی بیان کی گئی کہ کچھ دیگر ممالیہ جانوروں میں بھی مادائیں تولیدی ذرخیزی کے مخصوص دور میں جلد کے مخصوص حصے کی سرخ رنگت سے صنف مخالف کو پیغام دیتی ہیں۔ا گرچہ انسانوں میں اس طرح کا ظاہری رویہ نہیں پایا جاتا لیکن اس کے باوجودخیال کیا گیا کہ خواتین تولیدی ذرخیزی کے مخصوص دنوں میں غیر ارادی طور پر سرخ رنگت کی جانب زیادہ مائل ہوتی ہیں۔

ویب سائٹ سائی پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اس معمے کو حل کرنے کے لئے ایک اور تحقیق کا اہتمام کیا گیا، جس کے نتائج کے مطابق یہ بات درست نہیں ہے کہ خواتین اپنی تولیدی ذرخیزی کا اشارہ دینے کیلئے غیر ارادی طور پر سرخ رنگ کا انتخاب کرتی ہیں۔ اس تحقیق میں 18سے 36 سال کی 164 خواتین میں ہارمونز کی تبدیلیوں کا مطالعہ کیا گیا جبکہ اس کے ساتھ ہی ان کے روز مرہ لباس کے انتخاب کا بھی ریکارڈ رکھا جاتا رہا۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ نتائج سے ثابت ہوا ہے کہ زیادہ ذرخیزی سرنگ رنگ کے لباس کے زیادہ استعمال کے مساوی نہیں اور نہ ہی تولیدی ذرخیزی کے مخصوص ایام میں خواتین کو سرخ لباس پہننے کی جانب زیادہ مائل پایا گیا ہے۔ یہ تحقیقی نتائج سائنسی جریدے ’ہارمونز اینڈ بیہیویئر‘ میں شائع کئے گئے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -