جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کی حقیقت اور عوام

جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کی حقیقت اور عوام
جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کی حقیقت اور عوام

  



ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں ہمارے مخدوم خسرو بختیار کے ساتھ وزیر قانون پنجاب دبنگ سیاست دان رانا ثناء اللہ خان اوریا مقبول جان بھی شریک محفل تھے۔ موضوع بحث یہ تھا کہ عام طور پر ہمیشہ اقتدار میں رہنے والے جناب مخدوم خسرو بختیار جیسے لوگوں کو 4سال 11ماہ بعد مسلم لیگ سے سکولز اور سڑکوں کے منصوبے‘ بھرتیوں‘ مراعات و پروٹوکول لینے کے بعد الیکشن سے ایک ڈیڑھ ماہ قبل صوبہ محاذ بنانے کا خیال کس طرح آگیا اور اس کے لئے سات آٹھ ممبران قومی و صوبائی اسمبلی نے جنوبی پنجاب کے عوام اور ووٹرز کو 70سال کی طرح ایک بار پھر کیوں بیوقوف بنانے کا پروگرام بنالیا؟ اس کا قدر ے نامکمل مگر شافی جواب تو رانا ثناء اللہ خان نے اپنے بیانیہ میں دے دیا کہ ہمارے یہ روایتی مخادیم یہ سب کچھ عوام کو بیوقوف بنانے اور 70سال کے بعد بھی ان کی گردنوں پر مزید سوار رہنے کے لئے نام عوام کے حقوق کا لیتے ہیں اصل مقصد ذاتی مفادات‘ اقتدار‘ شوگر ملز لگانے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ رانا صاحب کا تو یہ بھی دعویٰ تھا کہ حالیہ ’’صوبہ محاذ‘ کسی کے کہنے پر بنا۔ جس میں شرکاء اور مقام سے بھی وہ واقف اور اس بارے ثبوت بھی رکھتے ہیں۔

اس طالب علم نے پروگرام دیکھتے ہوئے یہ محسوس کیا کہ اس طرح کے پروگرامز مکمل ہوم ورک‘ ملکی اور عوامی مفاد میں یوں کرنے چاہئیں کہ عوام کی رہنمائی بھی ہو اور روایتی‘ اقتدار کے رسیا سیاست دانوں کو پرانی ڈگر سے ہٹ کر انہیں مستقبل کے حوالے سے اپنے نئے بیانیہ کو مرتب کرنا چاہیئے۔

اگر ہم مخدوم خسرو بختیار جیسے سیاست دانوں کی سیاست ‘ مخدومیت‘ علاقہ کے عوام کے بنیادی حقوق سے حقیقی دلچسپی لیں تو ملتان سے لے کر بہاولپور ‘ رحیم یارخان اور آگے صوبہ سندھ میں پہلے جاگیردار تھے جو اسمبلیوں میں آکر اقتدار انجوائے کرتے۔ بیوروکریسی سے جائز ‘ ناجائز کام کروانے اور بذریعہ پولیس‘ انتظامیہ دھونس‘ دھاندلی‘ پیری ‘ مریدی اور مخدومیت کے زور پر علاقہ کے عوام کو غلام ابن غلام بنائے رکھنے پر بضد تھے اور ہیں۔

وقت بدلنے کے ساتھ مبینہ جاگیردار ٹولے نے بیوروکریسی سے گٹھ جوڑ کرکے صنعت کاروں سے رشتے داریاں کرلیں یا خود شوگر ملز مافیا بن گئے۔ آج بھی یہ صوبہ کا نعرہ عوام کے لئے کم اور اپنے لئے زیادہ فائدہ مند سمجھتے ہیں۔ آج اپر پنجاب کے طاقتور حکمران مخدوم خسرو بختیار‘ طاہر بشیر ‘ قاسم نون یا کھوسوں کو وزیر بھی نہیں بناتے۔ صوبہ بنا تو گورنری‘ چیف منسٹر ی ‘ منسٹر یان اس قدر ہوں گی سب شرفاء اکاموڈیٹ ہوسکیں گے۔

اگر عوام کے حقوق کی بات کرنا ہے تو پورے ملک میں چھوٹے انتظامی یونٹ بنائے جانے چاہیءں تاکہ عوام کو ان کے گھروں کے نزدیک انصاف ملے۔

ان کے کام ہوں‘ دنیا بھر میں ایسا ہے انتظامی یونٹ بننے سے جنوبی پنجاب کے عوام کو تخت لاہور کے حکمرانوں اور سنگدل بیوروکریسی سے نجات ملے گی۔چھوٹے انتظامی یونٹ یقیناً پورے ملک کے عوام کی ضرورت ہیں۔

مخدوم خسرو بختیار جنہوں نے بہاولپور‘ ملتان اور ڈی جی خان کے جن ممبران اسمبلی کے ساتھ مل کر استعفی دیا ہے اس میں ان کے برادر حقیقی مخدوم ہاشم جواں بخت نے پنجاب اسمبلی سے استعفی نہیں دیا۔

اس میں اللہ جانے کیا مصلحت ہے؟ ( البتہ وہ تحریک لانے میں پیش پیش ضرور ہیں) میاں والی قریشیاں میں مخدوم شہاب الدین سابق وزیر خزانہ (پی پی) مخدوم حمید الدین حاکم سابق فیڈرل منسٹر کے صاحبزادے ہیں اور مخدوم خسرو بختیار کے کزن قومی حلقہ سے ان کے سیاست میں مدمقابل ہیں۔ یہ قومی حلقہ مکمل دیہی اور مذکورہ مخادیم صاحبان کے مریدین کا حلقہ ہے۔

یہاں سے کسی دوسرے کا ممبر منتخب ہونا تقریباً ناممکن ہے۔ اس حلقہ میں آج کل مخدوم خسرو بختیار چوہدری برادران سمیت دیگر بزنس ٹائیکون کے ساتھ شراکت داری میں کئی شوگر ملز کے مالک ہیں۔ آر وائی کے اور لیہ شوگر ملز کے مالکان ہونے کے ناطے موصوف اپنے کزن مخدوم شہاب الدین (پی پی) پر سبقت رکھتے ہیں کہ ایک طرف پنجاب میں سمٹی ہوئی پی پی اور دوسری جانب بوڑھے شہاب الدین کاآبائی زمیندارہ پر گزارا ہے وہ تین چار شوگر ملز مالکان اور نوجوان کزنوں کا مقابلہ محض دل ناتواں کے ساتھ کریں گے۔

ہر دو مخادیم کے بارے میں بصد ادب یہ کہا جاسکتا ہے کہ حلقہ کے عوام کی ترقی و خوشحالی سے زیادہ دلچسپی کبھی نہیں رہی کہ وہ سال میں کبھی کبھار لاہور‘ اسلام آباد اور لندن سے اپنے آبائی حلقہ میاں والی قریشیاں آتے ہیں۔

میاں والی قریشیاں ماشاء اللہ مردم خیز خطہ رہا ہے۔ چھ سو سال قبل (بقول مخدوم خسرو بختیار ساڑھے آٹھ سو سال) محترم مخدوم حمید الدین حاکمؒ مکران سے ہجرت کرکے یہاں تشریف لائے۔

ان کا مزار مؤ مبارک قریبی قصبہ میں واقع ہے۔ جس کے ارد گرد کی ٹوٹی سڑکیں اور مزار شریف کی حالت زار میاں والی قریشیاں کے مخادیم صاحبان کی عدم دلچسپی کی منہ بولتی تصویر ہے۔

مخدوم شہاب الدین (پی پی) بلحاظ فیملی آج کل سجادہ نشین بھی ہیں۔ میاں والی قریشیاں ہی میں مخدوم ارتضی ہاشمی سابق ممبر پنجاب اسمبلی رہے ہیں۔ یہ مخدوم الطاف احمد سابق سینئر منسٹر پنجاب کے صاحبزادے اور مخدوم شہاب الدین کے بھی قریبی عزیز ہیں۔

یہ آج کل صوبائی حلقہ میں مخدوم ہاشم جواں بخت برادر خورد مخدوم فخرو مدمقابل ہونگے اس علاقہ میں حلقے کم اور امیدوار زیادہ ہوتے جارہے ہیں۔ میاں والی قریشیاں میں سابق ایم این اے جمعیت العلمائے پاکستان کے رہنما مخدوم نور محمد ہاشمی کے صاحبزادے مخدوم علی معین ہاشمی بھی امیدوار صوبائی حلقہ ہیں۔

آپ پہلے مسلم لیگ ن کے ضلعی جنرل سیکرٹری ہوا کرتے تھے۔ پھر دل برداشتہ ہوکر مخدوم احمد محمود کے ساتھ پی پی میں چلے گئے۔ حالات کے جبر کے سبب ان کی کسی صوبائی حلقہ سے بظاہر کامیابی مشکل نظر آتی ہے کہ ان کا مقابلہ بھی زمیندارہ بمقابلہ شوگر ملز ہے ان کے دوسرے بھائی مخدوم مزمل الرحمن مسلم لیگ ن میں فوٹو سیشن والا عہدہ لئے بیٹھے ہیں۔

انہی حلقوں میں مخدوم عماد الدین سابق ممبر قومی اسمبلی پی ٹی آئی میں ہیں۔ جبکہ ان کے بھتیجے مخدوم معاذ مشرف بھی پی ٹی آئی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان حالات میں توقع کی جارہی ہے کہ میاں والی قریشیاں ‘ کوٹ سمابہ‘ ظاہر پیر‘ سردار گڑھ‘ رکن پور اور ملحقہ ایک قومی اور دو صوبائی حلقوں میں متعدد امیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گے۔

لیکن علیحدہ صوبہ کی راگنی محض ذاتی مفادات‘ عہدوں اور پروٹوکول حاصل کرنے کے سوا کچھ نہیں جہاں تک علاقہ اور ان کے حلقہ کی پسماندگی کا تعلق ہے اس کے ذمہ دار یہ محترم مخادیم خود ہیں البتہ مخدوم خسروبختیار نے آئی ٹی اور انجینئرنگ یونیورسٹی کے چیئرمین اسٹیرنگ کمیٹی گورنمنٹ خواجہ فرید کالج کی طرح یونیورسٹی کا نام بھی خواجہ فرید کے نام سے منسوب کرادیا جس کی وجہ سے دونوں ہم نام اداروں کی ڈاک ادھر ادھر ہوجاتی ہے‘ مخدوم صاحب نے اے ٹو زیڈ یونیورسٹی میں بھرتیاں بھی مبینہ طور پر اپنے ووٹرز کی کروائی ہیں۔ البتہ انہیں منسٹر نہ بنانے کا رنج ہے جس کا ردعمل سامنے آیا ہے تاہم اسمبلی میں موصوف نے پورے 4 سال 11 ماہ ایک لفظ نہیں بولا جو ان کی شاندار سیاسی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...