کیا مسلمانوں کا اس دنیا پر ایمان نہیں ہے؟

کیا مسلمانوں کا اس دنیا پر ایمان نہیں ہے؟
کیا مسلمانوں کا اس دنیا پر ایمان نہیں ہے؟

  



Goh Chok Tong سنگاپور کے دوسرے وزیراعظم تھے وہ اٹھائیس نومبر 1990ء سے بارہ اگست 2004ء تک سنگاپور کے وزیراعظم رہے اور انہی کے دور میں سنگاپور نے بے مثال ترقی کی اور دنیا کے ٹاپ ٹین ممالک میں شامل ہوا۔

لیکن پھر یہ خود ہی وزرات عظمی سے الگ ہوئے اور ملک کے سنیئر وزیر بن گئے ازاں بعد صرف ممبر پارلیمنٹ بھی رہے لیکن ایسا سیاسی کلچر وطن عزیز میں دور دوربھی دکھائی نہیں دیتا کہ کوئی چودہ سال وزیراعظم رہے ملک کو ترقی کی معراج تک لے جائے اور پھر وزارت عظمی چھوڑ کر کسی دوسرے کی حکومت میں وزرات لے یا صرف ممبر پارلیمنٹ پر اکتفا کر لے۔

ایک واقعہ پیش کرنا چاہ رہا ہوں۔ یہ بات1998ء نوے کی ہے جب نواز شریف صاحب پاکستان کے وزیراعظم تھے اور وہ سنگاپور کے دورے پرگئے وہاں کئی ممالک کے سربراہان بھی موجود تھے تو میاں صاحب نے سنگاپور کے اس وقت کے وزیراعظم سے دریافت کیا کہ انہوں نے مختصر وقت میں جو بے مثال ترقی کی ہے، کیا پاکستان کی بھی کچھ مدد کر سکتے ہیں مطلب پاکستان کو بھی اس ترقی کا راز بتا دیں تاکہ ہمارا ملک بھی اپنے پاوں پر کھڑا ہو سکے۔ اس پر سنگاپور کے وزیراعظم نے جواب دیا کہ آپ لوگوں کے لیے یہ ممکن نہیں یعنی پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔

نواز شریف صاحب کو اس بات پر حیرانگی ہوئی اور پوچھا کہ پاکستان میں ایسی کونسی کمزوری ہے تو اس نے جواب دیا کہ مسلمانوں کا اس دنیا پر ایمان ہی نہیں وہ اس دنیا کو عارضی ٹھکانہ سمجھتے ہیں اور اس دنیاوی زندگی کو چار روزہ زندگی سمجھتے ہیں مسلمانوں کے نزدیک دائمی زندگی اگلے جہاں میں ہے۔ لہذا وہ کیوں اس دنیا کے لیے کچھ کریں گے؟

یہ سچا واقعہ ہے اور یہ بہت بار لکھا بھی جا چکا ہے۔ ہم سب اس بات پر متفق بھی ہیں کہ مسلمان اسی سوچ کے حامل ہیں کیونکہ ان کے مذہبی قائدین انہیں یہی درس دیتے ہیں۔ میں کچھ عرصے سے سوچ رہا ہوں کہ کیا یہ دنیا واقعی چند روزہ ہے اور ہماری زندگی بھی کچھ ساعتوں کی مہمان ہے؟لیکن میرا جواب نفی میں ہے۔

یہ دنیا اتنی عارضی ہے نہ ہماری زندگی اتنی چھوٹی۔ یہ دنیا اور ہم روز قیامت تک رہیں گے اور قیامت کب آئے گی اس کی اللہ کے سوا کسی کو کوئی خبر نہیں ہے انسانی تاریخ بہت پرانی ہے قیامت پر ایمان اس دنیا کے پہلے شخص کو بھی تھا اور بحثیت ایک مسلمان ہم سب کا بھی یہی ایمان ہے کہ یہ دنیا فانی ہے اور قیامت برپا ہوگی ہے لیکن کب؟ اس کا علم صرف اللہ تعالی کو ہے۔

تو پھر ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے قیامت کا انتظار کریں یا اس دنیا کو مثال جنت بنانے میں اپنا کردار ادا کریں، اگر تو ہم صرف اپنے لیے جیتے ہیں تو پھر واقعی ہماری زندگی بہت مختصر ہے لیکن اگر ہم انسان ہونے کے ناطے حق انسانیت ادا کرنا چاہیں تو پھر آنے والی نسلوں کی منصوبہ بندی کو سامنے رکھ کر سوچنا ہوگا۔

جو قومیں، افراد اور ادارے سو سال کی منصوبہ بندی کرتے ہیں کیا انہیں یہ یقین نہیں ہوتا کہ انہوں نے تو سو سال کا نصف بھی زندہ نہیں رہنا؟ تو پھر انہیں کیا پڑی ہے کہ اپنا آج قربان کریں۔ قائد اعظم محمد علی جناح بھی یقیناًاس بات سے واقف ہوں گے کہ وہ پاکستان بننے کے بعد زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہیں گے۔

پھر بھی انہوں نے پوری جانفشانی سے پاکستان بنانے کے لیے دن رات کام کیا۔ کہتے ہیں کہ بندہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں اس درخت کی چھاوں میں نہیں بیٹھ پاؤں گا درخت لگائے تب معاشرے ترقی کرتے ہیں۔ ہم ایک سست قوم ہیں اور پکے پکائے پھل کے جھولی میں آنے کے منتظر رہتے ہیں، کرشموں کی امید رکھتے ہیں، ہر کام میں جلدی کرتے ہیں اور اس کے لیے ناجائز ذرائع یا طریقے استعمال کرتے ہیں۔ اپنی باری کا انتظار نہیں کرتے۔

اسی طرح حکومتی سطح سے خاندان تک مستقبل کی منصوبہ بندی کی کوئی عادت نہیں ہے۔ جب تک کسی طرف سے کوئی چوٹ سر میں نہ لگے ،سوچنے کی نوبت نہیں آتی۔

پاکستان میں جتنے بھی بڑے منصوبے حکومت کی طرف سے شروع کئے جاتے ہیں کبھی وقت پر مکمل ہوئے ہیں نہ بجٹ میں رہتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں بجلی پیدا کرنیکا نیلم جہلم منصوبہ خبروں میں گرم رہا ہے اور ان خبروں کے مطابق 34 ارب سے شروع کیے گئے اس منصوبے کی لاگت پانچ سو ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔

اس سے پہلے نندی پور بجلی منصوبہ لمبے عرصے تک میڈیا کی زینت بنا رہا تھا۔ یہ منصوبہ بھی 22 ارب روپے سے شروع ہو کر 300 ارب سے تجاوز کر گیا اور ابھی تک کسی کو یہ خبر نہیں کہ اس منصوبے سے کچھ حاصل ہوا یا نہیں۔

بجلی کے علاوہ دوسرے لا تعداد ایسے منصوبے جو کسی نہ کسی وجہ سے ناکام ہوئے جیسا کہ ریکوڈک کا منصوبہ جب سامنے آیا تھا تو ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو گئے ہیں ہمارے ملک سے بہت بڑی تعداد میں سونے اور دوسری دھاتوں کی دریافت ہو گئی ہے غیر ملکی کمپنیوں کو ٹھیکے دیئے گئے انہوں نے سونے کی تلاش کا کام شروع کی ہی کیا تھا کہ سپریم کورٹ نے کیس لے لیا اور اس وقت کے چیف جسٹس چوہدری افتخار صاحب کی قیادت میں اس کیس کی سماعت کرنے والے بنچ نے کام رکوا دیا اور غیر ملکی کمپنیوں کے ٹھیکے منسوخ کروا دیئے۔ اس کے بعد کیا ہوا، ان غیر ملکی کمپنیوں نے بین الاقوامی عدالت میں پاکستان پر مقدمہ دائر کروایا جس کا اختتام پاکستان کو بھاری جرمانے پر ہوا۔

انگلینڈ کے ایک گروپ نے پاکستان کا دورہ کرنے کے بعد اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ پاکستان کے منصوبہ سازوں نے باورچی خانے کے اندر غسل خانہ بنا رکھا ہے وہ ایسے کہ پنجاب کی بہترین زرعی زمین فیصل آباد، ساہیوال، لاہور، قصور، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ کے علاقوں میں ہے جہاں انڈسٹری لگا دی گئی ہے اور اس علاقے میں زمین کے اندر پینے کے پانی کی سطح زیادہ گہری نہیں جس کی وجہ سے صنعتوں کا زہریلا پانی آسانی سے پینے کے پانی میں شامل ہو جاتا ہے جس سے بیماریاں پھیلتی ہیں۔

اور دوسری طرف ہم زرعی پیداوار کا نقصان کر رہے ہیں۔ جبکہ جہلم سے راولپنڈی تک پہاڑی علاقوں میں جہاں زیر زمین پانی کی سطح بہت زیادہ گہری ہے اور اس علاقے سے کوئی قابل ذکر زرعی پیداوار بھی حاصل نہیں ہو رہی۔ یہ پورا علاقہ بہترین صنعتی یونٹ بن سکتا تھا۔

لیکن ہمارے منصوبہ سازوں کا کمال دیکھیئے کہ انہوں نے تمام انڈسٹریز زرعی علاقوں میں لگوا دی۔ اور جہلم سے راولپنڈی تک کا علاقہ بیکار پڑا ہوا ہے۔ پرویز مشرف صاحب کے دور میں ملک کے طول و عرض پر ہر دو کلو میٹر میں سی این جی اسٹیشنز کی تنصیب کر دی گئی اور اپنے سفارشیوں کو دھڑا دھڑ سی این جی کے لائسنس جاری کر دیئے گئے اور گاڑی مالکان نے اندھا دھند اپنی گاڑیوں میں گیس سیلنڈر رکھوا لیے۔

لیکن اس منصوبہ کے ذمے داران نے ملک میں گیس کے ذخائر کی گنجائش کو نظرانداز کر دیا جس کی وجہ سے کچھ ہی دیر بعد جگہ جگہ گاڑیوں کی قطاریں کھڑی ہو کر گیس ملنے کا گھنٹوں انتظار کرنے لگیں۔ کرتے نظر آتے تھے اور ملک کی گیس پر چلنے والی صنعتوں کا کاروبار بھی ٹھپ ہو گیا۔ گھریلو چولہے بھی بند ہونا شروع ہو گئے تھے۔

کچھ عرصہ پہلے پنجاب پولیس کی وردی تبدیل کی گئی اب جو رنگ پولیس وردی کا ہے وہ دیکھ کر (اگر نظر آجائے تو) کسی کارخانے میں کام کرنے والے یا ورکشاپ میں کام کرنے والے کا احساس ہوتا ہے۔

میں نے بہت زیادہ ممالک کا سفر کیا ہے لیکن ایسی وردی کسی ملک کی پولیس کی نہیں دیکھی، یہ کس کی پسند تھی یہ تو پتا نہیں لیکن ایک انتہائی معتبر ذریعے کے مطابق فیصل آباد کا کوئی صنعتکار طالبان اور دوسرے جنگجو گروپوں کو اس کپڑے سے وردیاں بنا کر دیتا تھا اور جب طالبان کم ہو گئے اور وردیوں کی مانگ نہ رہی تو اس کے پاس وافر مقدار میں یہ کپڑا بچا پڑا تھا اس نے پنجاب حکومت کو خوش کیا اور پولیس وردی تبدیل ہو گئی۔

اب یہ خبر گردش میں ہے کہ ایک بار پھر سے پنجاب پولیس کی وردی تبدیل کی جارہی ہے۔۔۔آخر ہم سوچتے کیوں نہیں؟ ہمارا سب سے بڑا مسلہ سوچ کا ہی ہے۔ شاید سنگاپور کے وزیراعظم نے درست ہی کہا تھا کہ مسلمانوں میں کا اس دنیا پر ایمان ہی نہیں ہے۔۔۔ورنہ یہ بھی اگلے چند سال کی منصوبہ بندی کر لیا کریں۔

مزید : رائے /کالم


loading...