عمران خان کٹہرے میں

عمران خان کٹہرے میں
عمران خان کٹہرے میں

  



اے این پی کے لیڈر زاہد خان نے عمران خان سے سوال کیا ہے کہ عمران خان بتائیں انہوں نے کس کے کہنے پرصادق سنجرانی کو ووٹ دئیے۔ اسی طرح سراج الحق نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے کہا کہ انہیں اوپر سے حکم تھا کہ سنجرانی کو ووٹ دینے ہیں۔ اس طرح کے سوال ملک کا بچہ بچہ ان سے پوچھ رہا ہے۔ وہ نوجوان پوچھ رہے ہیں جنہیں انہوں نے تبدیلی کا نعرہ لگا کر ورغلانے کی کوشش کی ہے۔

وہ ووٹرز پوچھ رہے ہیں جن کو وہ کئی برسوں سے دل لبھانے والے نعرے لگا کر اندھیرے میں رکھتے چلے آ رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف نے بلوچستان میں سنجرانی کو سپورٹ کر کے اپنے اس نظریے یا نعرے کو خاک میں ملا دیا ہے، جس کا وہ ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔

تحریک انصاف نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اصولوں اور ضابطوں کو نہیں مانتی،بلکہ اس کے نزدیک سیاسی فائدے اٹھانا ہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

انہوں نے اس زرداری کے ساتھ الحاق کر لیا جس پر عمران خان نے دنیا کا ہر الزام لگایا اور جس کا وہ نام بھی سننا پسند نہ کرتے تھے اسی کے ساتھ انہوں نے نہ صرف اتحاد کیا،بلکہ مشترکہ مفادات کے حصول کے لئے اپنے نظریات کو بھی قربان کیا۔

ویسے ان کے نظریات تھے کیا؟ اگر نظریات صرف نعروں اور بیانات کی حد تک برقرار رکھنے تھے تو یہ کام تو اور بھی سیاسی جماعتیں کر رہی ہیں۔ اگر وہ سمجھتے تھے کہ وہ تبدیلی کا نعرہ لگا کر عوام کو ایک عرصے تک بے وقوف بناتے رہیں گے تو اس میں بھی انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے، کیونکہ عوام اب ان سے سول کرنے لگے ہیں کہ انہوں نے اگر اپنے اصولوں کا سودا ہی کرنا تھا تو پھر عوام کو سہانے خواب کیوں دکھائے تھے۔

کیوں چودھری سرور کو سینیٹ کا ٹکٹ دیا تھا یہ جانتے بوجھتے کہ ان کے پاس پنجاب میں تیس سے زیادہ ارکان کی حمایت حاصل نہیں۔ یہ کوئی معمہ نہیں جو حل نہ ہو سکے کہ چودھری سرور کو تیس کے علاوہ جو ووٹ ملے وہ کہاں سے آئے اور ان کو حاصل کرنے کے لئے کیا جتن کئے گئے اور کیا قیمت ادا کی گئی۔

جو اصول ضابطے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے بقول انہیں دوسری سیاسی جماعتوں کے دوسرے لیڈران اور سیاست دانوں میں دکھائی نہیں دیتے وہ ان کی اپنی جماعت اپنی ذات میں بھی موجود نہیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ چودھری سرور کو ٹکٹ دیتے وقت انہوں نے ان حقائق کو یکسر نظر انداز کر دیا جن کی بدولت وہ خود کو بہت بڑا سیاسی رہنما قرار دیتے ہیں، اگر چند ووٹروں نے اپنے ضمیر کی قیمت لگائی تو وہ چودھری سرور کے کہنے پر ان کے مفادات کو پورا کرنے کے لئے لگائی۔اس پر عمران خان کی خاموشی کا کیامطلب ہے؟ وہ سمجھتے ہیں کہ ووٹرز عوام اور میڈیا ان کی اس چالاکی کو بھول جائے گا تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔

الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے دور میں کچھ بھی بھولنے والا نہیں۔ تاریخ میں تحریک انصاف کی یہ چال سیاست کی دلدل میں مفادات کے حصول کے لئے کھیلی گئی، جس کا نقصان انہیں آنے والے انتخابات میں اٹھانا پڑے گا۔

وہ زمانے لد گئے جب سیاست دان ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگا کر عوام کو ایک دوسرے کے خلاف بد ظن کر دیتے تھے۔ آج اگر کسی سیاست دان کو عوام کی نظروں میں سرخرو ہونا ہے تو اسے دوسروں کے عیب تلاش کر کے عوام کے سامنے رکھنے کی بجائے اپنی خوبیوں کو سامنے لانا ہو گا۔ حقیقی سیاست دان دوسروں کی خامیوں پر نہیں، بلکہ اپنی ساکھ اور اخلاقی کردار پر کامیابی کے راستے تلاش کرتے ہیں۔

عمران خان کا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں اپنے سوا ہر دوسرا شخص کرپٹ اور بد اخلاق نظر آتا ہے۔ ان کے نزدیک ہر وہ شخص جو اس ملک میں حکومت کر چکا ہے وہ کسی نہ کسی طور پر کرپشن میں ملوث رہا ہے۔ اس تھیسز کو دیکھیں تو پھر ان کی جماعت میں دیگر جماعتوں کے جو لیڈر اور سیاست دان داخل ہو چکے ہیں ان کا ماضی تو انتہائی داغ دار ہے۔

مَیں کس کس کی بات کروں۔ وہ سیاسی ٹولہ آج بھی ان کے اردگرد موجود ہے، جس کے ذریعے وہ تبدیلی لانے کے خواہاں ہیں۔ اس میں ایسے ایسے لوگ موجود ہیں جو چار چار سیاسی جماعتیں تبدیل کر چکے ہیں صرف اس لئے کہ انہیں اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہے نہ کہ عوام کی خدمت سے کوئی سروکار ہے۔فردوس عاشق اعوان سے لے کر مصطفی کھر تک ان کے پاس ایسے سیاست دانوں کی فوج ہے جو ان کی سیاسی جماعت کا تو بیڑہ غرق کرے گی ‘ اگر خدانخواستہ اقتدار میں آگئے تو خیبرپختونخوا کی طرح ملک کے دیگر حصوں اور اداروں کا بھی حشر نشر کر دیں گے۔

ویسے بھی،جس تبدیلی کے نعرے تحریک انصاف نے آج تک لگائے ان کا پوسٹ مارٹم چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ایک ہی دورہ میں کر دیا اور انہیں بھی وہ تبدیلی دکھائی نہ دی جس کی ان کے بقول انہوں نے بڑی شہرت سُن رکھی تھی۔ اگر ملک کا چیف جسٹس اس صوبائی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے تو پھر یہ جماعت کس کو اندھیروں میں رکھنا چاہتی ہے۔

تحریک انصاف کے سربراہ میں اگر ہمت ہے تو اس بات کا جواب دیں کہ چودھری سرور کو 30 ووٹوں کے علاوہ جو 14 ووٹ ملے وہ کس کے تھے کہاں سے آئے کیوں دئیے گئے اور اس کی کیا قیمت ادا کرنا پڑی ۔ عمران خان کو جب بھی کسی پارٹی میں کوئی سکینڈل نظر آتا ہے تو وہ فوراً اس کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں،بلکہ تحقیقات سے قبل ہی خود اس کی کردار کشی کرنا اور سزا سنانا شروع کر دیتے ہیں۔

اب ان کی اپنی سیاسی جماعت میں چودھری سرور کی جیت کی شکل میں اتنا بڑا سکینڈل سامنے آیا ہے تو کیا وہ اس کی آزادانہ تحقیقات کے لئے کوئی کمیشن بنائیں گے۔ کوئی کمیٹی یا کوئی ٹاسک فورس ترتیب دیں گے جو اس بات کا کھوج لگا سکے کہ چودھری سرور کو14 ووٹ فالتو مل گئے اور اس میں کسی قسم کی ہارس ٹریڈنگ شامل نہ تھی۔

وہ اس بات کا بھی جواب دیں کہ انہوں نے بلوچستان سے صادق سنجرانی کو سپیکر قومی اسمبلی منتخب کرانے کے لئے پیپلزپارٹی سے کیا ڈیل کی۔

اس ڈیل سے اگر وہ پردہ نہیں اٹھائیں گے تو میڈیا اپنا کام کر ہی رہا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس ڈیل میں آئندہ الیکشن میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ بھی شامل تھی اور اس اتحاد کو خفیہ رکھا جا رہا ہے، کیونکہ اس راز سے پردہ اٹھ گیا تو تحریک انصاف کو اس کا الیکشن میں بہت زیادہ نقصان ہو گا اور وہ ووٹرز اور سپورٹرز جن کو اصولوں کے لیکچرز سنا ئے گئے وہ سارے ان سے بد دل ہو جائیں گے اِس لئے اس ڈیل کو فی الحال خفیہ رکھا جا رہا ہے، جو نہ صرف سیاسی بد دیانتی ہے بلکہ جمہوریت کے لئے بھی نقصان دہ امر ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ خود عمران خان کی پارٹی کے بیس ارکان نے ہارس ٹریڈنگ کی اور جن کو عمران خان نے پارٹی سے نکالنے کا اعلان کیا ہے تو کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عمران خان آج تک اپنی جماعت کے ارکان اور ممبرز کی تربیت بھی نہ کر سکے اور کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ان کے اردگرد بھی سیاسی خوشامدوں اور مفاد پرستوں کا وہ کرپٹ ٹولہ موجود ہے، جن کی وہ خود سرپرستی کرتے آ رہے ہیں اور جب انہیں کسی کو ٹکٹ نہیں دینا ہوتا تو وہ اس پر ہارس ٹریڈنگ کا الزام لگا کر اسے پارٹی سے نکال دیتے ہیں۔ کیا اسے تبدیلی کی سیاست کہا جا سکتا ہے؟

مزید : رائے /کالم


loading...