زہریلے پانی سے سبزیاں اُگانے کے خلاف مہم

زہریلے پانی سے سبزیاں اُگانے کے خلاف مہم

  



ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ پورے صوبے میں زہریلے اور آلودہ پانی سے اُگائی جانے والی سبزیوں کو تلف کرنے کے لئے باقاعدہ مہم شروع کر دی گئی ہے۔مختلف شہروں اور قصبوں میں مجموعی طور پر آٹھ ہزار کنال اراضی پر سبزیوں کی چیکنگ کی گئی۔صرف لاہور اور گردو نواح میں تین ہزار کنال سے زیادہ اراضی پر خصوصی چیکنگ کر کے متاثرہ سبزیوں کو تلف کیا گیا ہے۔پنجاب فوڈ اتھارٹی نے راولپنڈی، ملتان، لودھراں،راجن پور، وہاڑی، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان اور دیگر علاقوں میں زہریلے اور آلودہ پانی سے سبزیاں اُگانے کی شکایات موصول ہونے پربیک وقت کارروائی کی ہے، باقاعدہ ہل چلا کر سبزیاں تلف کر دی گئیں۔بتایا گیا ہے کہ تمام متاثرہ علاقوں میں زمینداروں اور مزارعین کو وارننگ دیتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ آئندہ زہریلے اور آلودہ پانی سے سبزیاں اُگانے والوں کے خلاف باقاعدہ مقدمات درج کئے جائیں گے۔ لاہور میں اِس سے پہلے تین مرتبہ اُگائی جانے والی سبزیاں تلف کی جا چکی ہیں۔زہریلا اور آلودہ پانی مختلف فیکٹریوں کے سیوریج سسٹم سے نالوں کی صورت میں کھیتوں تک پہنچتا ہے،جس میں انتہائی نقصان دہ کیمیکلز شامل ہوتے ہیں،جبکہ گزشتہ ڈیڑھ دو سال سے مختلف آبادیوں کے سیوریج سسٹم کا پانی بھی سبزیاں اُگانے کے لئے استعمال ہونے کی شکایات مل رہی ہیں، جس پر سروے اور چیکنگ کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ گوبھی،کدو، پالک، ٹماٹر، پیاز، ہری مرچ، لوکی اور دیگر سبزیوں کے لئے زہریلااور آلودہ پانی استعمال ہوتا ہے۔چنانچہ پورے صوبے میں ایسی سبزیوں کی کاشت روکنے اور اُگائی جانے والی سبزیوں کو تلف کرنے کا آغاز کیا گیا ہے۔ گزشتہ سال بعض ٹی وی چینلز اور اخبارات میں ایسی خبروں کو شامل کیا گیا تھا کہ بعض سرحدی علاقوں میں بھارت سے بعض نالوں سے انتہائی خطرناک زہریلا اور آلودہ پانی مستقل طور پر آتا ہے۔اس میں کیمیکلز والی فیکٹریوں کا پانی زیادہ مقدار میں ہوتا ہے۔یہ پانی پینے والے پرندے مختلف مقامات پر مردہ بھی پائے گئے۔المیہ یہ ہے کہ متعلقہ محکموں کے اہلکاروں کی طرف سے علاقے کے زمینداروں کو محض خبردار کرنے پر اکتفا کیا گیا چنانچہ بعض کاشتکار آلودہ پانی استعمال کرتے چلے آ رہے ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے زہرہلے اور آلودہ پانی کے استعمال کو روکنے کے لئے باقاعدہ مہم شروع کر دی ہے اور توقع کرنی چاہئے کہ زہریلی سبزیاں اور دالیں کاشت کرنے کا سلسلہ رُک جائے گا۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسے زہریلے اور آلودہ پانی سے اُگائی جانے والی سبزیاں وغیرہ استعمال کرنے سے مختلف بیماریاں پھیل سکتی ہیں، جن میں ہیپاٹائٹس اور کینسر جیسی موذی بیماریاں سرفہرست ہیں۔ضرورت اِس بات کی ہے کہ یہ مہم مستقل طور پر جاری رکھی جائے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...