امیدواروں کی سازش یا؟

امیدواروں کی سازش یا؟
امیدواروں کی سازش یا؟

  



ملک میں مارشل لاء یا جوڈیشل مارشل لاء کی غزل سب سے پہلے مخدوم جاوید ہاشمی نے چھیڑی، جواباً اُن کا مذاق اڑایا گیا اور کہا گیا کہ ہاشمی مسلم لیگ(ن) کا ایجنٹ ہے۔۔۔ مخدوم جاوید ہاشمی مسلم لیگ(ن) کے بڑے لیڈر تھے،جماعت میں اُن کا احترام تھا، کارکن اُنہیں دیکھ کے باغی باغی کے نعرے لگاتے تھے۔

مخدوم جاوید ہاشمی اُس وقت نواز شریف کو ایک نظریاتی آدمی سمجھتے تھے،مگر اچانک اُنہیں معلوم ہوا کہ نواز شریف کے مقابلے میں عمران خان بڑے نظریاتی ہیں سو وہ اپنی اِس سوچ کے ساتھ عمران خان سے جا ملے،مخدوم کو تحریک انصاف میں جانے سے روکنے کے لئے مسلم لیگ(ن) کی قیادت نے بہت ہاتھ پاؤں مارے، کہا جاتا ہے کہ سعد رفیق جاوید ہاشمی کے گھر گئے اور بقول شخصے اُن کے پاؤں تک پکڑے کہ آپ اپنا فیصلہ تبدیل کریں، مگر جاوید ہاشمی نے تحریک انصاف میں جانے کا فیصلہ تبدیل نہ کیا۔

عمران خان نے جاوید ہاشمی کی شمولیت پر انہیں زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مخدوم صاحب سسٹم کے باغی اور نظریاتی شخص ہیں، ان کی شمولیت سے پارٹی کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔

کچھ دِنوں بعد عمران خان نے دھرنے کا اعلان کیا تو جاوید ہاشمی بھی سب سے نمایاں نظر آئے وہ راستے بھر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے جب اسلام آباد پہنچے تو دھرنے کے دوران ہی جاوید ہاشمی اور عمران خان میں اختلاف پیدا ہو گئے، جاوید ہاشمی کو دھرنے پر کوئی اعتراض نہیں تھا البتہ وہ پارلیمینٹ ہاؤس، وزیراعظم ہاؤس، پی ٹی وی اور دیگر سرکاری اداروں پر کارکنوں کے قبضہ کے خلاف تھے، وہ دھرنے کو قائم رکھنا چاہتے تھے، مگر امن و امان کے حوالے سے اور کسی بھی سطح پر تصادم کے خلاف تھے، ان کا خیال تھا کہ اس طرح کے حالات پیدا کر کے حکومت کو نہیں گرایا جا سکتا، انہوں نے جب عمران خان کو روکنے کی کوشش کی تو عمران خان نے کہا فکر کی کوئی بات نہیں ’’وہ‘‘ آ جائیں گے، جواباً بقول ہاشمی مَیں نے کہا یہ ’’مارشل لاء‘‘ ہے، میرے اِس سوال پر عمران خان نے کہا نہیں، ’’نئے جج‘‘ آئیں گے، جس پر بقول ہاشمی ،مَیں نے کہا تو پھر مَیں آپ کے ساتھ نہیں چل سکتا۔

یہ وہ مکاملہ ہے جو جاوید ہاشمی اور عمران خان کے درمیان ہوا اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ جاوید ہاشمی دھرنے کے کنٹینر سے نیچے اُتر آئے، لوگوں نے یہ بھی دیکھا کہ شیخ رشید نے عمران خان کو اشارے سے کہا، ’’جاتا ہے تو جانے دو‘‘۔

جاوید ہاشمی کے تحریک انصاف چھوڑنے کے بعد شاہ محمود قریشی نے کہا، جاوید ہاشمی باغی نہیں ’’داغی‘‘ ہے، مگر جاوید ہاشمی ابھی تک اپنی بات پر قائم ہیں کہ انہوں نے عمران خان کی زبانی جو سُنا تھا اسی طرح ہو رہا ہے اور یہ کہ عمران خان ایک نظریاتی سیاست دان نہیں ہے اور یہ بھی ’’ڈکٹیشن‘‘ کے ساتھ آگے بڑھتا ہے، جاوید ہاشمی کے اِس بیان کی تائید اب جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے یہ کہہ کر کر دی ہے سینیٹ میں مجھے پی پی پی کے امیدوار کو چیئرمین شپ کے لئے ووٹ دینے پر اعتراض تھا،مگر عمران خان نے مجھے کہا ’’اوپر سے آرڈر‘‘ ہے۔

بڑے بڑے ڈرائنگ روموں کے ٹھنڈے کمروں سے لے کر چھپڑ نما ہوٹلوں کے بنچوں پر بھی یہ بات عام کی جاتی ہے کہ ملک میں حکومت کے ’’اوپر‘‘ کوئی حکومت ضرور ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ چیف جسٹس نے بھی گزشتہ روز مارشل لاء یا جوڈیشل مارشل لاء کے حوالے سے بہت جذباتی گفتگو کی، انہوں نے بہت دلیری کے ساتھ کہا کون لگائے گا مارشل لاء، کہاں ہے مارشل لاء اور اگر کسی نے مارشل لاء لگایا تو ہم سب جج گھروں کو چلے جائیں گے۔

جنابِ چیف جسٹس نے یہ بیان ایسے نہیں دیا، انہیں معلوم ہے کہ لوگوں کے درمیان یہ بحث چل رہی ہے کہ ملک میں کوئی ’’اور‘‘ حکومت کر رہا ہے،بلکہ بعض منہ پھٹ تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ ملک میں ’’عدالت‘‘ کی حکومت ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک میں بعض ایسے ’’نظارے‘‘ نظر آئے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جو حکومت نظر آ رہی ہے وہ صرف وقت پاس کر رہی ہے۔حقیقی حکومت کوئی اور ہے، جس کے بظاہر چہرے نظر نہیں آتے، مگر موجود ہے۔

یہ بحث ملک میں عام ہے، مگر بعض ایسے تصویری منظر بھی نظر آتے ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ گڑ بڑ ضرور ہے یا پھر کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو بعض معزز اداروں کو بدنام کرتے ہوئے اس تاثر کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان اس وقت سول حکومت کے تحت نہیں ہے؟ اور تو اور مجھ جیسا شخص جو نہیں سمجھتا کہ ملک میں کوئی دوسرا ہاتھ حکومت کر رہا ہے، جب ایسے منظر دیکھتا ہے تو پھر سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور کون ہیں یہ لوگ؟

مَیں نے گزشتہ روز فیس بُک پر ایک تعارفی اشتہار دیکھا جو کہ ایک صاحب چودھری ناصر چیمہ اور ناصر حسین مہر کی تصویروں کے ساتھ دکھایا گیا ہے، یہ دونوں صاحب بالترتیب ایم این اے کے 80 اور دوسرے پی پی پی حلقہ83 سے تحریک انصاف کے ان شاء اللہ ایم این اے کے تحت امیدوار ہیں دونوں نے اپنے پوسٹروں پر چیف آف آرمی سٹاف اور چیف جسٹس آف پاکستان کی تصویریں لگائی ہوئی ہیں، جبکہ پوسٹر پر عمران خان، علیم خان اور چودھری سرور کی تصویریں بھی نمایاں نظر آتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ان دونوں سیاسی لوگوں نے کس سیاسی اخلاقی ضابطے کے تحت ملک کے دو معزز اداروں کے سربراہوں کے نام کو اپنے حق میں استعمال کیا ہے۔

درحقیقت ایسے ہی لوگ اداروں کو بدنام کرتے ہیں اور اپنی حرکتوں سے ملک بھر میں شکوک شبہات کو فروغ دیتے ہیں، سو جب ایک عام آدمی ایسے پوسٹر دیکھتا ہے تو پھر ملک بھر میں مارشل لاء یا جوڈیشل مارشل لاء کی موجودگی پر تبصرے ہوتے ہیں اور بحث و مباحثے شروع ہو جاتے ہیں، سو ملک کے دونوں بڑے ادارے کے ذمہ داران کو چاہئے کہ وہ ایسے لوگوں پر نگاہ رکھیں جو لوگ ان کے اداروں کے سربراہوں کو اپنی سیاست کے لئے استعمال کرتے ہوئے ان کے وقار کے خلاف کام کرتے ہیں، اگر یہ لوگ یونہی پوسٹر بازی کرتے رہے تو پھر یہی سمجھا جائے گا کہ ملک میں کچھ نہ کچھ ہے ضرور۔ ایک شعر بھی پڑھ لیجئے:

دوست سب زردار کے سائے میں ہیں

ہم دل خوددار کے سائے میں ہیں

مزید : رائے /کالم


loading...