قوم پرست سیاست دان اور جمعیت کی سیاست

قوم پرست سیاست دان اور جمعیت کی سیاست
قوم پرست سیاست دان اور جمعیت کی سیاست

  



جمعیت علماء اسلام(ف) کے سیکرٹری جنرل عبدالغفور حیدری اور دیگر قائدین مسلسل بیانات دیئے چلے جا رہے ہیں اور قوم پرستوں پر حملہ آور ہیں۔ جمعیت یہ روش اس وقت اختیار کرتی ہے جب انتخابات کا مرحلہ نزدیک آ رہا ہوتا ہے اور ہر وہ حربہ استعمال کرتی ہے جس کی اس کو ضرورت ہوتی ہے ، فتوے بازی کا طوفان ہو یا سیاسی گرد و غبار اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ 1970ء میں قوم پرستوں کے خلاف کفر کے فتوے جاری کئے۔

سوشلزم کے خلاف فتوے تاریخ کا حصہ ہیں۔ روسی ایجنٹوں کو ووٹ دینا کفر ٹھہرا۔ یہ الزام وہ قوم پرستوں پر لگاتے تھے۔ ایک طرف ان کی جنگ قوم پرستوں کے خلاف تھی جن کو وہ روسی ایجنٹ کہتے تھے پورا بلوچستان ان کے اشتعال انگیز اور نفرت سے بھرپور نعروں سے گونج رہا تھا اس طوفان میں انہوں نے انتخابات میں کچھ کامیابی حاصل کی۔۔۔وہ کھیل 1970ء کے انتخابات کے موقع پر شروع کیا گیا اور جب اقتدار کی جھلک نظر آئی تو 1972ء کا یہ سیاسی نقشہ نظر آیا۔

اسلام کے شیدائیوں نے بلوچستان میں روس نواز نیپ کے سردار عطا اللہ مینگل کو اپنے مقدس اسلامی ووٹ عطا کئے اور وزارتوں میں شامل ہوگئے۔۔۔ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ حاصل کیا اور دو وزارتیں۔یہ کالم لکھنے پر مولانا عبدالغفور حیدری کے اس بیان نے آمادہ کیا۔ وہ فرماتے ہیں قوم پرستوں نے تعصب اور پسماندگی کے سوا کچھ نہیں دیا۔

یہ سوال ان سے ضرور پوچھا جانا چاہئے کہ لیلائے اقتدار نے 1970ء کے انتخابات کے موقع پر جو طوفان اٹھایا تھا کیا وہ حقیقی طوفان تھا یا صرف انتخابات جیتنے کے لئے تھا۔

بلوچستان میں سردار مینگل کے ساتھ حکومت بنائی۔ سابقہ صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) میں مولانا مفتی محمود نے وزیر اعلیٰ کا منصب حاصل کیا اور نیشنل عوامی پارٹی کے ولی خان سے مل کر حکومت تشکیل دی جبکہ نیپ نے اس اتحاد کی بدولت صوبہ سرحد میں گورنری اور وزارتیں حاصل کیں۔ بلوچستان میں گورنری اور وزارت اعلیٰ کا حصہ وصول کیا۔

یہ سیاسی دور اقتدار کی محبت کا کھیل اس وقت ختم ہو گیا جب بھٹو نے ایک جمہوری منتخب حکومت پر شب خون مارا اور یہ کھیل بھٹو نے امریکہ اور شاہ ایران کو خوش کرنے کے لئے کھیلا۔ ایک پُرامن اور مستحکم صوبے کو بھٹو نے آگ اور خون میں دھکیل دیا تو بعض بلوچوں نے افغانستان کا رخ کیا۔

بلوچ قائدین پر جیل کے دروازے کھول دیئے گئے بھٹو حکومت نے ان پر غداری اور پاکستان دشمنی کے الزامات لگائے اور حیدر آباد جیل میں عدل و انصاف کے لئے ایک ٹربیونل قائم کیا۔

یہ پاکستان کی تاریخ میں سنگین مذاق تھا نیپ اور دیگر سیاسی جماعتیں سراپا احتجاج بن گئیں۔ جماعت اسلامی کے پُرعزم امیر میاں طفیل محمد نے لاہور میں بلوچستان اور سابقہ صوبہ سرحد میں حکومتوں کے خاتمے پر موچی گیٹ لاہور میں جلسہ کیا تو انہیں اس سیاسی اقدام پر جیل میں ڈال دیا گیا۔ ان پر جیل میں بدترین تشدد کیا گیا اور بلوچستان میں نیپ اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے کارکنوں سے جیلیں بھر دی گئیں۔

غداری کے مقدمات قائم کئے گئے اور جمعیت علماء اسلام اس دوران خاموش رہی ۔۔۔ جب بھٹو نے بلوچستان میں حکومت ختم کی اور نواب بگٹی کو گورنر بلوچستان نامزد کیا اور ایک نئی حکومت تشکیل دی تو جمعیت علماء اسلام نواب بگٹی کی حکومت میں شامل ہو گئی وہ نوجوان جو اس سیاسی کھیل کو دیکھ رہے تھے انہیں یہ سب کچھّ آج بھی یاد ہوگا اور جو نوجوان اس دور میں نہ تھے انہیں تاریخ کے اِن تلخ ترین سیاسی تضادات کا علم ہونا چاہئے۔

ان جماعتوں کے چہروں کو ان کے اصلی خدو خال کے ساتھ دیکھنا چاہئے ورنہ تاریخ میں یہ بار بار دھوکہ کھائیں گے یہ بھی ایک تضاد تھا کہ نیپ نے جمعیت کے خلاف ہی سیاسی شعلہ بیانی سے ایک طوفان اٹھایا تھا ولی خان مرحوم نے ایک جلسہ عام میں جمعیت علماء اسلام پر سیاسی حملہ کیا اور کہا کہ ہم جب انگریزی سامراج سے لڑ رہے تھے یہ مسجدوں میں روٹیاں جمع کر رہے تھے اور اس جدوجہد میں شریک نہ تھے۔

مگر اقتدار نے ان دونوں حریفوں کو باہم شیر و شکر کر دیا یہ تاریخ کا حیرت انگیز عمل تھا۔ ابو الکلام آزاد نے کہا تھا کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اور انتہائی بے رحم ہوتی ہے۔

1972ء میں سیاست کی اس بے رحمی کو ہم نے دیکھا کہ اقتدار کی خواہش اور وزارتوں کی کشش نے مخالف دشمن اور خون کے پیاسوں کو اقتدار کے دستر خوان پر جمع کر دیا۔ تاریخ نے اپنے وسیع سینے میں ان واقعات کو محفوظ کر لیا۔

ہمیں تاریخ کے واقعات کو فراموش نہیں کرنا چاہئے اور اس کی روشنی میں ان کا تجزیہ کرنا چاہئے ان سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کے تضادات کو پیش نظر رکھ کر انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنا چاہئے اب وقت آ گیا ہے کہ کوئی ایسی پارٹی تشکیل دی جائے جو عوام کی حقیقی امنگوں کی ترجمانی کرے۔

صرف پارٹیاں اور نام بدلنے سے حقیقی جمہوری حکومت تشکیل نہیں دی جا سکتی، اور وہ راستہ اختیار کیا جائے جس پر چل کر نادیدہ قوتوں کے پر اسرار کھیل کا خاتمہ کر دیا جائے۔

مسلم لیگ سے تحریک انصاف میں جانے یا بلوچستان عوامی پارٹی میں جانے یا جمعیت میں یا ق لیگ میں شمولیت اختیار کرنے سے عوام کی محرومیوں اور مشکلات کا ازالہ نہیں ہو سکتا۔ جو پارٹیاں موجود ہیں یہ عوام کی تقدیر نہیں ہیں۔ 2018ء کا انتخاب بھی عوام کے احساسات اور جذبات کی ترجمانی نہیں کر سکے گا۔

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ قوم پرستوں نے تعصب اور پسماندگی کے سوا کچھ نہیں دیا، ان کے تضادات واضح ہیں۔ ان کی سیاست کا پہلا انحراف وہ تھا جب انہوں نے سردار مینگل کی حکومت میں جو قوم پرست سیاست کے سرخیل تھے، شمولیت اختیار کی۔ اس حکومت نے جو کیا وہ اچھا تھا یا برا تھا اس کے تمام اقدامات میں جمعیت شریک تھی اس لئے قوم پرستوں پر حرف زنی نہیں کر سکتی ۔ وہ قوم پرستوں کی بیل گاڑی میں بیٹھی ہوئی تھی اور اس کے بعد ایک غیر جمہوری حکومت میں نواب اکبر خان بگٹی شہید کے دست مبارک کو بوسہ دیتے ہوئے اس کا حصہ بن گئی اور وزارتوں کے مزے لوٹتی رہی نواب بگٹی قوم پرست اور وطن دوست رہنما تھے قوم پرستی ان پر غالب تھی اور جمعیت علماء اسلام کے قائدین اس کی حکومت کا حصہ اور تمام کارناموں میں شریک تھے بلوچ اس دور میں وطن سے باہر رہنے پر مجبور تھے۔

جمعیت اپنے آپ کو اس سے بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی۔ بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ سرداروں اور نوابوں کو مستحکم کرنے میں اپنا تاریخی کردار ادا کیا اس طرح پی ایس او نے اپنی نادانی میں سرداری نظام کو نہ صرف مستحکم کیا بلکہ ان کے قائدین نوابوں کے ساتھ حکومت میں شامل رہے، ہم اس سیاسی نقشہ میں نواب بگٹی کے دور وزارت اعلیٰ میں بلوچستان نیشنل موومنٹ کے نمائندوں کو وزارت میں دیکھ سکتے ہیں۔

جمعیت علماء کے نمائندوں کو بھی یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے نواب اکبر خان بگٹی کو نہ صرف وزارت اعلیٰ کے لئے ووٹ دیا بلکہ جمعیت کے صوبائی امیر مولانا محمد خان شیرانی نے اپنے دست مبارک سے نواب بگٹی کو وزارت اعلیٰ کی کرسی پر بٹھایا۔ جمعیت علماء اسلام کو پشتون قوم پرستوں بلوچ قوم پرستوں اور جرنیلوں کی حکومت میں وزارتوں کے مزے اٹھاتے ہوئے تاریخ کی آنکھ نے دیکھا ہے۔

جناب عبدالغفور حیدری کی پارٹی نے ان تمام قوتوں کا ساتھ دیا ہے جن پر آپ نے غیر حقیقی بیان دیا ہے، بیان دینے سے پہلے ذرا نگاہ اپنے ماضی پر ڈال لیا کریں یہ درست ہے انسانوں کا حافظہ کمزور ہوتا ہے اور سیاست دانوں کا خاص طور پر کمزور ہوتا ہے یا وہ جان بوجھ کر ماضی کے تضادات سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔ متنازع بیانات کے ذریعے اپنے ماضی سے جان بوجھ کر فرار اختیار کرتے ہیں۔ تاریخ کو اتنا بھی مسخ نہ کریں کہ اصل چہرہ ہی نگاہوں سے چھپ جائے۔

مزید : رائے /کالم


loading...