ووٹروں کی بے بسی کب ختم ہو گی؟

ووٹروں کی بے بسی کب ختم ہو گی؟
ووٹروں کی بے بسی کب ختم ہو گی؟

  



2018ء کے انتخابات میں اور کچھ ہو نہ ہو ’’گا، گے، گی‘‘ کا بیانیہ ضرور جاری رہے گا۔۔۔ اور یہ بیانیہ ابھی سے شروع ہو چکا ہے اور وہ سیاسی جماعتیں بھی جو کئی بار اقتدار میں رہی ہیں، گا، گے، گی کا ورد کر رہی ہیں، ہر شخص کو روز گار ملے گا، عوام کو روٹی کپڑا مکان دیں گے، ملک میں جلد خوشحالی آئے گی۔۔۔ 71 برسوں سے ایک ہی ٹیپ چل رہی ہے، جیسے گنے کا رس بیچنے والے نے ٹیپ چلا رکھی ہوتی ہے، دس روپے میں گنے کا جوس، میٹھا، ٹھنڈا اور صحت بخش، پی لو پی لو، گرمی کا توڑ صرف دس روپے میں اور اردگرد رہنے والے اس کی اس ٹیپ سے تنگ آ جاتے ہیں، اسی طرح عوام بھی سیاستدانوں کے وعدوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ جو سیانے سیاستدان ہیں، وہ اپنا بیانیہ اور اہداف بدل رہے ہیں تاکہ یکسانیت کا لیبل نہ لگے۔

ان میں شہباز شریف سب سے آگے ہیں، چونکہ اس بار وہ لوڈشیڈنگ کو اپنا ہدف نہیں بنا سکتے، اس لئے کہ اب تو دوسرے انہیں پنکھے جھلنے کی یاد دلا کر شرمندہ کرتے ہیں، اسی لئے انہوں نے شہروں کو ترقی دینے کا بیانیہ اختیار کیا ہے اور اس میں بھی نکتہ آفرینی یہ کی ہے کہ انہیں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے ہم پلہ بنانے کی راہ دکھائی ہے۔

کراچی کو ’’نیو یارک‘‘، بنانے کا اعلان کر کے انہوں نے ملکی سیاست میں وعدوں کی ایک نئی جہت متعارف کرا دی ہے۔ جو بات روٹی، کپڑے اور مکان سے شروع ہوئی تھی، وہ اب شہروں کا حلیہ تبدیل کرنے تک پہنچ گئی ہے۔

شہباز شریف لاہور کو تو پہلے ہی پیرس بنا چکے ہیں جو برسات میں وینس بن جاتا ہے۔ اب انہوں نے کراچی والوں کو خوشخبری سنائی ہے کہ برسرِ اقتدار آئے تو کراچی کو ’’نیو یارک‘‘ بنا کر دم لیں گے۔ کسی ستم ظریف نے سوشل میڈیا پر یہ درفنطنی چھوڑی کہ ’’نیو یارک‘‘ جرائم کے لحاظ سے دنیا بھر میں سب سے آگے ، کراچی والوں کو بمشکل گینگ وار اور مافیاز سے نجات ملی ہے، شہباز شریف پھر اسے جرائم کا شہر بنانا چاہتے ہیں، حالانکہ شہباز شریف نے کراچی کو ’’نیو یارک‘‘ بنانے کی بات یقیناً اس تناظر میں کی ہو گی کہ جس طرح نیو یارک دنیا کا کاروباری حب ہے، اسی طرح کراچی کو ایشیا کا کاروباری حب ہونا چاہئے۔ شہباز شریف نے کراچی کو صاف پینے کا پانی دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ پنجاب کے عوام کو صاف پانی نہیں دے سکے اور سپریم کورٹ میں چیف سیکرٹری نے خود تسلیم کیا کہ صاف پانی مہیا کرنے کا جو منصوبہ شروع کیا گیا تھا، اس کے ذریعے ابھی تک ایک بوند پانی بھی نہیں دیا جا سکا۔ سو آگے کی طرف دیکھنے والے کبھی پیچھے کی طرف بھی دیکھیں، لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے، کیونکہ ایسا کرنے سے پتھر کے بن جانے کا ڈر جو رہتا ہے۔

کسی سیانے کا قول ہے کہ پاکستانی سیاست میں کبھی ’’حال‘‘ کا ذکر نہیں ہوتا، ماضی کی تلخ باتوں کا ذکر ہوتا ہے یا پھر مستقبل کے سنہرے وعدوں کا واویلا۔

71 برسوں میں عوام کا حال کبھی بہتر نہیں ہوا۔ماضی میں دیکھیں تو محرومیوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ مستقبل پر نظر ڈالیں تو چکنے چپڑے وعدوں کی ایک زنجیر دور تک دکھائی دیتی ہے۔

آج جو لوگ گا، گے، گی جیسے بیانات دے رہے ہیں، وہ کل یہ نہیں کہیں گے کہ دیکھو ہم نے اپنے وعدے پورے کر دیئے ہیں، بلکہ ان کا رونا دھونا یہ ہوگا کہ انہیں کام نہیں کرنے دیا گیا۔

اگلے پانچ برس مزید مل جائیں تو وہ عوام کے سارے مسائل ختم کر دیں گے، ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی۔ کنویں کے رہٹ کی طرح ایک ہی چکر چل رہا ہے، عوام اس سے باہر نکلتے ہیں اور نہ ہی سیاستدان اسے چھوڑنا چاہتے ہیں۔۔۔ جو پانچ سال اقتدار میں رہ کر سوائے اپنی تجوریاں بھرنے کے اور کچھ نہیں کرتا۔

وہ بھی انتخابات کے دنوں میں مسکین صورت حال بنا کر عوام کے پاس آجاتا ہے، شرمناک ڈھٹائی سے نئے وعدے کرتا ہے، اور مزیداری کی بات یہ ہے کہ عوام بھی دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے نئے وعدوں پر یقین کرلیتے ہیں۔

اس کا گریبان پکڑ کریہ نہیں پوچھتے کہ تم نے پانچ سال پہلے بھی یہی وعدے کئے تھے، انہیں پورا کیوں نہیں کیا، کیوں ہمارے پانچ سال ضائع کئے؟ کہا جاتا ہے کہ جب سیاست صرف وعدوں کا گلدان بن کر رہ جائے تو اس میں پھل پھول نہیں اگتے، اس میں ایسی بے برکتی آ جاتی ہے جو رہے سہے پھولوں کو بھی تباہ کردیتی ہے۔

ابھی کل ہی ممتاز تجزیہ کار اور صحافی قدرت اللہ چودھری نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا ووٹروں کے پاس منتخب رکن اسمبلی کے خلاف عدم اعتماد کا اختیار ہونا چاہئے؟۔۔۔ پاکستان کی سیاست کے تناظر میں اس سوال کی بڑی اہمیت ہے، کیونکہ یہاں ایک بار جو منتخب ہوجاتا ہے، پھر ووٹروں کے اختیار سے نکل جاتا ہے، وہ پانچ سال اپنے حلقہ انتخاب کا رخ نہ کرے، تب بھی اسے کوئی پوچھنے والا نہیں۔

کیا یہ بات عجیب نہیں کہ وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کے خلاف تو عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جاسکتی ہے، کسی رکن اسمبلی کے خلاف پیش نہیں کی جاسکتی، جس کی وجہ سے وہ ہر قسم کی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوجاتا ہے، اسے نہ اپنے وعدے یاد رہتے ہیں اور نہ ہی اپنے حلقے کے مسائل پر اس کی نظر ہوتی ہے، وہ حکومتی فنڈز کو اپنی جیب میں ڈال کر نمائندگی کے مزے لوٹتا ہے۔

جب پانچ برس مکمل ہونے کو آتے ہیں تو مسکین شکل بنا کر نئے وعدوں کی پٹاری کے ساتھ عوام کے پاس آجاتا ہے اور سدا کے لائی لگ عوام اسے جوتیوں کا ہار پہنانے کی بجائے پھر پھولوں کے ہار پہناتے ہیں اور نئے وعدوں کے خمار میں کھوکر اسے پھر اپنا ووٹ دے دیتے ہیں۔

ایسے ممبران کے خلاف اگر عوام کے پاس عدم اعتماد کا اختیار ہو تو وہ اس کا احتساب کرسکیں اور پھر انہیں بھی یہ احساس رہے کہ عوام کو اہمیت نہ دی گئی تو ان کی رکنیت برقرار نہیں رہے گی۔

گا، گے، گی کا سب سے شرمناک تماشا جنوبی پنجاب میں لگا ہوا ہے۔ ملک کے پسماندہ ترین علاقوں میں شامل جنوبی پنجاب کے چھوٹے بڑے شہروں میں ہر سیاسی جماعت یہ ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے کہ وہ الگ صوبہ بنائے گی۔ دس ارکانِ اسمبلی نے الگ گروپ بناکر نئے صوبے کا مطالبہ کیا، تو راتوں رات وہ سب کی آنکھ کا تارا بن گئے، ان سے کسی نے نہیں پوچھا کہ تم آج جو مستقبل کا صیغہ استعمال کرکے ’’صوبہ بنائیں گے‘‘ کی رٹ لگائے ہوئے ہو، پچھلے پانچ سال تک خاموش کیوں رہے، جنوبی پنجاب کی پسماندگی ختم کرنے کے نام پر کروڑوں روپے کے فنڈز لئے وہ خرچ کیوں نہیں کئے، کیوں ان سے دبئی میں جائیدادیں خریدیں؟ جن لوگوں کا کچھ نہ کرنے پر احتساب ہونا چاہئے تھا، وہ صوبہ بنانے کا نعرہ لگا کر ہر قسم کے احتساب سے نکل گئے ہیں۔

ہر سیاسی جماعت ان سے اتحاد کرنا چاہتی ہے، اور سب ان کی طرف ایسے لپک رہے ہیں، جیسے ان دس ارکانِ اسمبلی نے ہی صوبہ بنانا تھا۔ انہوں نے اعلان کردیا ہے تو بس سمجھو کہ صوبہ بن گیا۔

مستقبل کے جھوٹے خواب دکھانے والے عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے یہ نیا کرتب دکھانے آئے ہیں۔ وہ بھی جانتے ہیں اور سیاسی جماعتیں بھی جانتی ہیں کہ نئے صوبے کی بیل منڈھے چڑھنے والی نہیں، صوبہ محاذ والے تو اب نمودار ہوئے ہیں، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) تو کئی برسوں سے جنوبی پنجاب کو نیا صوبہ بنانے کا لولی پاپ دے رہی ہیں۔ پانچ برس پہلے جو الیکشن ہوئے ان میں کیا کچھ نہیں ہوا، کیسے کیسے شعبدے نہیں دکھائے گئے۔

پیپلز پارٹی نے اپنے دورِ حکومت میں اسمبلی کے اندر قرارداد لانے کا ڈرامہ بھی رچایا، مقصد صرف یہ تھا کہ جنوبی پنجاب کے عوام کو بغیر کچھ کئے مطمئن رکھا جائے۔ گذشتہ ایک دہائی سے یہ نیا طریقہ واردات ایجاد ہوا ہے کہ اپنی ہربری کارکردگی کو نئے صوبے کی ٹوکری میں ڈال دو۔

پنجاب اور وفاقی حکومت چاہے اربوں روپے کے فنڈز دے، انہیں کھا پی کر ڈکار لینے کے بعد یہ بیان جاری کیاجائے کہ جب تک نیا صوبہ نہیں بنے گا، جنوبی پنجاب کے مسائل ختم نہیں ہوسکتے۔ جنوبی پنجاب کے عوامی نمائندے یہاں کی پسماندگی کے اصل ذمے دار ہیں۔

چلیں یہ مان لیتے ہیں کہ الگ صوبہ بنانے میں ابھی بہت سی مشکلات ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ اس خطے سے منتخب ہونے والے ممبران اسمبلی نے ایوانوں کے اندر اس کے حقوق کی خاطر کتنی مرتبہ آواز بلند کی ہے؟ یہ لوگ درخواستیں اٹھا کر وزیراعظم، وزراء اور وزیراعلیٰ کے پیچھے تو پھرتے ہیں، لیکن اسمبلی کے اندر ان کی زبانیں گنگ ہوجاتی ہیں، یہ ایک لفظ نہیں بولتے۔

یہ جن دس ارکانِ اسمبلی نے صوبہ محاذ بنا کر دھواں دھار پریس کانفرنس کی ہے، ان کا اسمبلی ریکارڈ اٹھا کر دیکھیں مجال ہے انہوں نے اسمبلی میں کبھی زبان کھولی ہو۔

الگ صوبے کی بات تو بہت دور کی ہے، جنوبی پنجاب کے حقیقی مسائل پر بھی کبھی اظہار خیال نہیں کیا، اپنی اس مجرمانہ خاموشی کا وہ کیا جواز پیش کریں گے؟ یہ کہنا کہ ہماری تو اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات تک نہیں ہوتی تھی، اس لئے ہم نے الگ صوبہ محاذ بنانے کا فیصلہ کیا ہے، ایک بہت بھونڈی دلیل ہے۔

رکن اسمبلی کا کام یہ نہیں ہوتا کہ وہ وزیراعظم یا وزراء سے ملنے کو بے تاب رہے، بلکہ اس کا اصل فریضہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اسمبلی میں اپنے ووٹروں کی نمائندگی کرتے ہوئے ان کے مسائل اجاگر کرے اور حق مانگے۔

اس حقیقت کو تسلیم کرلینا چاہئے کہ ہماری جمہوریت میں ووٹر سب سے مظلوم مخلوق ہیں، وہ لائنوں میں لگ کر ووٹ دینے کے بعد بالکل بے بس کردیئے جاتے ہیں، ان کے پاس ایسا کوئی اختیار ہی نہیں رہ جاتا کہ وہ اپنے نمائندے کا احتساب کرسکیں، گندے انڈے اور ٹماٹر وہ اسے مار نہیں سکتے ،کیونکہ ایسا کرنے سے وہ اس کے عتاب کا شکار ہوجاتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ پاکستانی عوام باشعور نہیں، انہیں شاطر سیاستدان دھوکہ دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔۔۔ نہیں صاحب ایسی بات نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ عوام کے پاس اپنے نمائندے چننے کا اختیار چھوڑا ہی نہیں گیا، انہیں دو تین برے امیدواروں میں سے ایک کم برے کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔

کون سی سیاسی جماعت کا امیدوار ووٹروں کو جھوٹے خواب نہیں دکھاتا، مستقبل کے حوالے سے خوشنما وعدے نہیں کرتا، اب عوام کے پاس دو ہی آپشن ہوتے ہیں یا تو سب کو مسترد کردیں اور ووٹ نہ ڈالیں یا پھر کسی ایک پر اعتبار کرکے اسے اپنا ووٹ دیں اور اس کی بے وفائی، بے اعتنائی اور وعدہ خلافی کا انتظار کریں۔

زیادہ تر دوسرا آپشن ہی استعمال کرتے ہیں اور پھر پانچ سال تک اپنے فیصلے پر خود کو کوستے رہتے ہیں۔ اب پھر یہ وقت آرہا ہے، پھر عوام کے سامنے وعدوں کے انبار لگا دیئے جائیں گے اور ووٹ لینے کے بعد پھر انہیں بھلا دیا جائے گا۔

چوہے بلی کا کھیل ہماری سیاست سے نجانے کب ختم ہوگا اور کب ہماری جمہوریت شعبدہ بازوں کے ہاتھ سے نکل کر حقیقی نمائندوں کے ہاتھ میں آئے گی؟

مزید : رائے /کالم


loading...