دہلی کی فضاؤں میں پاکستانی ڈرون؟

دہلی کی فضاؤں میں پاکستانی ڈرون؟
دہلی کی فضاؤں میں پاکستانی ڈرون؟

  



جدید ٹیکنالوجی کی رنگارنگی اور اس کا تنّوع اور پھیلاؤ دیکھتے ہی دیکھتے کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہے۔ فیلڈ کوئی بھی ہو ہر نئی ایجاد کچھ مدت گزرنے کے بعد پرانی ہو جاتی ہے۔ لوگوں کو مجبوراً اس کو ترک کرکے جدید تر ایجاد کا استقبال کرنا پڑتا ہے۔

مثال کے طور پر مواصلات (کمیونی کیشن) کی دنیا میں کئی تبدیلیاں اگرچہ آہستہ آہستہ آئیں لیکن یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے ہرچندکہ اس کا دورانیہ بہت کم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ نئی ایجاد کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ جلد متعارف ہو کر پرانی برانڈز کو کوڑے دان میں پھینک دیتی ہے۔

ہمارے بچپن میں ہمارا گھر، محلے کے ان چند گھروں میں شمار ہوتا تھا جس کے ڈرائنگ روم میں ایک بڑا سا بجلی سے چلنے والا ریڈیو سیٹ رکھا ہوا تھا جس کو گھر والے اور ہمسائے بھی بڑی دلچسپی سے سنا کرتے تھے۔ اس کی برانڈ کا نام پائی (Pye) تھا۔ پھر اس کا سائز چھوٹا ہوگیا اور والد صاحب ایک جرمن سیٹ (گرنڈنگ) خریدلائے۔

کچھ ہی مہینے گزرے ہوں گے کہ بجلی کی بجائے بیٹری سے چلنے والے ریڈیو سیٹ مارکیٹ میں آ گئے جن کو ٹرانسسٹر کہا جاتا تھا۔

میں نے 1968ء میں جب فوج جوائن کی تو ایکسرسائزوں کے دوران سیلوں (Cells)سے چلنے والے جیبی ٹرانسسٹر عام ہوچکے تھے جن کو تمام جونیئر اور سینئر فوجی آفیسرز اپنے بریف کیس میں رکھتے تھے۔

ان میں سے بہت سے ماڈلوں کا سائز صرف "4x"6تھا اور ان کی آواز خاصی بلند آہنگ ہوتی تھی۔ رات کو ہم اپنے خیموں میں بھی ائر فون لگا کر خبریں وغیرہ سنا کرتے تھے تاکہ آس پاس سوئے ساتھیوں کی نیند میں خلل نہ پڑے۔

پھر اچانک ٹیلی ویژن آ گئے۔ ہم نے رشین بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی سے شروع کرکے سونی (Sony) کے وہ سیٹ بھی استعمال کئے جو آپ کے بیڈ روم یا دفتر کی کرسی کے سامنے والی دیواروں پر لگے ہوتے ہیں۔

اس سے پہلےVCRs کی آمدہوئی جن میں ڈرامے اور فلمیں دیکھنے کو ملتی تھیں۔ جاپانی وی سی آر (VCR) جو نیشنل پیناسانک برانڈ کا ہوتا تھا اور جس کا نمبرNV 380 تھا، آج بھی نئی نکور حالت میں گھر کی کسی الماری میں پڑا ہے جس کو دیکھ کر پھینکنے کو جی نہیں چاہتا۔ ان سیٹوں میں ایک بڑی سی کیسٹ لگائی جاتی تھی جس کی سیلولر ٹیپ جو ایک انچ چوڑی ہوتی تھی ،تین گھنٹے تک چلتی تھی اور اس پر فلم بند کسی بھی اردو / انگریزی فیچر فلم کا زیادہ سے زیادہ دورانیہ یہی ہوا کرتا تھا۔

اس کے بعد VCD آئی جس کی کیسٹ بڑی خوبصورت اور نازک اندام (Sleek) تھی۔ وہ بھی ایک عرصے سے قصہ ء پارینہ بنی کہیں پڑی ہوئی ہے کہ اس کی بجائے اب ایک ایسا آلہ وجود میں آ گیا ہے جو تقریباً اوسط آمدنی والے ہر شخص کی دسترس میں ہے۔

اس میں ایسا ٹیلی فون ہے جو ساری دنیا میں آپ کی مفت گفتگو کا اہتمام کر سکتا ہے۔ فیس بک ہے، ٹویٹر ہے اور یوٹیوب ہے جس میں آپ دنیا بھر کی فلمیں، ڈرامے اور ٹی وی پروگرام جب دل چاہے دیکھ سکتے ہیں۔ پرانی اردو، پنجابی اور انگلش فلموں کے ہزارہا گانے صرف 5سیکنڈز کی Tappingکے بعد سنے جا سکتے ہیں اور آواز کی بلند آہنگی وہی ہے جو کبھی سنیما گھروں میں ہوتی تھی۔ اس امرت دھارے نے ہر قسم کے پرانے مواصلاتی آلات یعنی ریڈیو، ٹی وی، ٹیپ ریکارڈر، کیمرہ، لیپ ٹاپ اور VCRوغیرہ کو بیکار کرکے رکھ دیا ہے۔ اور سب سے عجیب بات یہ ہے کہ یہ چھوٹا سا آلہ ہر وقت آپ کی جیب میں رہتا ہے۔

اس نے دنیا کی مہنگی ترین وقت دیکھنے والی گھڑیوں اور کلاکوں کوبھی ازکار رفتہ بنا دیا ہے۔۔۔ اور یہ سلسلہ ابھی رکا نہیں۔ مستقبل میں مزید کون کون سی سمعی اور بصری سہولتیں ہوں گی جو ہر شخص کے بس میں ہوں گی، اس کا علم ہنوز پردہ ء راز میں ہے۔

اب میں قارئین کی توجہ ایک اور نئی ایجاد کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں جس کو ڈرون کہا جاتا ہے۔۔۔ اس ایجاد نے کئی سول اور ملٹری شعبوں میں گویا انقلابی تبدیلیاں اور بے شمار آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔۔۔ مثلاً 1960ء کی دہائی میں U-2 امریکی طیارے کا قصہ آپ کو یاد ہوگا جو پشاور کے ہوائی اڈے سے اڑ کر سوویت یونین کی فضاؤں میں 60،70 ہزار فٹ کی اونچائی پر اڑتا تھا اور کسی میزائل کی زد سے باہررہتا تھا۔

آخر اسے روس نے مار گرایا۔ اس کے بعد SR-71، ایف۔117 سیٹلتھ ، مگ۔(R) 25 اور آواکس وغیرہ جیسے جاسوس طیاروں اور ان کی گرانقدر کارکردگی کو بھی اس ڈرون نے آکر طاقِ نسیاں پر رکھ دیا۔ اب امریکہ اور روس نے اپنے درج بالا بیش قیمت جاسوس طیاروں کو فضائی عجائب گھروں (Air Museums) میں رکھ دیا ہے۔ جس ماضی پرست کو ان کی دید کا شوق ہو، وہ وہاں جا کر دیکھ لے۔ ان تمام فضائی جاسوسی وسائل کو خلائی سیاروں نے آکر ماضی کی یادوں کا حصہ بنا دیا ہے۔ انسان فضا سے نکل کر خلا میں جا پہنچا ہے اور وہاں جاسوس سیاروں کا مینا بازار لگا دیا ہے۔

ان کی گردش کی رفتار وہی ہے جو ہماری زمین کی روانہ گردش کی رفتار ہے۔ چنانچہ جس ملک یا قطعہ ء زمین پر کسی خلائی جاسوس سیارے کو فوکس کرکے چھوڑ دیا جاتا ہے وہ سالوں سال اس قطعہ ء زمین کی 24گھنٹے جاسوسی کرتا رہتا ہے اور تمام معلومات زمین پر اپنے کنٹرول روم میں بھیجتا جاتا ہے۔ انہی خلائی سیاروں کی مدد سے نوعِ انسانی، موبائل فون سے آشنا ہوئی جس نے روئے زمین کے ہر انسان کو دوسرے انسان سے باہم مربوط کر دیا ہے۔ گویا مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کی طنابیں کھنچ کر آپ کے ہاتھ میں آ گئی ہیں۔

لیکن یہ خلائی ٹیکنالوجی بہت مہنگی تھی اور صرف چند امیر اور جدید ممالک ہی اس کو استعمال کر سکتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کی ایک بہت قلیل آبادی ’’دینے والا ہاتھ‘‘ تھی اور باقی دنیا’’ لینے والا ہاتھ‘‘ بن گئی تھی۔ کل تک بظاہر یہی صورتِ حال جا رہی تھی مگر آج انسان نے اس مشکل کا حل بھی نکال لیا۔ اس جدید آلے کا نام پہلے پہل UAV رکھا گیا یہ Un-mannred Aeriel Vehicle ایک ایسی گاڑی اور جہاز تھا جس میں کوئی انسانی پائلٹ نہیں ہوتاتھا۔اس بغیر پائلٹ کے طیارے (UAV)نے بہت جلد ترقی کرکے اپنا اگلا ورشن جو انسان کے حوالے کیا وہ ڈرون کہلایا۔

ڈرون کا موضوع ایک نہائت وسیع موضوع ہے۔ اس پر درجنوں کتابیں مارکیٹ میں موجود ہیں۔ پاکستان آرمی اور ائر فورس میں بھی مسلح اور غیر مسلح (جاسوسی کرنے والے) ڈرون بنائے جا رہے ہیں جو آج آپ کے دشمن ہمسایہ ملکوں کی فضائی جاسوسی کرنے کے لئے ایک چھوٹے (Mini) رینج کے آواکس طیارے کا کام دے رہے ہیں۔ اب تو سیاسی جلسوں اور شادی بیاہ کے پُرہجوم مواقع کی عکاسی کے لئے بھی ڈرونوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

بچوں کے یہ کھلونے مارکیٹ میں عام مل رہے ہیں۔۔۔ اور جہاں تک ڈرون کے فوجی استعمال کا تعلق ہے تو وہ بھی اب کوئی نیا موضوع نہیں رہا۔آپ نے میڈیا میں پڑھا اور دیکھا ہو گا کہ پاکستان نے فلاں تاریخ کو انڈیا کا جاسوسی کرنے والا ڈرون مار گرایا تھا۔

اگر پاکستان یہ کر سکتا ہے تو انڈیا بھی کر سکتا ہے۔ پاکستان نے بھی باقی جدید ممالک کی طرح باقاعدہ ڈرون ٹیکنالوجی کو چند در چند عسکری مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا ایک وسیع پروگرام شروع کر رکھا ہے جو ایک الگ مقالے کا موضوع ہے اور الحمدللہ پاکستان اس ڈرون ٹیکنالوجی میں بھی اپنے ہمسایوں سے پیچھے نہیں رہا بلکہ اب تو بھارت مجبور ہو گیا ہے کہ وہ اپنی فضائی جاسوسی کی روم تھام کے لئے ایسے اقدامات کرے جو اس کو آنے والے خطرات سے محفوظ کر دیں۔

میں کل انڈیا کے چند معروف انگریزی اخباروں میں یہ دلچسپ خبر پڑھ رہا تھا کہ انڈیا نے پاکستانی ڈرونوں کا سراغ لگانے کے لئے لائن آف کنٹرول کے ساتھ لگنے والی آبادیوں کے مکینوں کو یہ ٹریننگ دینا شروع کر دی ہے کہ ’’دشمنوں‘‘ (پاکستان اور چین) کی طرف سے آنے والے ڈرونوں کو کس طرح تلاش (Detect) کرنا ہے اور اس کی اطلاع کس کس کو دینی ہے۔

انڈیا کے صنعتی اداروں کی سیکیورٹی کے لئے ایک فورس قائم کی گئی تھی جس کو ’’سنٹرل انڈسٹریل سیکیورٹی فورس (CISF)‘‘ کہا جاتا ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ اس فورس نے انڈین آرمی سے اشتراک کرکے پاکستان اور چین کی طرف سے بھیجے جانے والے ڈرونوں کا سراغ لگانے اور ان کو پہچاننے کا مختصر دورانیے کا ایک کورس تیار کیا ہے جس میں ایسے دشمن ڈرونوں کا اتہ پتہ لگایا جا سکے گا جو چوری چھپے راڈاروں کی نگاہوں سے بچ کر بھارت کے بڑے بڑے ہوائی اڈوں کی جاسوس کر رہے ہیں۔ ان کورسوں کا افتتاح گزشتہ ماہ گوپال پور میں کیا گیا جو انڈیا کی ایک مشرقی ریاست اڑیسہ میں واقع ایک بڑا قصبہ ہے۔

خبر میں یہ بات بھی بڑی وضاحت سے بیان کی گئی تھی کہ حالیہ ایام میں دہلی کی فضاؤں کے آس پاس 60،70ڈرون اڑتے ہوئے دیکھے گئے ہیں جن میں سے کسی ایک کا سراغ بھی نہیں لگایا جا سکا کہ وہ کدھر سے آئے تھے، کس لئے آئے تھے اور کب واپس چلے گئے۔۔۔۔ گوپال پور میں مختصر دورانیے (6دن) کا جو کورس منعقد کیا گیا اس میں انڈین آرمی کے اشتراک سے ڈرونوں کی مختلف اقسام ، ان کی رسائی کی حدود،ان کی تکنیکی صلاحیتوں اور دیگر متعلقہ امور کے بارے میں ان شرکائے کورس کو تربیت دی گئی جو ملک کے مشہور ہوائی اڈوں کے گردونواح میں رہتے ہیں۔

ان کے علاوہ ایسے شہریوں کی ٹریننگ کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے جو انڈیا کی شمالی اور مغربی سرحدوں کے نزدیک واقع دیہاتوں اور قصبوں میں رہائش رکھتے ہیں۔

انڈیا کی سول ایوی ایشن کی وزارت، ان 59ہوائی اڈوں پر مخصوص قسم کے راڈار بھی نصب کر رہی ہے جو ڈرونوں کا سراغ لگائیں گے۔ اس کے علاوہ ان ہوائی اڈوں میں ایسی مشینیں بھی لگائی جا رہی ہیں جوپتہ چلا سکیں گی کہ ’’گُھس بیٹھیا ڈرون‘‘ کس ملک کا ہے۔ ان ڈرونوں کا اندرونی مواصلاتی نظام بلاک کرنے کی تدابیر بھی کی جا رہی ہیں۔

ہندوستان ٹائمز کے علاوہ ٹریبون میں بھی یہی خبر23اپریل 2018ء کو چھپی ہے جس میں مزید یہ بتایا گیا ہے کہ چونکہ خود انڈیا بھی اپنے ڈرونوں کو مختلف اسٹیشنوں سے اڑاتا رہتا ہے اس لئے شہری ہوا بازی کی وزارت (انڈین آرمی کے ساتھ مل کر) ایسے اقدامات کر رہی ہے کہ اپنے اور دشمن ڈرونوں کی پہچان ہو سکے۔ اب تک جو ٹیکنالوجی اس سلسلے میں منظر عام پر آئی ہے اس کے ذریعے دشمن ڈرونوں کو ننگی آنکھ سے ہی دیکھا جا سکتا ہے۔

لیکن اب پبلک کو ٹریننگ دینے کا جو پروگرام بنایا گیا ہے اس میں یہ تربیت بھی شامل ہو گی کہ معلوم کیا جا سکے کہ دشمن ڈرونوں کو لانچ کرنے والا ملک کون سا ہے اور اپنے ڈرونوں کی پہچان کیا ہے!

دشمن اور دوست ممالک کی فضائی جاسوسی کرنے کے لئے یہ ڈرون ٹیکنالوجی اپنے اندر بے پناہ امکانات (potentials) رکھتی ہے۔ لیکن ذرا اس حقیقت پر بھی غور کیجئے کہ مواصلاتی دنیا میں ریڈیو سے چل کر سیل فون/ موبائل تک کا سفر کس سرعت سے طے ہوا اور اب خلائی سیاروں اور فضائی جاسوسی کرنے والے طیاروں کی بجائے فضائی سروے لینس اور جاسوسی کی آسانیاں ایک سستے سے ڈرون کے ذریعے کتنی آسان اور سستی ہو کر انسان کے بس میں آ چکی ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...