حکومت ڈی اے پی کھاد پر سبسڈی میں اضافہ کر رہی ہے : محمد محمود

حکومت ڈی اے پی کھاد پر سبسڈی میں اضافہ کر رہی ہے : محمد محمود

  



لاہور(کامرس رپورٹر)سیکرٹری زراعت پنجاب محمد محمود نے کہا ہے کہ ڈی اے پی پر سبسڈی کی رقم 150 روپے سے بڑھا کر 300 روپے فی بیگ کی جارہی ہے یہ سبسڈی اسی تناسب سے تمام فاسفورسی کھادوں پر لاگو ہوگی۔ ڈی اے پی پر جنرل سیلز ٹیکس بھی نہیں لیا جارہا تاکہ فاسفورسی کھادوں کی قیمتیں مناسب سطح پر برقرار رہیں۔ امسال پچھلے سال کی نسبت پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کا ریٹ بڑھنے سے کھادوں اور پیسٹی سائیڈز کی قیمتیں بھی زیادہ رہنے کے امکانات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 31مئی تک کپاس کی بوائی کا ہدف حاصل کرنے کیلئے محکمہ زراعت کی فیلڈ فارمیشنز کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں اور کپاس کی فصل پر پہلا سپرے تاخیر سے کرنے بارے بھی کاشتکاروں کی رہنمائی کی جارہی ہے کیونکہ مشاہدہ میں آیا ہے کہ کسان کپاس کی فصل پر بہت جلد سپرے کرنا شروع کردیتے ہیں جس سے کپاس کی پیداواری لاگت میں بے جا اضافہ ہوجاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی منظر نامے کے مطابق روئی کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر آئندہ سال قیمتوں میں زیادہ اضافے کا رجحان برقرار رہے گا۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ کاٹن مشن ایک روڈ میپ ہے جس پر عمل پیرا ہوکر کپاس کو اس کے اصل مقام پر لے کر جانا ہے۔ کاٹن مشن 2025 کی تیاری کا مقصد صوبہ میں روئی کی 20 ملین گانٹھیں حاصل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کاٹن کونسل کی تشکیل عمل میں لائی جارہی ہے جس میں حکومتی نمائندوں سمیت گروورز، ایپٹما، پی سی پی اے، پی سی جی اے، کراپ لائف و دیگر سٹیک ہولڈرز کو بھی شامل کیا جارہا ہے۔ تاکہ تمام سٹیک ہولڈرز کے مشورہ کے ساتھ ایسا فریم ورک تیار کیا جاسکے جس سے کپاس کو دوبارہ بحال کیا جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاشتکاروں کے مفادات کے پیش نظر ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ضرورت سے زیادہ روئی درآمد کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جاتی۔ ملکی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو صرف ضرورت اور معیار کے مطابق ہی روئی کی درآمد کی اجازت دی جاتی ہے۔

مزید : کامرس