کپاس میں خودکفالت-ملک ترقی کی راہ پر

کپاس میں خودکفالت-ملک ترقی کی راہ پر

  



تحریر: رائے مدثر عباس،ناظم زرعی اطلاعات پنجاب

پاکستان کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر آتا ہے اور ملکی مجموعی پیداوار کا قریباً80 فیصدپنجاب میں پیدا ہوتا ہے۔کپاس اور اس کی مصنوعات کے ذریعے ملک کو کثیر زرِمبادلہ بھی حاصل ہوتا ہے۔ کپاس کو ہماری ملکی معیشت میں اہم حیثیت حاصل ہے کیونکہ اس کا ہماری قومی GDP میں 1.5فیصد اور معیاری زرعی مصنوعات کی تیاری میں7فیصد حصہ ہے ۔کپاس دنیا کی ایک اہم ترین ریشہ دار فصل بھی ہے۔ اس سے لباس اور کپڑے کی دوسری مصنوعات تیار کی جاتی ہیں اور اس کے بنولے کا تیل بناسپتی گھی کی تیاری کے لئے بطور خام مال استعمال ہوتا ہے۔2015-16 میں شدید بارشوں، سفید مکھی اور گلابی سنڈی کے شدید حملے کی وجہ سے کپاس کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی اور ہماری کاٹن انڈسٹری تنزل پذیری کا شکار ہوئی اور کپاس کے کاشتکاروں کو مالی نقصان اٹھانا پڑا۔حکومت کو اس بات کا بھرپور احساس ہوا کہ نامساعد حالات کی وجہ سے کاشتکاروں کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے اوراس صورتحال میں کاشتکاروں کے ساتھ کھڑا ہونے اور ان کی مدد کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔لہذٰا کاشتکاروں کی بہتری کیلئے2016-17 میں خادمِ پنجاب کسان پیکج کا اعلان کیا گیا جس نے زرعی ترقی کی گرتی ہوئی صورتحال کو روکا اور زرعی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز شروع ہوا۔محکمہ زراعت حکومت پنجاب نے کپاس کی کاشت کے تمام اضلاع میں ایک موثر ایکشن پلان پر عمل کے لیے ضلعی آفیسران زراعت توسیع اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر زپیسٹ وارننگ پر مشتمل مشترکہ ٹیمیں تشکیل دیں ۔کاٹن زون میں زرعی ماہرین کی مشاورت سے گاؤں کی سطح پر کاشتکاروں کو نقصان رساں کیڑوں کے بروقت انسداد اور فصل کی بہتر دیکھ بھال میں مدد کے لیے ہنگامی مہم چلائی گئی ۔اسکے علاوہ کپاس کے کاشتکاروں کی بروقت آگاہی کے لیے ریڈیو ،ٹی وی اور پرنٹ میڈیا پر بھی بھرپور موثر مہم چلائی گئی ۔محمد محمود سیکرٹری زراعت پنجاب کی سربراہی میں کپاس کے علاقہ جات میں کپاس کے کاشتکاروں کے مسائل جاننے کیلئے اور انہیں جدید پیداواری ٹیکنالوجی سے آگاہ کرنے کیلئے سمینیارز کا انعقاد کیا گیا۔اس کے علاوہ حکومت پنجاب نے خریف کے لئے چھوٹے کاشتکاروں کو 40ہزار روپے فی ایکڑ کے حساب سے تاریخ میں پہلی بار بلا سود زرعی قرضے فراہم کیے گئے جس سے کاشتکاروں کی مالی حالت بہتر ہوئی ہے۔ کپاس کو کیڑے مکوڑوں خاص طور پر گلابی سنڈی کے حملے سے بچانے کیلئے سائنسدانوں اور زرعی ماہرین کی مشاورت سے اگیتی کپاس کی کاشت پر پابندی عائد کی گئی اور اس ضمن میں دفعہ144 کا نفاذ کیا گیا تاکہ اگیتی کپاس کی فصل جو کیڑے مکوڑوں خاص طور پر گلابی سنڈی کی نرسری کاکام دیتی ہے،اس کی کاشت نہ ہو سکے اور موسمی کپاس ضرررساں کیڑوں کے حملے سے محفوظ رہے۔اس کے علاوہکپاس کی فصل کو بہتر بنانے اور بارش کا پانی ضائع ہونے سے بچانے کے لئے رین واٹر مینجمنٹ پراجیکٹ کا آغاز پنجاب میں کیا گیا۔ کپاس کے کاشتکاروں کے لئے پہلی مرتبہ مون سون بارشوں کے نقصانات سے کپاس کی فصل کومحفوظ رکھنے اور زیادہ پیداوار کے حصول کے لئے کسان پیکیج کے تحت ساڑھے 3کروڑ روپے کی سبسڈی سے رین واٹر مینجمنٹ ، پائلٹ پراجیک کا آغازکی گیا ہے جس کے لئے ابتدائی مرحلے میں جنوبی پنجاب کے 7اضلاع بہاولپور، بہاولنگر، رحیم یار خان ، لودھراں، وہاڑی، خانیوال اور ملتان میں کپاس کے کھیتوں سے بارش کے اضافی پانی کے اخراج کے لئے 105بارشی تالابوں اور 70سے زائد sunken field کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ کپاس کے کھیتوں میں کھڑے بارش کے اضافی پانی کی فوری نکاسی ممکن بنانے کے لئے 250پورٹ ایبل واٹر پمپنگ سسٹم کی فراہمی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پراجیکٹ کی لاگت کا 50فیصد حکومت پنجاب کی جانب سے بطور سبسڈی ادا کیا جائے گا ۔ اس منفرد پراجیکٹ کے ذریعے کپا کی فصل کی بہتر پیداوار اور بارش کا پانی ضائع ہونے سے محفوظ کرکے کسانوں کی سہولت کے لئے جدید نظام آبپاشی سے فارم کی سطح پر پانی کے ذخیرہ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ کپاس کے کاشتکاوروں کو سفید مکھی کے حملے سے بچاؤ کیلئے جنسی پھندوں کی سبسڈی پر فراہمی کی گئی ۔نتیجتاً 2017-18میں صوبہ پنجاب میں کپاس کی پیداوار میں دولاکھ کاٹن بیلز کا اضافہ ہوا اور کپاس کے کاشتکاروں کی مالی حالت میں بہتری آئی۔ امسال 60 لاکھ ایکڑ پر کپاس کا پیداواری ہدف مقرر کیا گیا ہے اور کپاس کی آئندہ فصل سے بھرپور پیداوار لینے کیلئے اگیتی کپاس کی کاشت پر پچھلے سال کی طرح پابندی عائد کی گئی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ کپاس کا معیاری بیج فراہم کرنے کیلئے کسان پیکج کے تحت کپاس کی منتخب شدہ اقسام پرجنوبی پنجاب(کاٹن زون) کے کاشتکاروں کو کروڑوں روپے سبسڈی کی فراہمی کیلئے سکیم کا آغاز کیا گیا ہے ۔اس سکیم کے تحت ملتان،خانیوال،لودھراں،وہاڑی،بہاولنگر،بہاولپور،ڈیرہ غازی خان،لیہ،مظفرگڑھ اور راجن پور کے اضلاع کے کا شتکاروں میں کپاس کے منتخب شدہ اقسام کے بیج پر700 روپے فی بیگ سبسڈی بذریعہ واؤچرفراہم کی جائے گی۔ محکمہ زراعت پنجاب کپاس کے کاشتکاروں کو سمارٹ فونز کی مخصوص ایپلکشنز کے ذریعے جدید پیداواری ٹیکنالوجی سے آگاہی بھی فراہم کر رہا ہے۔ کپاس کے کاشتکاروں کی بہتری اور کاٹن انڈسٹری کو پھر سے اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کیلئے حکومت بھرپور اقدامات کر رہی ہے اور جیسا کہ محمد محمود سیکرٹری زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب پوری دنیا میں2022 تک کاٹن ویلی بن کر ابھرے گا سو اس خواب میں تعبیر کے عملی رنگ بھرنے کیلئے محکمہ زراعت حکومت پنجاب کپاس کے کاشتکار کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

مزید : رائے /اداریہ