جناتی، جنات کے رازداں اور دوست کے قلم سے۔..قسط نمبر 34

25 اپریل 2018 (01:28)

شاہد نذیر چودھری

 

انسان چاہے جتنا بھی دلیر بن جائے ،اسکی قوت اور طاقت کا گمان بسا اوقات پانی کے بلبے جیسا ہوتا ہے جو ان دیکھی ہوا کی تاثیر سے بھی پھٹ کر تحلیل ہوجاتا ہے ۔اپنے سے ماورا اور ان دیکھی مخلوق کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا کہاں تاب رکھتا ہے ۔ٹیچر زرینہ کی والدہ کے ساتھ بھی تو یہی ہوا تھا ۔ ماں تھیں ،دکھاوے کی حد تک دلیر ،اپنی بچی کی حفاظت کے لئے وہ تن توش کو سنبھال کر ڈٹ گئی تھیں ایک بچے کے سامنے ....لیکن حقیقت کا سامنا کرنا ان کے اختیار میں نہ تھا۔

میں نے موہن کو اشارہ کیا تو وہ غائب ہوگیا ۔ادھر ٹیچر زرینہ بھی بے ہوش اور اپنے حال سے بے گانہ تھی اور ادھر اس کی والدہ ۔میں آخر ایک بچہ ہی تھا ۔ناتجربہ کار تھا ۔میں ان کو ہلاتا رہا کہ کسی طرح اٹھ پڑیں ۔ایک آدھ بار ٹیچر زرینہ کو بھی اٹھانے اور ہوش میں لانے گیا مگر میری سعی لاحاصل رہی۔

دنیا حیران ہوگی کہ ایک جناتی قوت کو ماربھگانے والا اور خود شیطانی کھیل میں مستیاں کرنے والا ایکا ایکی کیسے اتنا معصوم اور انجان ہوسکتا ہے کہ اسے یہ سمجھ ہی نہ آسکے کہ کوئی بے ہوش ہوجائے تو اسے ہوش میں کیسے لایا جاتا ہے ۔میں کیسے سمجھاوں کہ جب میرے اندر شیطان کروٹ لیتا تھا تو اس سمے ببر جاگ اٹھتا تھا ،جب وہ شانت ہوکر چلا جاتا تو بابرحسین جیسا سادہ معصوم بچہ بے دار ہوجاتا تھا ۔

میں نے گنگو کو آواز دی تو اگلے لمحے وہ آن حاضر ہوا ” ان کو ہوش نہیں آرہا “

اس نے کہا” یہ کون سا مشکل کام ہے ،تو مائی پر پانی پھینک دے ،پھر دیکھ کیسے جاگتی ہے “

میں نے اسے گھور کر دیکھا ” تو ٹیچر زرینہ کی امی کو مائی کہہ رہا ہے “

” تو اور کیا بولوں ،ماسی بولوں ،تائی کہوں ۔“ وہ جھنجھلا کر بولا

” کیا ہوا ہے تجھے،اتنا گرم کیوں ہورہا ہے“ میں نے پوچھا

” تجھے کیا پتہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے“ اس نے خفا ہوتے ہوئے کہا ” مجھے پتا گرو نے بلاوا دے بھیجا تھا اور میں اس کارن ابھی کچھ کرنے والا تھا کہ تو نے پکار لیا۔آخر میری بھی کوئی زندگی ہے ۔میں اکیلا کس کس کی آواز پر بھاگتا پھروں“

” پتا گرو نے کیوں بلایا تھا“ میں نے حیران ہوکر پوچھا۔

” اسکا ایک پرانا سیوک مندرا آیا ہوا ہے ۔اس نے ایک جاپ کرنا ہے اور بولتا ہے کہ اسے ایک کنواری ناری چاہئے جو پوتر بھی ہو اور اٹھارہ برس سے اوپر نہ ہو“ گنگو تلخی سے بولا۔

” جاپ کا ناری سے کیا تعلق ؟“ میں نے پوچھا ۔

” بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے ۔کالی ماتا کا منتر کرنا ہے اسے ،اب میں کیا جانوں وہ اور کیا کیا کرے گا “ گنگو نے مجھے کھاجانے والے لہجے میں کہا” اب اسکو اٹھائے گایا میرا مغزہی چاٹتا رہے گا۔میں اب چلا پربھو پاس “وہ جاتے سمے رکا” ہاں ،اب گھر چلے جانا ،ادھر ہی ٹکی نہ ہوجانا“

گنگو چلا گیا تو میں باورچی خانے گیا ۔ایک پیالی اٹھائی اور اس میں پانی بھر کر واپس آیااور اسکے چھینٹے ٹیچر زرینہ کی والدہ پر مارے ۔کچھ دیر میں ہی وہ کسمسا کر اٹھیں ۔خالی خالی نظروں سے مجھے دیکھا پھر چونک کر بیڈ کی طرف نظر ڈالی ۔موہن جاچکا تھا اور بیڈ پر صرف ٹیچر زرینہ تھی ۔” ہائے میری بچی“ یہ کہہ کر وہ ہڑبونگ میں اٹھیں اور ٹیچر زرینہ کو اٹھانے لگیں ۔ان کا کلیجہ پھٹے جارہا تھا ۔میں نے پانی کے چھینٹے ٹیچر زرینہ پر مارے تو وہ بھی اٹھ پڑی ۔لیکن بے دم سی ہوکر ،بے جان آنکھوں سے سامنے چھت کو دیکھے جانے لگیں ۔

” میری بچی شکر ہے تو نے آنکھیں تو کھولیں “ انہوں نے ٹیچر زرینہ کے بدن کو چادر سے لپیٹا تو اچانک ٹیچر زرینہ لمبی لمبی سانسیں لینے لگی ۔اور پھر یوں لگا جیسے اسکی سانسیں ٹوٹ رہی ہیں ۔

” کیا ہوا میری بچی کو “ اسکی والدہ نے میری جانب روتی آنکھوں سے دیکھا۔

جناتی، جنات کے رازداں اور دوست کے قلم سے۔..قسط نمبر33

 ” میں دیکھتا ہوں “ اچانک میرے کان گرم ہوگئے ،میرے اندر کا ببرچوکنا ہوااور میں نے موہن کو آواز دی ۔جیسے وہ میرا ہی منتظر تھا ۔اس بار اسکی حاضری غیب میں ہوئی تھی ۔ٹیچر زرینہ کی والدہ نہ اسکو دیکھ سکتی تھیں نہ سن سکتی تھیں ۔” تو نے ٹیچر زرینہ کے ساتھ کیا کیا ہے“ میں نے اسے گھور کر پوچھا

اس نے ہاتھ جوڑ دئےے،بولا ” اتنے دن اس کے ساتھ رہا ہوں ،میرامسان اسکے اندر چلا گیا ہے “

”کیسا مسان“ میں اس وقت نہیں جانتا تھا کہ کسی جنّ کے انسان کے ساتھ تعلق جڑ نے کے بعد اسکے سحری اثرات بھی اس میں داخل ہوجاتے ہیں ۔موہن نے خود ہی اسکی وضاحت کردی تو میں نے ٹیچر زرینہ کا روحانی علاج کرنے کی ٹھان لی اور پانی منگوا کر اس پر دم کیا اور وہ پانی ٹیچر زرینہ کو پلادیا ۔پانی کے دوسرے گھونٹ کے ساتھ ہی اس نے زور سے ہچکی لی اور پھر قے کردی ۔یہ قے کیا تھی غلاظت کا مادہ تھا جو پورے بستر پر بکھر گیا ۔پورے کمرے میں بو سی پھیل گئی تھی،شیطانی قوت رکھنے والے جنات کی یہ باقیات تھیں ۔

خیر ،اب ذرا اس قصے کو مختصراً بیان کردوں کہ میں جب ٹیچر زرینہ کو مکمل ہوش میں لے آیا تو ان کے گھر سے چلا آیا حالانکہ وہ مجھے آنے نہیں دینا چاہ رہے تھے ۔اسکے بعد نہ جانے میرے دل سے ٹیچر زرینہ کا خیال کیونکر اتر گیا ۔اس نے سکول جانا بھی چھوڑ دیا تھا اور پھر ایک دن گنگو نے ہی بتایا کہ وہ گھر چھوڑ کر دوسرے شہر چلے گئے تھے ۔مجھے اس کا کوئی دکھ نہیں ہوا ۔ا سلئے کہ میرا مزاج ہی بدل گیا تھا ،مجھے اندازہ ہوگیاتھا کہ میں اپنی قوتوں سے اب جو چاہے کرسکتا ہوں ۔میرے اندر یہ تبدیلی حیران کن حد تک پیدا ہوگئی تھی کہ جو کوئی میری بات رد کرتا یا جو مجھے برا لگتا ،اسے میں گھور کر دیکھتا یا کوئی شڑاپ دیتا تو وہ بیمار پڑجاتا اور کئی کئی ہفتے سکول نہیں آتا تھا ۔لڑکے لڑکیاں مجھ سے ڈرنے لگے تھے ۔ان ہی دنوں دسویں کلاس کی ایک لڑکی مجھے بہت اچھی لگنے لگی ۔وہ حجاب اوڑھ کر آتی تھی۔انتہائی پیاری اور معصوم تھی۔اسکے چہرے پر تقدس چھایا ہوا تھا ،کسی سے بات چیت نہیں کرتی تھی ۔میں نے ایک دن بہانے سے اسکے ساتھ بات چیت کرنا چاہی تو اس نے نظریں اٹھا کر مجھے ناگواری سے دیکھا اور منہ سے کچھ کہے بغیر کلاس روم میں چلی گئی ۔مجھے بڑی توہین محسوس ہوئی ۔

اسی روز جب میں سکول سے ابھی گھر پہنچا تھا کہ گنگو آگیا۔اس کا منہ پھولا ہوا تھا ” اب میں کہاں سے ایسی سندر اور پوتر لڑکی لاوں “

میرا اپنا مزاج بگڑا ہوا تھا ۔میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا تھا ،میرے دماغ میں بس اسی لڑکی کا چہرہ گھوم رہا تھا۔

” سنتا ہے تو “ گنگو نے میرا کاندھا جھنجھوڑا” پتا گرو نے بولا ہے اگر آج اسکے سیوک کے جاپ نہ لگے تو مجھے اگنی سپرد کردے گا “

” تو میں کیا کروں“ میں نے اکتا کر کہا ”جاکر پتا گرو سے بول دے اور اسے کہہ دو کہ ........“ اچانک کچھ کہتے کہتے میں رک گیا اور شیطانی مسکان سے میرا پورا بدن کھل اٹھا ۔

” لے گنگو تیرا کام ہوگیا “ میں نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور اسے لڑکی بارے بتایا ” مگر وہ اس وقت کہاں ہوگی؟ “

”میں نے سنا ہے کہ دسویں جماعت والوں کے پیپر ہونے والے ہیں اور سب لڑکیاں دیر تک سکول میں رکتی ہیں“ میں نے گنگو کو اس لڑکی بارے بتایا تو اسکی باچھیں کھل اٹھیں ۔

ہم دونوں سکول پہنچ گئے۔ دسویں کلاس کی لڑکیاں کلاس میں ٹیچرز سے پڑھ رہی تھیں ۔گنگو بولا ” میں اسکاپتہ کرکے آتا ہوں “

چند لمحے بعد وہ واپس آگیا تو ہانپنے لگا” وہ بڑی کرنٹ والی ناری ہے ،اس کو ہاتھ لگانا پاپ ہوگا “

گنگو نے جو بات بتائی واقعی وہ بڑی خوفناک تھی ۔وہ لڑکی انتہائی پاکیزہ تھی اور وظائف پڑھا کرتی تھی،وضو کی حالت میں تھی ۔اس پر تقدس کا ہالہ تھا اور کوئی بھی شیطان اس پر نگاہ تو ڈال سکتا تھا،اس پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا ۔

میں اور گنگو کافی دیر تک سوچتے رہے کہ اسکو کیسے قابو کیا جائے۔اتفاق سے بیس تیس منٹ وہ لڑکی سکول کے واش روم کی طرف جاتی نظر آئی تو گنگو چلایا ” اب شاید کام بن جائے ۔اگر تو اس نے وضو نہ کیا تو میں اسکو قابو کرلوں گا بس تو یہ منتر پڑھنا شروع کردے“ میں نے اسکی ہدایت پر عمل کیا اور چند منٹ بعد جب وہ لڑکی کلاس روم میں واپس گئی تو گنگو بھی واپس آگیا ۔” دیکھ اب کیا ہوتا ہے،کوشش تو بڑی کی ہے ۔“

ابھی چند منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ وہ لڑکی تیز تیز قدم چلتی ہوئی میرے پاس سے گزری تو اچانک رک گئی اور مسکرا کر بولی” تو نے صبح کچھ پوچھا تھا مجھ سے “

میں نے سرہلایا ۔کام بن گیاتھا ۔گنگو کا تیر نشانے پر لگا تھا ۔وہ لڑکی اپنے گھر جانا چاہ رہی تھی۔اس کانام بھی تسکین تھا ۔ اسکاگھر سکول سے ایک میل کے فاصلہ پر تھا اور وہ پیدل ہی آیا جایا کرتی تھی۔جس راستے سے وہ گھر کو جاتی تھی ،اسکے درمیان سے ایک راستہ پرانے قبرستان کو بھی جاتا تھا ۔جب وہ اس جگہ پہنچی جہاں سے دوراہا بن جاتا تھا گنگو نے اس کے دماغ کو قابو کرلیا اور پھر وہ اسے قبرستان کے اس شیطانی استھان میں لے جانے میں کامیاب ہوگیا جہاں پتا گرو اور اسکا سیوک مندرااپنے جاپ کے لئے بے قرار بیٹھے تھے۔

پتا گرو کے سیوک مندرا نے جب تسکین کو دیکھا تو اسکی رالیں ٹپک پڑیں،موٹی کھال والا،کالا بجنگ مندرا کالی ماتا کے جاپوں کا ماہر تھا ۔ تسکین کو دیکھنے کے بعد اس نے مجھے واپس چلے جانے کا بولا ۔میں نے پتا گرو کی جانب دیکھا تو اس نے بھی مجھے اشارہ کیا کہ تم چلے جاو۔بڑوں کے کھیل میں تمہارا کیا کام۔۔۔ میں اب وہاں ٹھہر نہیں سکتا تھا ۔میں تو واپس گھر آکر سوگیا تھا ،رات کا کوئی سمے تھا کہ میری آنکھ گنگو کے ہلانے پر کھل گئی ۔” اٹھ ببر جلدی کر “

میں آنکھیں ملتا ہوا اٹھا ” کیا ہوا ؟ “

” پوچھ کیا نہیں ہوا“ وہ بڑا گھبرایا ہوا تھا۔بولا” مندرا بھسم ہوگیا ہے ،مرگیا ہے “

اسکی بات سنتے ہی میری آنکھیں پوری کی پوری کھل گئیں۔

” میں نے اپنی ان پاپی آنکھوں سے جو منظر دیکھا ہے وہ بتا نہیں سکتا “ ا سنے اپنے سر پر دو ہتڑ مارے” مندرا نے تسکین کے سارے کپڑے اتروا کر اسکو ململ کا چولا پہنا دیا تھا اور اسکے شریر کے ساتھ کھلواڑ کررہا تھا کہ اس کا جاپ ٹوٹ گیا ۔اچانک تسکین کو جیسے ہوش میں آگئی اور اس نے چیخ کر مندرا کو پرے دھکیل دیا ۔اس نے آسمان کی طرف منہ کیا اورآیت الکرسی والا وظیفہ پڑھتے ہوئے اس نے اپنے رب سے دعا کی ۔اوئے ببرا........ادھر اس لڑکی نے دعا مانگی کہ اللہ اسے زندہ زمین میں دفن کردے اور اس پاپی کو جہنم کی آگ میں پھینک دے ۔وہ اللہ سے دعا مانگ رہی تھی کہ اچانک میں نے ایک آواز سنی ،کوئی بہت تیز پروں سے پھڑپھڑاتے ہوئے زمین پر آیا اور اس نے مندرا پر تھوک دیا ۔مندرا کے پورے بدن سے آگ لپٹ گئی اور وہ کالی ماتا کو پکارتا رہ گیا لیکن کسی ماتما پربھو بھگوان نے اسکی نہیں سنی اور وہ جل کر راکھ ہوگیا۔۔۔۔پھر وہ پروں والا ایک نورانی انسان کی صورت میں ظاہر ہوگیا ۔اس نے تسکین   کو کپڑے پہنائے اور اسکا ہاتھ پکڑ کر قبرستان سے باہر لے گیا “گنگو یہ ان ہونی بتاتے ہوئے بری طرح کانپ رہا تھا ۔” مجھے لگتا ہے ہم دونوں کو بھی شڑاپ ملے گا ۔وہ ہم کو بھی جلا دے گا ببر ے“ گنگو کو میں نے پہلی بار اسقدر خوفزدہ دیکھا تھا ۔میں خود اندر تک لرز گیا تھا ۔مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کون سی مہان طاقت ہوسکتی ہے جو اس لڑکی کی رکھشا کرنے زمین پر اُتر آئی تھی ۔(جاری ہے )

مزیدخبریں