چیف جسٹس ثاقب نثار، چھٹیوں کے دونوں روز مقدمات سنے، شہرت نے سائل بڑھا دیئے

چیف جسٹس ثاقب نثار، چھٹیوں کے دونوں روز مقدمات سنے، شہرت نے سائل بڑھا دیئے

  



 جوڈیشل ایکٹو ازم کے موجودہ سلسلے کی وجہ سے عوامی توقعات بھی بہت بڑھ گئیں اور ہفتے کی دو چھٹیوں کے دوران چیف جسٹس مسٹر جسٹس ثاقب نثار عدالت لگاتے ہیں تو عدالتی احاطے میں دادرسی کے طالب سینکڑوں لوگ پہنچ جاتے ہیں۔ ان کے پاس پلے کارڈ اور بینرز بھی ہوتے ہیں، حالیہ اتوار کو چیف جسٹس عدالتی امور نمٹانے کے بعد جب جانے لگے تو احاطے میں موجود بیسیوں درخواست گزار ان کے سامنے آ گئے، اس پر انہوں نے واپس عدالت کا رخ کیا اور ان سب سائلین کو بلا کر ان کی بات سنی اور درخواستیں لے کر سپریم کورٹ کے اس حقوق انسانی سیل کو بھجوا دیں جو درخواست گزاروں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافے کے بعد انہوں نے قائم کرنے کی ہدایت کی تھی، گزرے ہفتہ اور اتوار کو بھی فاضل چیف جسٹس نے اہم مقدمات کی سماعت کی۔ عدالت میں امراض قلب کے انسٹی ٹیوٹ (پی۔ آئی۔ سی) کے بورڈ ممبر افضال بھٹی کا نام ای۔سی۔ایل میں شامل کرنے کا حکم دیا۔ چار یونیورسٹیوں کے وی۔سی حضرات کی تقرری منسوخ کی، لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کی وائس چانسلر کی تقرری کے حوالے سے نئی تحقیقات کی ہدایت بھی کر دی، اس کے علاوہ متعدد دوسرے معاملات بھی زیر سماعت آئے۔

چیف جسٹس، ثاقب نثار نے گزشتہ دنوں ماورائے عدالت قتل اور گمشدہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے ایک نئی تنظیم اور تحریک کے منتظم منظور پشتین کے لئے بھی حکم جاری کیا کہ وہ اپنی شکایت کے حوالے سے ماورائے عدالت قتل کئے جانے اور گمشدہ شدہ افراد کی پوری تفصیل اور فہرست لے کر عدالت آئیں۔ یہ ہدایت اپنی جگہ تاہم منظور پشتین کی پشتون تحفظ تحریک نے اتوار کو لاہور کی تاریخی جلسہ گاہ باغ بیرون موچی دروازے میں جلسہ کر لیا۔ اس میں ان کے ساتھ آئے قبائلی ساتھیوں کے علاوہ مقامی پشتون باشندوں اور سول سوسائٹی کے ارکان بھی شریک ہوئے۔ منظور پشتین نے اپنے خطاب میں الزام دہرایا کہ ہزاروں پشتون ماورائے عدالت قتل کئے جا چکے اور ہزاروں گم کر دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے اس سب کی تحقیق کے لئے ’’ٹروتھ اینڈ فیسلیٹیشن‘‘ کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا جو سچائی تلاش کرے اور مغویوں کی بازیابی اور ان کے خاندانوں کی سہولت کا انتظام کرے، ان کا دعویٰ تو یہ ہے کہ تمام تفصیل موجود ہے، اگر ان کے خیال میں یہ درست ہے تو پھر ان کو چاہئے کہ چیف جسٹس کے بلاوے کو بھی غنیمت جانیں اور مقررہ تاریخ پر پیش ہو کر ثبوت دے دیں۔

اس سے پہلے روز (ہفتہ) کو ناخوشگوار واقع پیش آیا جب کمشنر نے تحریک کی جانب سے جلسے کی درخواست مسترد کر دی اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ اس پر احتجاج ہوا، سیاسی جماعتوں نے بھی ان کو جلسے کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا چنانچہ زیر تحویل حضرات اور منظور پشتین سے مذاکرات کے بعد اجازت دے دی گئی۔ انتظامیہ کے بقول کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا تھا، ان کو بات چیت کے لئے بلایا گیا، بہرحال جلسہ ہوگیا اور منتظم نے اعلان کیا کہ اگلا جلسہ 12 مئی کو کراچی ہوگا۔ اس روز نہتے لوگوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

منظور پشتین کے حوالے سے بہت کچھ کہا جا رہا ہے، قبائلی علاقے میں تو انہوں نے فوج کو برا بھلا کہا اور امن کے بعد فوج کی واپسی کا مطالبہ کر دیا اگرچہ لاہور میں ایسا کچھ نہیں کہا گیا تاہم ان کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ اپنے مطالبات اور اپنے موقف پر قائم ہیں اور تحریک شروع کر چکے، یہ منظور پشتین اس امر کے بھی دعویدار ہیں کہ نقیب محسود کے مبینہ پولیس مقابلے کے حوالے سے انہوں نے تحریک شروع کی تھی جو کامیاب رہی۔ اس کے ساتھ ہی ان کے طرز تخاطب میں فرق آ گیا اور مبینہ طور پر وہ اپنے علاقے سے سرکاری عمل دخل ختم کرا کے پرانا قبائلی نظام پھر سے بحال کرنے کو کہہ رہے ہیں۔ منظور پشتین کی سرگرمیاں کئی حوالوں سے دیکھی جا رہی ہیں اور ان کی مہم جوئی کو گہرے شک سے دیکھا گیا۔ اس طرف اشارہ آرمی چیف نے بھی اپنے خطاب میں کیا تھا۔ اس تحریک اور منظور پشتین کی سرگرمیوں کو دیکھا جائے تو شبہات پیدا ہوتے ہیں بلکہ انہوں نے اپنی ذاتی سرگرمیوں کو جس انداز سے شروع کیا وہ بھی مشکوک ہیں۔ ان کی تصدیق لازم ہو گئی کہ قبائلی علاقوں اور یہاں کے مطالبات اور خطاب میں فرق ہے۔

اس سے پہلے قبائل کے نوجوانوں نے لاہور میں ایک بڑی ریلی نکالی، جسے پاکستان زندہ باد کا نام دیا گیا۔ لاہور کی سڑکوں پر مارچ کے دوران پاکستان اور پاکستان کی مسلح افواج کی پرزور حمایت کی گئی اور حق میں نعرہ بازی بھی، یہ تحریک اور بھی شہروں میں ہے ۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...