وزیر اعظم کی کاوش کے الیکٹرک سوئی سدرن کا معاہدہ، تاحال لوڈ شیڈنگ جاری!

وزیر اعظم کی کاوش کے الیکٹرک سوئی سدرن کا معاہدہ، تاحال لوڈ شیڈنگ جاری!

  



کراچی کے باسی بارہ سے چودہ گھنٹے طویل دورانیہ کی لوڈشیڈنگ کے جس اذیت ناک عذاب سے دوچار تھے، اس سے نجات کی توقع پیدا ہو گئی ہے۔ امید ہے کہ ان سطور کی اشاعت سے پہلے ہی کسی نہ کسی حد تک یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ ’’کے الیکٹرک‘‘ نے اعلانیہ اور غیر اعلانیہ طویل دورانیہ کی لوڈشیڈنگ کا یہ جواز پیش کیا تھا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی نے واجبات کی عدم ادائیگی کا جواز بنا کر مطلوبہ تعداد میں گیس کی فراہمی میں بہت زیادہ کمی کر دی ہے جبکہ سوئی سدرن گیس کا موقف تھا کہ کے الیکٹرک کی طرف ہمارے 80 ارب روپے کے واجبات ہیں اور وہ اس کی ادائیگی اور نہ ہی مزید گیس کی فراہمی کے لئے باقاعدہ معاہدہ پر دستخط کرنے کو تیار ہے۔ اس سے قطع نظر کس کا موقف کتنا درست ہے۔ پیر کی صبح وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ایک روزہ دورہ پر کراچی آئے تو ان کی صدارت میں گورنر ہاؤس کراچی میں کابینہ کی توانائی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ جس کے بعد وزیراعظم نے کراچی کے باسیوں کو لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات دلانے کے لئے فوری طور پر سوئی سدرن گیس کو احکامات جاری کر دیئے ہیں کہ وہ واجبات کی ادائیگی کے تنازع سے قطع نظر فوری طور پر ’’کے الیکٹرک‘‘ کو اس کی ڈیمانڈ کے مطابق گیس کی فراہمی شروع کر دیں۔ واجبات کی ادائیگی کا تنازعہ حل کرنے کے لئے کے الیکٹرک کو 15 دن کی مہلت دے دی ہے (جس کا فیصلہ متعلقہ کمیٹی کے اجلاس میں ہونا ہے)۔ تادم تحریر کراچی کے بیشتر علاقوں میں حالات بہتر نہیں ہوئے۔

کراچی میں ضرورت کے مطابق صاف پانی کی فراہمی کا مسئلہ تو پرانا ہے، جسے حل کرنے کے لئے پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم (شہید ملت) خان لیاقت علی خان کی حکومت نے اپنی حکومت کے پہلے پنچ سالہ منصوبہ میں ملک کے تمام بڑے شہروں خصوصاً کراچی کے لئے یہ اصول طے کر دیا تھا کہ ہر پنج سالہ منصوبہ میں 30 سال کی ضروریات پوری کرنے کے لئے پینے کے پانی، تعلیم اور علاج کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ یہی اصول دوسرا پنج سالہ منصوبہ تیار کرنے والوں نے بھی اپنے پیش نظر رکھا تھا مگر بدقسمتی سے بعد میں آنے والے منصوبہ سازوں نے اس اصول کونظر انداز کردیا، جس کی سزا یہ شہر ابھی تک بھگت رہا ہے اور پورا ملک بھی متاثر ہے۔ کراچی میں پانی، تعلیم اور صحت کے شعبہ میں جو کچھ سہولیات موجود ہیں، وہ زیادہ تر پاکستان کے پہلے اور دوسرے پنج سالہ منصوبوں کی مرہون منت ہیں۔ پہلے پانچ سالہ منصوبہ کے تحت ناظم آباد اور نارتھ ناظم آباد نقشے اور منصوبے کے مطابق تعمیر ہوا تھا اور اب بھی شہری سہولیات کی فراہمی کے اعتبار سے ماسٹر پلان کے عین مطابق ہے۔ ان علاقوں میں جتنی کشادہ سڑکیں ہیں، جتنے بڑے بڑے پارک رکھے گئے تھے، تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں اور دیگر رفاعی مقاصد کے لئے جتنے بڑے بڑے کھلے میدان رکھے گئے تھے، وہ 30سال کی نہیں، آج تک کی ضروریات پوری کر رہا ہے۔ اگر بااثر اور طاقت ور سیاسی اور غیر سیاسی افراد کی سرپرستی میں تعلیم، صحت، کھیل کے میدانوں سمیت دیگر رفاعی مقاصد کے لئے مختص پلاٹوں کی بندربانٹ نہ کی جاتی تو یہ 100 سال کی ضروریات کے لئے کافی ثابت ہو سکتے تھے۔ خدا بھلا کرے، سابق سٹی ناظم کراچی جناب نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ کا اور کراچی کی پارسی برادری سے تعلق رکھنے والے معروف بزنس مین اور روزنامہ ’’ڈان‘‘ کے کالم نگار آنجہانی اردشیر کاوس جی کا جنہوں نے اس ایشو کو اٹھایا، جن کی کوشش سے عدالت عظمیٰ نے نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ کی رٹ پٹیشن پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا تھا کہ تمام رفاعی مقاصد کے لئے مختص میدانوں سے تجاوزات ختم کرائی جائیں۔ آج بھی سپریم کورٹ میں اس فیصلے کی گونج گاہے بہ گاہے سنائی دیتی ہے تاہم سپریم کورٹ کے واضح حکم کے باوجود آج بھی مفاد عامہ کے لئے مختص پلاٹوں پر بڑے بڑے پلازے اپنی جگہ کھڑے ہیں، ناجائز اور غیر قانونی تجاوزات کی لعنت نے اس شہر کا حلیہ ہی تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ اب تو شہر کراچی کیا پورے ملک کا ہی المیہ یہ ہو گیا ہے۔ ملک کے سارے طاقتور اور بااثرسیاسی اور غیر سیاسی لوگ بلڈرز اور ہاؤسنگ کے کاروبار سے جڑے اور بندھے نظر آ رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں جو واٹر کمیشن قائم کیا ہے۔ جس ہائی رائیز بلڈنگ کی تعمیر کی اجازت پہلے سے متعلقہ مجاز اتھارٹی دے چکی تھی، ان کی تعمیر چھ منزل تک محدود کر دی ہے مگر پانی کا مسئلہ حل کرنے کے لئے قائم واٹر کمیشن کی کاوشوں کے خاطر خواہ نتائج اس وقت تک نکلنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ جب تک کراچی میں تین عشروں خصوصاً 2001ء سے لے کر آج تک ان ہائی رائیز کمرشل اور رہائشی پلازوں کے لئے صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کا ایسا نظام قائم نہیں کرا دیا جاتا کیونکہ ان سب نے یہ ضمانت فراہم کی تھی کہ وہ پانی کے پلانٹ بھی خود لگائیں گے اور بجلی اورنکاسی آب کا نظام بھی خود کریں گے۔

وفاقی حکومت کے تعاون سے کراچی کے باسیوں کے لئے پانی کی فراہمی کے ’’کے فور‘‘ سے حاصل ہونے والے پانی کے حوالہ سے یہ خدشات (جس کا اظہار میئر کراچی وسیم اختر نے کیا تھا) غلط نہیں ہیں کہ اس کا تو سارا پانی ان طاقتور بااثر بلڈرز کے ہاؤسنگ پروجیکٹ ہی لے اڑیں گے جن کے ہاؤسنگ پراجیکٹ کے قریب ’’کے فور‘‘ کی پائپ لائن گزر رہی ہے اگرچہ سید مصطفی کمال نے میئر کراچی وسیم اختر کے اس خدشہ کو بے بنیاد بتایا تھا مگر کراچی کے باسیوں کے ذہنوں میں یہ خدشات اپنی جگہ موجود ہیں اور اس کی معقول وجوہات بھی ہیں، کیونکہ طارق روڈ، کلفٹن، ڈیفنس میں تعمیر ہونے والے ہائی رائیز کمرشل اور رہائشی پلازوں نے ہی اس وقت کربلا بنا رکھا ہے۔ یہ مسئلہ تب ہی حل ہوگا جب کراچی کے ماسٹر پلان کو آج کی ضروریات کے مطابق بنا کر اس پر سختی کے ساتھ عملدرآمدکیا جائے گا۔

اس شہر کی کیسی بدقسمتی ہے کہ آج وہ بھی کراچی میں بجلی اور پانی کے ایشو پر وفاق اور حکومت کو الٹی میٹم دے رہے ہیں جن کی مخلوط حکومتوں نے اس شہر کو اس عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے جن پر سعود عثمانی کا یہ شعر حرف بہ حرف صادق آتا ہے:

بین کرتی ہوئی خلقت یہ بیاں کرتی ہے

بے گناہوں میں ہوئے جاتے ہیں شامل قاتل

اب کچھ ذکر ہو جائے ان کی کوششوں کا جو چاہتے ہیں کہ سندھ کا 2018ء کے انتخاب میں سیاسی منظرنامہ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے لئے 2013ء سے مختلف ہو جائے، فی الوقت پیپلزپارٹی کو تو ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے جس سے اسے کوئی پریشانی ہو البتہ ایم کیو ایم کی ٹوٹ پھوٹ سے اس کے حلقوں میں تشویش ہی نہیں حقیقی خطرات منڈلا رہے ہیں۔ جس سے عہدہ برأ ہونے کے لئے ادھر ادھر ہاتھ پاؤں تو ضرور مار رہے ہیں مگر بے اطمینانی اور بے چینی ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے۔ اب ڈاکٹر فاروق ستار نے ساری شرائط ختم کرکے صرف عامر خان سے جان چھڑانے کی شرط رکھی مگر بہادر آباد والوں نے تو عامر خان کو اپنا لیا ہے کہ بہادر آباد تو مسلم لیگ (ن) سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنے کے لئے تیار نظر آ رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر اور پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف ایک ہفتے میں دوسری بار کراچی آئے۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کا صدر منتخب ہونے کے بعد سندھ میں جن لوگوں کو ذمہ داریاں دی ہیں، ان کی کوشش ہے کہ کسی طرح ایم ایم اے، اے این پی اور ایم کیو ایم کے بہادر آباد کے دھڑے کے ساتھ کوئی اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا فارمولہ طے پا جائے۔ میاں شہبازشریف نے اس سلسلے میں اتوار کے دن اے این پی سندھ کے صدر شاہی سید کے ڈیرے مردان ہاؤس جا کر ان سے ملاقات کی اور ایم کیو ایم بہادر آباد جا کر رابطہ کمیٹی سے ملاقات کی اور انتخاب میں ان سے اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے امکانات پر مل جل کر چلنے کے لئے مذاکرات کئے۔ میاں شہبازشریف کے اس دورہ کا قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ انہوں نے اس بار ان علاقوں کا دورہ کیا جہاں سے مسلم لیگ (ن) 1993ء اور 1997ء میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی کچھ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ ان علاقوں میں میاں شہبازشریف نے کسی بڑے جلسہ سے تو خطاب نہیں کیا مگر ضلع ویسٹ اور ساؤتھ میں تین مقامات پر کارنر میٹنگز سے ضرور خطاب کیا جس میں حاضری کہیں دو سے تین ہزار اور کہیں پانچ سات ہزار بھی رہی۔ اب ان کا پروگرام اندرون سندھ کا ہے جبکہ سندھ مسلم لیگ (ن) صدر شاہ محمد شاہ بڑے وثوق کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ مئی میں میاں شہبازشریف کراچی اور اندرون سندھ بڑے عوامی جلسوں سے خطاب کریں گے۔ اس دورے میں میاں شہبازشریف کے ساتھ سینیٹر مشاہد حسین سید بھی رہے جو ایک دن قبل ہی کسی نجی تقریب میں شرکت کے لئے کراچی آئے تھے۔ سینیٹر سلیم ضیاء کو میاں شہبازشریف نے سندھ مسلم لیگ (ن) کا جنرل سیکرٹری بنا دیا ہے اور کراچی مسلم لیگ (ن) کے صدر منور رضا کو کراچی کی صدارت سے فارغ کرکے سندھ مسلم لیگ (ن) کے سابق مرکزی صدر بابو سرفراز جتوئی کی طرح نائب صدر بنا دیا ہے۔ دیکھئے کراچی مسلم لیگ (ن) کا صدر کسے بنایا جاتا ہے۔ اس دورہ کے دوران گورنر ہاؤس میں میاں شہبازشریف سے تاجروں اور صنعتکاروں کی ملاقات کا اہتمام کیا گیا تھا۔ تاجران اور صنعت کاروں کے اعزاز میں گورنر ہاؤس میں معروف صنعتکار مرزا اشتیاق بیگ کی طرف سے کیا گیا تھا۔ خبریں یہ ہیں کہ کراچی سے مرزا اشتیاق بیگ، مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور 2013ء میں جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے والے معروف صنعتکار زاہد سعید مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر کراچی سے انتخاب لڑیں گے، ویسے تو کراچی مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری اطلاعات ناصر الدین ۔۔۔ اور ۔۔۔ مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر علی اکبر گجر بھی قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ سب سے بڑی خبر تو یہ ہے کہ میاں شہبازشریف کو بھی کراچی سے الیکشن لڑنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ وہ مان گئے تو کراچی کا میدان بہت سرگرم ہوگا کہ بلاول اور عمران کا ارادہ بھی کراچی سے حصہ لینے کا ہے۔

Back to

مزید : ایڈیشن 2