وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اسمبلی میں اکثریت کا اعتماد کھو بیٹھے ہیں ،صوبائی اسمبلی قبل ازوقت تحلیل ہونے کا خدشہ ؟

وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اسمبلی میں اکثریت کا اعتماد کھو بیٹھے ہیں ،صوبائی ...

  



تحریک انصاف کے ممبران اسمبلی پر سینیٹ انتخابات میں ووٹوں کی خرید وفروخت کے الزامات اور شوکاز نوٹسز کے اجراء کے بعد پارٹی کے اندر شدید بحران پیدا ہوگیا ہے جس نے صوبائی حکومت کے وجود کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے 20 ارکان اسمبلی پر ووٹوں کی خرید وفروخت کے الزامات پہلے عائد کرکے میڈیا میں اس کی تشہیر کردی جبکہ مذکورہ ارکان کو شوکاز نوٹسز بعد میں جاری کئے شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے مرکزی قیادت نے موقف اختیار کیا کہ پارٹی کی انضباطی اور تحقیقاتی کمیٹی کی تحقیقات کی روشنی میں مذکورہ اراکین ووٹوں کی خرید وفروخت میں ملوث پائے گئے ہیں جبکہ دوسری طرف الزامات کی زد میں آنے والے اراکین اسمبلی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوء موقف اپنایا کہ کو ن سی کمیٹی ؟ کیسی کمیٹی ؟ کب بنی کمیٹی ؟ کو ن تھے مبمران کمیٹی ؟ انہوں نے تحقیقات کب اور کیسے کی متاثرہ ارکان سے کسی نے نہ تو رابطہ کیا اور نہ ہی کسی نے پوچھ گچھ کی متاثرہ ارکان کی اکثریت نے میڈیا کے سامنے آکر قرآن پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھایا کہ انہوں نے پارٹی ہدایت کے مطابق اپنے ووٹ کا استعمال کیا اس سنگین صورتحال نے تحریک انصاف کی مرکزی اور صوبائی قیادت کے درمیان کشیدگی پیدا کردی یہاں تک کہ پارٹی کی مرکزی اور صوبائی قیادتوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا مرکزی قیادت نے حالات کو کنٹرول کرنے کیلئے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی سربراہی میں 6 رکنی کمیٹی قائم کردی دوسرے الفاظ میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مرکزی قیادت نے بحران کا سارا ملبہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے سرپھینک دیا اگر مذکورہ کمیٹی کی تحقیقات کی روشنی میں ارکان کو بے گناہ قرار دے کر کلیئرنس سرٹیفیکیٹ دے دیا جاتا ہے تب بھی سابقہ اقدام سے پارٹی کو سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا اور اگر الزامات کو درست قرار دیا جاتا ہے تب بھی وزیر اعلیٰ پرویز خٹک ہی جوابی الزامات اور اختلافات کا سامنا کرینگے مگر اہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ دونوں صورتوں میں کیا مذکورہ ارکان اسمبلی آئندہ تحریک انصاف کا ساتھ دینگے ؟ یقیناً بہت مشکل بلکہ بعض معاملات میں ناممکن نظر آرہا ہے۔

تحریک انصاف کے اس اندرونی خلفشار کے دوران صوبائی حکومت کی سب سے بڑی حلیف پارٹی جماعت اسلامی نے بھی صوبائی حکومت پر نشتر چلانا شروع کردیئے سراج الحق نے تحریک انصاف کی حکومت کو ناکام ترین حکومت قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ صوبائی حکومت نے صوبے کو خصوصاً پشاور کو برباد کرکے رکھ دیا ،سراج الحق کے اس مختصر ترین بیان پر تحریک انصاف کی حکومت اور مرکزی قیادت بری طرح سیخ پا ہوگئی وزیر اعلیٰ کے ترجمان نے جماعت اسلامی کو آستین کا سانپ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کے وزراء صوبے کی ترقی کی راہ میں رکاؤٹ بنے رہے جماعت اسلامی نے 5 سال اقتدار کے مزے لوٹے اور اب اس کو خرابیاں نظر آنے لگی ہیں دوسری طرف مرکزی قیادت کے ترجمان فواد چوہدری نے جماعت اسلامی کو بنک آف خیبر کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی صوبائی حکومت پر الزامات بھی لگا رہی ہے اور وزارتوں کے ساتھ بھی چمٹی ہوئی ہے حیرانی کی بات ہے کہ خرابیاں نظر آنے کے بعد جماعت اسلامی اقتدار سے الگ کیوں نہیں ہوتی ،تحریک انصاف کے اندرونی خلفشار میں جماعت اسلامی کی دبنگ انٹری نے بحران کو مزید سنگین بنادیا وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی طرف سے ایوان میں اکثریت کھو دینا امر ہوچکا ہے۔

حزب اختلاف کو تحریک انصاف کی طرف سے بعض ایسے اشارے موصول ہوئے جس کے تحت وزیر اعلیٰ پرویز خٹک قبل از وقت اسمبلی تحلیل کرسکتے ہیں حزب اختلاف نے اسمبلی کی قبل از وقت تحلیل کو بچانے کیلئے تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں جمع کرانے کا فیصلہ کرلیا اسی مقصد کیلئے کے پی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کو یہ ٹاسک سونپ دیا گیا کہ وہ حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر تحریک عدم اعتماد جمع کرادیں چنانچہ مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی اس حوالے سے خاصے متحرک ہوچکے ہیں تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی طرف سے صوبائی بجٹ پیش نہ کرنے کا اعلان بھی اب اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے تحریک انصاف کو اندازہ ہوچکا تھا کہ ووٹوں کی خرید وفروخت پر ارکان کیخلاف کارروائی کے بعد پارٹی کے اندر بحران پیدا ہوا جس کے نتیجے میں بجٹ کا پیش کرنا اور اسمبلی سے منظوری کرانا ناممکن ہوجائیگا جبکہ یہ بات بھی طے ہے کہ ایم ایم اے میں شمولیت کے بعدجماعت اسلامی نے بجٹ سیشن سے قبل ہی حکومت سے علیحدگی اختیار کرنی ہے چنانچہ تحریک انصاف نے ایک نامعقول بہانہ بناکر بجٹ پیش کرنے سے انکار کردیا۔

صوبائی بجٹ پیش نہ کرنے کے فیصلے کے بعد عوامی ،تجارتی اور ملازم پیشہ طبقوں میں سخت بے چینی پھیل گئی خصوصاً سرکاری ملازمین یہ توقع کررہے تھے کہ صوبائی حکومت اپنے آخری بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافے کا اعلان کرے گی مگر اب ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا اب وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے پاس واحد آپشن یہی رہ گیا ہے کہ وہ بجٹ پیش کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنے کیلئے اسمبلی کو قبل از وقت تحلیل کردیں مگر کیا حزب اختلاف ان کو ایسا کرنے کا موقع دے گی ؟بہر حال فی الوقت صوبائی حکومت اپنی طاقت اور قوت بارے کچھ بھی دعوئے کرے، مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ بحران نے صوبائی حکومت کو غیر مستحکم اور مفلوج کرکے رکھ دیا ہے ،چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس ثاقب نثار نے بھی پشاور کا طوفانی دورہ کیا اس موقع پر عوامی حلقوں کی طرف سے چیف جسٹس کے سامنے مختلف سرکاری محکموں خصوصاً محکمہ صحت کے حوالے سے شکایات کے انبار لگا دیئے گئے چیف جسٹس نے پینے کے صاف پانی اور شعبہ صحت سمیت مختلف محکموں کی شکایات کے پیش نظر وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو طلب کیا جس پر موصوف چیف جسٹس کے سامنے پیش ہوئے تحریک انصاف والے دعویٰ کررہے ہیں کہ چیف جسٹس نے صوبائی حکومت کی کارکردگی کی تعریف کی جبکہ تحریک انصاف کے سوا دیگر تمام حلقوں کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس نے وزیر اعلیٰ کے سامنے گڈ گورننس کا سوال اٹھایا چیف جسٹس نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا بہر حال تحریک انصاف کے علاوہ دیگر حلقوں کے موقف میں وزن اور سچائی دکھائی دیتی ہے مگر اس کے باوجود دونوں طرف سے اپنے حق میں دعوؤں کا سلسلہ جاری ہے ۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...