تمام تر خدشات دعوؤں کے برعکس، نواز شریف، مریم نواز واپس احتساب عدالت میں پیش

تمام تر خدشات دعوؤں کے برعکس، نواز شریف، مریم نواز واپس احتساب عدالت میں پیش

  



تمام ترخدشات اورمخالفین کے دعوؤں کے باوجودکہ نوازشریف ،مریم نوازواپس نہیں آئیں گے کو غلط ثابت کرتے ہوئے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف اپنی بیٹی مریم نوازکے ہمراہ نہ صرف واپس آگئے بلکہ احتساب عدالت میں پیش بھی ہوئے پیر کے روز احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نوازشریف اوران کے بچوں کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں نیب کے ڈی جی آپریشنز ظاہرشاہ نے بطورگواہ اپنا بیان قلمبند کرایا،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کی،ڈی جی آپریشنز نیب ظاہر شاہ دستاویزات سمیت عدالت میں پیش ہوئے، بیان ریکارڈ کراتے ہوئے ظاہر شاہ نے بتایا کہ نیب ہیڈ کوارٹرز میں بطور ڈی جی آپریشنز کام کر رہا ہوں میں نیب کے بین الاقوامی تعاون کے امور کی نگرانی کرتا ہوں لندن فلیٹس ریفرنس میں نئی دستاویزات ملی ہیں ۔برطانیہ میں ہائی کمیشن کے نمائندے عثمان احمد کے ذریعے دستاویزات موصول ہوئی ہیں ۔ظاہر شاہ نے دستاویزات عدالت میں پیش کر دیں لندن فلیٹس کی آفیشل رجسٹرڈ کاپیاں عدالت میں پیش کی گئیں ۔ان میں فلیٹ نمبر سولہ، سولہ اے، سترہ اور سترہ اے کی دستاویزات شامل ہیں ۔ظاہر شاہ نے لندن فلیٹس کے پانی کے بل بھی عدالت میں پیش کر دیئے استغاثہ کے گواہ ظاہر شاہ کاایون فیلڈ ریفرنس میں بیان مکمل ہونے پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے گواہ پر جرح کی، ظاہر شاہ نے عدالت کو بتایا دستیاب دستاویزات میں میرے علم میں آیا کہ لندن فلیٹس نیلسن اور نیسکول کی ملکیت ہیں،گواہ نے بتایامیں نے جو دستاویزات یہاں پیش کیں ان کو ایک نظر دیکھاان دستاویزات میں حسن، حسین اور مریم نواز کا نام نظر نہیں آیاخواجہ حارث نے گواہ سے پوچھاآپ کی پیش کردہ دستاویزات میں نواز شریف کا نام بھی نہیں ۔گواہ نے بتایا آج یہاں پیش کردہ دستاویزات میں نواز شریف نام نہیں دیکھا، گواہ ظاہر شاہ پر خواجہ حارث کی جرح مکمل ہو گئی ہے ادھر وزیر مملکت برائے اطلاعات،نشریات مریم اورنگزیب کاکہنا تھا کہ محمد نواز شریف اپنی بیمار اہلیہ اور مریم نواز اپنی بیمار ماں کو چھوڑ کر دوبارہ عدالت میں پیش ہوئے ہیں،محمد نواز شریف جب بھی ملک سے باہر جاتے ہیں تو مخالفین خوش ہوجاتے ہیں ان کو لگتا ہے کہ شاید اب میاں صاحب واپس نہیں آئیں گے مگر ان کی توقعات پوری نہیں ہوتیں ،کرپشن کے ریکارڈ قائم کرنے والے لاڈلے کے کاغذات نیب عدالت سے گم ہوجاتے ہیں ،پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملہ کرنے والے دوسرے لاڈلے کو دہشت گردی کے کیسز میں ہر روز استثنا مل جاتا ہے لیکن ہفتے میں 7دن اور دن میں دو،دو مرتبہ عدالت میں پیش ہونے والے کو بیمار بیوی کی عیادت کے لئے استثنا نہیں ملتا، یہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں تو کیا ہے،ہمارے مخالفین سیاست نہیں کرتے بلکہ استثنا کے پیچھے چھپتے ہیں۔

آئندہ مالی سال 2018-19کے بجٹ کی آمد آمد ہے اس حوالے سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ، ریونیو و اقتصادی امور کااجلاس منعقد ہوا جس میں وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل نے بریفنگ دی انکا کہنا تھا کہ حکومت نے آئندہ مالی سال 2018-19ء کے بجٹ کی تیاری کے حوالے سے تمام شراکت داروں سے مشاورت کر لی ہے، نئے بجٹ میں اقتصادی استحکام اور نمو پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں تجاویز حاصل کی گئی ہیں، بجٹ سازی کا عمل جاری ہے اور امید ہے کہ بجٹ دستاویز آئندہ دو دنوں میں تیار ہو جائیں گی، حکومتی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھا جائے گا اور اس حوالے سے کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی جائے گی،انکا کہنا تھا کہ بجٹ پورے سال کیلئے گائیڈ لائنز فراہم کرتا ہے، یہ اگلی حکومت پر منحصر ہو گا کہ وہ اسی بجٹ پالیسی کو جاری رکھتی ہے یا اسے تبدیل کرتی ہے،انہوں نے بجٹ کو پری پول دھاندلی قرار دینے کے تاثر کو دو ٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت جاری منصوبوں پر فوکس کریگی۔

دوسری قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی خزانہ نے حکومتی ارکان کی عدم حاضری کے باعث ٹیکس ایمنسٹی اسکیم اکثریت سے مسترد کردی، کمیٹی میں موجود اپوزیشن ارکان نے متفقہ طور پر وفاقی وصوبائی حکومتوں سے چار ماہ کا بجٹ پیش کرنے کا مطالبہ کردیا،اس پر وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل کاکہنا تھا کہ سات لاکھ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ سے انتخابات پر اثر انداز نہیں ہوا جا سکتا ، ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا نئی حکومت پر کوئی دباؤ نہیں ہوگا ، کمیٹی میں موجود اپوزیشن ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ مسلم لیگ (ن) اپنے انتخابی منشور کا حصہ بنا سکتی ہے جو کہ کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے۔سیکرٹری خزانہ نور خان نے بجٹ پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ مالی سال کیلئے چار ماہ کا بجٹ بھی پیش کیا جا سکتا ہے ، قانونی طورپر اس کیلئے کوئی قدغن نہیں ہے ، اس معاملہ کا فیصلہ سیاسی قیادت نے کرنا ہے ،بجٹ میں اخراجات کا تخمینہ 3.2کھرب روپے لگایا گیا ہے ، اس وقت بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہوجاتا ہے،رواں مالی سال شرح نمو 6 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، فی الوقت شرح نمبر 5.8فیصد ہے ، فزیکل خسارہ4.1فیصد رہا ہے ، شرح غربت کنٹرول میں رہی ہے ، حکومتی ریو نیو کلیکشن 17فیصد ہے جو بہترین ہے ، امید ہے آئندہ سال کسی بھی قسم کا شارٹ فال نہیں آئے گا ۔وزیرمملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے بجٹ پیش نہ کرنے کوانکی نااہلی سے تعبیر کیاہے،انکا کہنا تھا کہ کے پی کے حکومت آئندہ سال کا بجٹ پیش نہ کر کے صوبے کے عوام کی حق تلفی کررہی ہے، عمران خان جواب دیں انہوں نے کس کے کہنے پر پارلیمنٹ میں ووٹ کاسٹ نہیں کیا،چوہدری سرور بھی جواب دیں کہ انہوں نے 44ووٹ کہاں سے اور کیسے لئے؟بکنے والوں کی جمہوری پارٹیوں میں کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ادھر تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے نوازشریف کو بھی سینٹ الیکشن کی تحقیقات کامشورہ د ے ڈالا ،انکا کہنا تھا کہ یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ سینیٹر سراج الحق اس وقت کس کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں،نوازشریف اورسینیٹر سراج الحق کا لہجہ ایک جیسا لگ رہاہے، چوہدری سرور نے مسلم لیگ ن کے ووٹ لیے ہیں تو نوازشریف بھی تحقیقات کریں۔مسلم لیگ ن بھی پی ٹی �آ ئی کی طرح اپنے ارکان کی نشاندہی کرکے کارروائی کرے ۔ چوہدری سرور کے ووٹ اوراسے ووٹ دینے والے سب کے سامنے ہیں۔صرف چھپانے اوربے ایمانی کے لئے نوازشریف باتیں کررہے ہیں ۔

عام انتخابات اب چند ماہ کی دوری پر ہیں اس حوالے سے الیکشن کمیشن بھی تیاریوں میں مصروف ہے الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 2018کیلئے پولنگ آفیسر ز اور اسسٹنٹ پریزائیڈنگ آفیسرز کی ٹریننگ کا آغاز کر دیاہے ، ٹریننگ 12مئی 2018ء تک چاروں صوبوں بشموں فاٹا اور اسلام آباد میں جاری رہے گی جس میں تقریبا 7 لاکھ پولنگ عملے کی تربیت دی جائے گی۔ آخری مرحلہ میں تقریباً 178000 پریزائیڈنگ اور سینئر اسسٹنٹ پریزائنڈنگ آفیسرز کی تربیت ہوگی جوکہ 25 جون 2018ء سے شروع ہوکر 15 جولائی 2018ء کو اختتام پذیر ہوگی۔ 2018ء کے عام انتخابات کیلئے اس مرحلہ وار تربیت کی شروعات 5 مارچ 2018ء سے ہوگئی تھی جسکے پہلے مرحلے میں 84 لیڈیزینرز کو چاروں صوبوں میں صوبائی سطح پر تربیت دی گئی تھی۔ جنہوں نے دوسرے مرحلے میں ملک بھر سے منتخب شدہ 3000 ماسٹر ٹرینرز کو تربیت فراہم کیں۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...