بلاول بھٹو کی حکمران جماعت پر سخت تنقید، محترمہ کی شہادت کا انصاف مانگا

بلاول بھٹو کی حکمران جماعت پر سخت تنقید، محترمہ کی شہادت کا انصاف مانگا

  



پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں شہباز شریف نے کراچی میں بجلی کے بحران کا ذمہ دار ’’کے الیکٹرک‘‘ کو قرار دے دیا ہے لیکن پنجاب خصوصاً جنوبی پنجاب میں جو لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اس بارے میں وہ قطعاً خاموش ہیں، بلدیہ ٹاؤن کراچی کے الفتح گراؤنڈ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایک مرتبہ پھر یہ دعویٰ کر دیا کہ آنے والے رمضان المبارک میں کراچی کو بلا تاخیر مسلسل بجلی ملنی چاہیے لیکن انہوں نے یہ بات کس سے مطالبے میں کہی اس کا ذکر نہیں، حالانکہ بجلی کا معاملہ تو وفاق کے پاس ہے اور وفاق میں ظاہر ہے کہ ان کے ’’اپنی‘‘ حکومت ہے اور اگر حکومت ان کی اپنی ہے تو پھر پارٹی سربراہ کی حیثیت سے وہ وزیر اعظم پاکستان سے مبہم مطالبہ نہیں بلکہ عملی طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے 2013 میں جو وعدے کئے تھے اب انہیں پورا کرتے ہوئے کراچی سمیت ملک بھر میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے مگر اس کا کیا کہیے کہ یہ تو سیاست ہے اور یہاں سیاست میں سب چلتا ہے اور بجلی کے بحران کو عوام نے جبر مسلسل کی طرح برداشت کرنا ہے لیکن کب تک یہ بات ابھی واضح نہیں ہوئی کیونکہ اس وقت تمام سیاستدانوں کا بیانیہ ایک دوسرے کے ’’لتے‘‘ لینے اور الزام تراشیاں اور ایک دوسرے کے پول کھولنے کا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ میاں شہباز شریف نے کراچی میں بلاول ہاؤس اور بنی گالا کو ہم پیالہ اور ہم نوالہ قرار دے دیا ہے اور عوام سے اپیل بھی کر دی ہے کہ وہ ان کے دھوکے میں نہ آئیں کیونکہ ہم یعنی مسلم لیگ ن کراچی کو نیو یارک بنا دے گی کراچی میں ایک نہیں کئی میٹرو چلیں گی ہم اس شہر کوعروس البلاد بنانے کے لئے مل جل کر کام کریں گے کیونکہ کراچی کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے تاہم وزیر اعلیٰ پنجاب نے یہاں اے این پی اور متحدہ کے ایک ایک نمائندہ وفد سے بھی بات چیت کی۔

ادھر پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے جو مختصر دورے پر ملتان میں سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے برادر نسبتی مخدوم وجاہت حسین گیلانی کی وفات پر فاتحہ خوانی کے لئے آئے تھے میڈیا سے گفتگو میں میاں شہباز شریف کی کراچی میں تقریر اور گفتگو کا سخت الفاظ میں جواب دیا اور انہیں ڈرامہ باز قرار دے دیا اور میاں نواز شریف کو سازشی کا لقب عطا کر دیا اور یہ بھی دہائی دی کہ میری ماں کو شہید ہوئے 10 سال ہو گئے ہیں مگر ہمیں آج تک انصاف نہیں مل سکا میاں نواز شریف دور آمریت میں ڈکٹیشن لیکر سازش کرتے رہے انہوں نے اپنے ساتھیوں کے خلاف بھی سازش کی، میاں شہباز شریف کو کراچی کا دورہ کر کے شرم آنی چاہیے کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں مینار پاکستان پر مظاہرہ کرتے تھے، آج انہیں ویسے ہی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کرنا چاہیے آج انہیں اپنا صوبہ یاد آنا چاہیے کیونکہ بجلی کی فراہمی وفاق کی ذمہ داری ہے بلاول بھٹو زرداری نے جوش خطابت میں چیف جسٹس آف پاکستان پر سخت تنقید کر دی اور واضح کیا کہ وہ جو جی میں آئے کریں لیکن دس لاکھ سے زیادہ زیر التوا مقدمات کو بھی فیصلوں تک پہنچائیں اب چیف جسٹس آف پاکستان ان کی بات پر کان دھرتے ہیں کہ نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکے گا لیکن بلاول بھٹو زرداری نے جنوبی پنجاب صوبہ بناؤ محاذ کے قیام کو تسلیم کرتے ہوئے ان سے مذاکرات پر بھی آمادگی کا اظہار کیا ہے جبکہ پشتونوں کو لاہور میں جلسہ کرنے کی اجازت نہ دینے پر سخت تنقید بھی کی اور اسے غیر جمہوری ہتھکنڈہ قرار دیا نوجوان بلاول کی تنقید اور تقلید دونوں بجا مگر انہیں اس بات کا بھی ادراک ہونا چاہیے کہ اپنی والدہ کے قتل کے انصاف کا پیریڈ جو دس سال بتا رہے ہیں اس کے پہلے پانچ سالوں میں ان کی اپنی پارٹی کی حکومت رہی ہے بلکہ ان کے والد صدر مملکت اور سید یوسف رضا گیلانی جن کے گھر وہ پریس کانفرنس کر رہے تھے، وزیر اعظم رہے ہیں اگر وہ اپنے دور اقتدار میں اپنے آپ کو انصاف نہیں دلا سکے توکسی اور کی حکومت سے کیا توقع کرتے ہیں اس کا انہیں احساس کرنا ہو گا محض سیاسی بیانات کی برتری سے اب کچھ نہیں ہونے والا اور شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے وفاق کی علامت کہلانے والی پارٹی کے سربراہ ہونے کے باوجود ایک انتہائی نو وارد اور ایک معمولی محاذ کو بھی مذاکرات کی دعوت دے ڈالی کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کم از کم جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی کا سیاسی دیوالیہ نکل چکا ہے جو کم از کم آنے والے انتخابات میں کسی طور پر واپس نہیں ہو پائے گا لیکن یہ سیاسی بصیرت انہیں کون دے گا اس کے لئے کسی بڑے سیاسی پنڈت کا انتظار کرنا پڑے گا دوسری طرف بلاول بھٹو زرداری نے سید یوسف رضا گیلانی اور مخدوم وجاہت گیلانی کے صاحبزادوں سے تعزیت کی۔

واضح رہے کہ دربار حضرت موسیٰ پاک شہید کے سجادہ نشین مخدوم وجاہت حسین گیلانی جو سید یوسف رضا گیلانی کے برادر نسبتی اور سابق وفاقی وزیر مخدوم سید تنویر گیلانی کے بھائی تھے علالت کے باعث انتقال کر گئے جن کی تعزیت کے لئے ملک بھر سے عمائدین کی ایک بڑی تعداد یہاں آئی جن میں گورنر پنجاب ملک رفیق رجوانہ سمیت دوسری حکومتی شخصیات بھی شامل تھیں ان کی قل خوانی میں ملک بھر سے علماء اور مشائخ نے شرکت کی اور ان کے بڑے صاحبزادے مخدوم ابوالحسن گیلانی کو دربار کا سجادہ نشین بھی مقرر کیا گیا دوسری طرف جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی رانا قاسم نے بھی یہاں میڈیا سے بات چیت کی جس میں انہوں نے یہ عندیہ دیا کہ جو بھی سیاسی جماعت جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی بات کرے گی یہ محاذ اس سیاسی جماعت کے ساتھ سیاسی الحاق و اتحاد کر سکتا ہے چاہے وہ ن لیگ ہی کیوں نہ ہو انہوں نے اس موقعہ پر جنوبی پنجاب کی محرومیوں کا خاصا رونا بھی رویا اور سیاسی جماعتوں پر تنقید بھی کی جو سرائیکی صوبہ بنانے کا نعرہ لگاتی رہیں انہوں نے خاص طور پر پیپلز پارٹی پر تنقید کی اور کہا کہ ان کے پاس اکثریت ہونے کے باوجود صوبے کے قیام کا بل نہیں پاس کرایا گیا تاہم اب ہم سرائیکی جماعتوں کے ساتھ بھی مذاکرات کریں گے اور ایک واضح پالیسی کے تحت صوبے کے قیام کی جدوجہد کریں گے تاہم انہوں نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی طرف سے نئے صوبے کے حوالے مل جل کر بات چیت کرنے پر کوئی جواب نہیں دیا البتہ یہ کہا ہم ان کے ساتھ چلیں گے جو آئندہ انتخابات کے بعد نوے دن کے اندر صوبہ بنائیں گے محاذ قائم کرنے والوں کو شاید اس بات کا ادراک نہیں ہے کہ اس وقت تقریباً تمام بڑی چھوٹی سیاسی جماعتیں جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے مطالبے پر متفق ہیں جس کے لئے انہوں نے اپنے اپنے منشور کا بھی اس کو حصہ بنایا ہے اس میں پیپلز پارٹی تو سر فہرست ہے جبکہ تحریک انصاف نے بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے حق میں ہے اور اس مطالبے کو اپنے منشور میں شامل کر رہے ہیں ن لیگ ایک نہیں دو صوبوں کے قیام کی بات کرتی ہے جبکہ باقی علاقائی اور قومی سطح کی سیاسی جماعتیں بھی واضح کر چکی ہیں کہ سرائیکی صوبہ یا جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنا دیا جائے اب ایسی صورتحال میں جنوبی پنجاب صوبہ بناؤ محاذ کی سیاسی حیثیت کیا ہو گی اور وہ کس حد تک ووٹرز کو اپنے حق میں قائل کر سکے گا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے البتہ یہ سمجھ ضرور آتی ہے کہ کوئی نہ کوئی تو اس محاذ کا ولی وارث ہو گا ہی ورنہ یہ محاذ کیسے بن سکتا ہے آخر آئی جے آئی اور ایم کیو ایم کو بھی تو کسی نہ کسی نے طاقت ور بنایا تھا اگلے انتخابات تک اس کو دیکھنا ہو گا کہ تیل کی دھار کیسی ہو گی۔

ادھر پنجاب حکومت کی جانب سے گندم خریداری مہم میں انوکھی پالیسی متعارف کرائی گئی جس میں 10 ایکڑ تک کے کاشت کاروں سے باردانہ تقسیم کرنے کے لئے درخواستیں طلب کی گئی ہیں مگر ابھی تک خریداری کا عمل شروع نہیں ہو سکا ادھر گندم کی نقل و حمل پر بھی پابندی ختم کر دی گئی ہے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ گنے کی کاشت کی طرح اس مرتبہ پھر گندم کی خریداری کے ساتھ وہی سلوک ہو گا جو گذشتہ سالوں سے جاری ہے کاشت کار استحصال میں رہے گا جبکہ مڈل مین اور بیوپاری اس کا تمام اصل زر کھا جائے گا لیکن یہ واضح رہے کہ اس کی تمام تر ذمہ داری پنجاب حکومت اور اس کی انتظامیہ پر ہو گی۔

مجلس احرار اسلام پاکستان کے امیر سید عطاء المومن شاہ بخاری بھی خالق حقیقی سے جا ملے وہ مجلس احرار اسلام کے بانی سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے فرزند اور ایک جید عالم دین تھے جن کی نماز جنازہ یہاں سپورٹس گراؤنڈ میں ادا کی گئی ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ نمازہ جنازہ کیلئے پورا سپورٹس گراؤنڈ بھر گیا تو لوگوں نے سڑک اور فلائی اوور پر ہی صفیں باندھ لیں اسی طرح جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی نائب امیر جامعہ ہدایت القرآن کے بانی اور مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم کے قریبی ساتھی مولانا ہدایت اللہ پسروری بھی انتقال کر گئے جن کی نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اس طرح ملتان میں ایک ہفتے کے دوران تین بڑی مذہبی شخصیات داعی اجل کو لبیک کہہ گئیں اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے (آمین)

مزید : ایڈیشن 2