ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ،ینگ ڈاکٹرز،وارڈ سرونٹ کے درمیان تنازع شدت اختیار کرگیا

ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ،ینگ ڈاکٹرز،وارڈ سرونٹ کے درمیان تنازع شدت اختیار کرگیا

  



ڈیرہ غازیخان(نمائندہ خصوصی)ٹیچنگ ہسپتال میںینگ ڈاکٹرز اور وارڈ سرونٹ کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کرگیا،انکوائری کے دوران ایم ایس کے دفتر میں وارڈ بوائے پر ڈاکٹرز کا بہیمانہ تشدد ، ایم ایس کا دفتر میدان جنگ بن گیاتفصیلات کے مطابق ٹیچنگ ہسپتال کے ٹراما سنٹر میں تعینات(بقیہ نمبر19صفحہ12پر )

ڈیوٹی ڈاکٹر سلیم اختر اور وارڈ سرونٹ شہباز احمد کے درمیان معمولی توں تکرار کے بعد ہاتھا پائی کا واقعہ رونما ہوا جس کے بعد ینگ ڈاکٹر ز نے احتجاج کرتے ہوئے کام چھوڑ دیا اور وارڈ سرونٹ کو فوری طور پر نوکری سے برخاست کرنے سمیت انکوائری کا مطالبہ کیااور اس کے ساتھ ہی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے مکمل طور پر او پی ڈی کا بائیکاٹ کردیاجس کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہاواقعہ کا فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے ایم ایس ڈاکٹر عتیق الرحمن چشتی نے انکوائری کے احکامات جاری کرتے ہوئے شہباز احمد کو نوکری سے معطل کردیا گزشتہ روز ایم ایس کے دفتر میں شہباز احمد کی انکوائری کا سلسلہ جاری تھاکہ انکوائری میں موجود ینگ ڈاکٹر ز نے طیش میں آکر شہباز احمد پرتشد د شروع کردیا جس سے وہ شدیدزخمی ہو گیا ایم ایس آفس میں موجود سینئر ڈاکٹرز اور پی ایم اے کے صدرڈاکٹر عبدالرحمن عامرنے معاملے کو رفع دفع کرانے کی کوشش کی لیکن مشتعل ینگ ڈاکٹرز نے ایم ایس کے دفتر سے باہر نکل کر شدید نعرے بازی کرنے کے بعد مکمل ہٹرتال کی کال دے دی جبکہ پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر معاملات کو کنٹرول کرلیا، جبکہ دوسری طرف درجہ چہارم کے ملازمین نے بھی شہباز احمد کے حق میں ریلی نکالنے کے بعد شدید احتجاج کیااور کام کرنے سے انکارکر دیاجبکہ درجہ چہارم کے ملازمین کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر سلیم اختر سمیت ینگ ڈاکٹرز کا رویہ ان کے ساتھ ہمیشہ نہایت ہی ہتک آمیز رہتا تھا،جبکہ ینگ ڈاکٹر ز کا کہنا تھا کہ شہباز احمد نے ڈاکٹر سلیم کے ساتھ بدتمیزی کی ،واقعہ کی اطلا ع ملتے ہی وفاقی وزیرمواصلات حافظ عبدالکریم نے فوری طور پر ڈپٹی کمشنر محمد ابراہیم جنید کو معاملے کی چھان بین کر کے حل کرنے کی ہدایت کی ڈپٹی کمشنر ابراہیم جنید نے ایم ایس ڈاکٹر عتق الرحمن چشتی کو اپنے دفتر میں طلب کرکے دونوں فریقین کے حالات جاننے کے بعد قانونی کاروائی کا حکم دے دیا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...