ایون فیلڈ ریفرنس ، استغاثہ کے گواہ ڈی جی نیب آپریشنز ظاہر شاہ پر جرح مکمل

ایون فیلڈ ریفرنس ، استغاثہ کے گواہ ڈی جی نیب آپریشنز ظاہر شاہ پر جرح مکمل

  



اسلام آباد (آئی این پی)احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن(ر)صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ ڈی جی نیب آپریشنز ظاہر شاہ پر جر ح مکمل کرلی گئی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں ظاہر شاہ پر خواجہ حارث نے جرح شروع کر دی جو( آج) بھی جاری رہے گی،ظاہر شاہ نے فلیگ شپ ریفرنس سے متعلق کمپنی ہاؤس ریکارڈ کی تصدیق شدہ کاپیاں عدالت میں پیش کر دی ہیں،دوران جرح نیب پراسیکیوٹر کی طرف سے گواہ کو لقمہ دینے پر مریم نواز کے وکیل برہم ہو گئے اور انہوں نے نیب پراسیکیوٹر افضل قریشی کوکہا کہ آپ خاموش رہیں،فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت (آج)بدھ کی سہ پہر 2 بجے تک ملتوی کردی۔منگل کو احتساب عدالت اسلام آباد میں شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت جج محمد بشیر نے کی ۔عدالت میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر)صفدر پیش ہوئے۔ احتساب عدالت میں مریم نواز کے وکیل امجد پرویز کی استغاثہ کے گواہ ظاہر شاہ پر جرح کی ،ظاہر شاہ نے عدالت کو بتایا والیم ٹین کی کاپی رجسٹرار سپریم کورٹ کے خط کے ذریعے حاصل کی سپریم کورٹ سے والیم ٹین متعلقہ کوآرڈی نیشن آفیسر نے وصول کیا تھانیب پراسیکیوشن ونگ نے والیم ٹین کے حصول کیلئے سپریم کورٹ کو خط لکھا تھانیب نے سپریم کورٹ میں والیم دس وصول کرنیکی رسییونگ نہیں دی والیم 10 کا متعلقہ حصہ تفتیشی افسر کے علاوہ کسی کے ساتھ شئیر نہیں کیا ۔امجد پرویز نے گواہ سے پوچھا کہ کیا آپ کے علم میں ہے کہ والیم 10 کی کچھ دستاویزات میڈیا پر چلتی رہیں، 27مئی 2017 کے ایم ایل اے کا ریفرنس نمبر کیا ہے؟ جس پر گواہ نے جواب دیاکہ میں میڈیا بہت کم دیکھتا ہوں ، میرے علم میں نہیں اور نہ ہی مجھے ریفرنس نمبر یادہے، نیب پراسیکیوٹر اور امجد پرویز کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، امجد پرویز نے کہاپراسیکیوٹر صاحب آپ گواہ کو کیوں بتا رہے ہیں،گواہ پر میری جرح شروع ہے، آپ اس سے بات نہیں کر سکتے، جس پر نیب پراسیکیوٹر افضل قریشی نے کہاکہ میں کچھ نہیں بتا رہا صرف تاریخ کے بارے میں بتایا ہے فلیگ شپ ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ ظاہر شاہ نے بیان قلمبند کروایا اور فلیگ شپ سے متعلق کمپنی ہا ؤ س ریکارڈ کی تصدیق شدہ کاپیاں عدالت میں پیش کر دیں کمپنی کی سالانہ آمدن کا ریکارڈ بھی عدالت میں جمع کوئنٹ سیلون لمیٹڈ کے میمورنڈم اور سالانہ آمدن کی تفصیلات عدالت میں پیش کوئنٹ سیلون لمیٹڈ کے سابق اور موجودہ شئیر ہولڈرز کی تفصیلات پیش کر دی گئی۔فلیگ شپ ریفرنس میں بیان قلمبند ہونے کے بعد خواجہ حارث کی جانب سے گواہ کے بیان پر جرح کی گئی، خواجہ حارث نے گواہ سے پوچھاکہ والیم ٹین کے مخصوص پورشن آپ کو سپریم کورٹ سے موصول ہوئے کیا یہ بتا سکتے ہیں کہ کس فارم میں ملا؟جس پر گواہ نے جواب دیاکہ والیم ٹین بانڈ فارم میں موصول ہوئے متعلقہ تفتیشی افسران کو والیم ٹین کے پورشن بھیجے تھے دو الگ الگ ریجن لاہور اور راولپنڈی کے ریجن میں بھیجے تھے اس وقت 6 ایم ایل اے موجود ہیں یو کے سینڑل اتھارٹی کو نیب کی جانب سے ان کی آبزرویشن کے رسپانس دیا گیا یو کے سنڑل اتھارٹی کو نیب کی جانب سے کوئی دستاویزات فراہم نہیں کی گئی۔ خواجہ حارث کی گواہ ظاہر شاہ پر جرح مکمل نہ ہو سکی۔ عدالت نے گواہ ظاہر شاہ کو دستاویزات حاصل کرنے کے لئے لکھی گئی ایم ایل اے کی اصل کاپیاں پیش کرنے کی ہدایت کر تے ہوئے فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت (آج)بدھ کی سہ پہر 2 بجے تک ملتوی کردی۔

مزید : صفحہ آخر


loading...