لو میرج کے رجحان سے اخلاقی اقدار متاثر ہورہی ہیں: ہائیکورٹ

لو میرج کے رجحان سے اخلاقی اقدار متاثر ہورہی ہیں: ہائیکورٹ

  



لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائی کورٹ نے قراردیا ہے کہ لومیرج کے رجحان سے ہماری اخلاقی اقدار متاثر ہورہی ہیں ،پسند کی شادی کے بعد لڑکیاں اپنے ہی والدین کے خلاف کیس کردیتی ہیں کہ انہیں اور ان کے شوہر کو تنگ کیا جا رہاہے۔ یہ وقت ہے کہ عدالتیں اس برائی کی طرف دھیان دیں۔مسٹر جسٹس قاسم علی خان نے یہ آبزرویشن حیدر عباس بھنڈر کی درخواست مسترد کرتے ہوئے جاری کی ہے ۔درخواست گزار نے اپنی بیوی نائلہ شہزادی کی اس کے والدین کے گھرسے بازیابی کے لئے درخواست دائر کی تھی۔فاضل جج نے اپنے تحریری حکم میں قراردیا ہے کہ موجودہ دور میں ایک معمول بن چکا ہے کہ لڑکیاں کچھ دیر کے لئے بہانے سے گھر سے نکلتی ہیں اور اپنے والدین کے بغیر شادی کرکے گھر واپس چلی جاتی ہیں اور پھر ان کا شوہر بیوی کی بازیابی کے لئے درخواست دائر کردیتا ہے ،لڑکیوں اور ان کے والدین کے درمیان قانونی جنگ کا یہ سلسلہ پھر طوالت اختیار کرلیتاہے، لڑکیوں کے اس طرح لومیرج کرنے سے نہ صرف ہماری نوجوان نسل خراب ہو رہی ہے بلکہ ہماری اخلاقی اقدار بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

مزید : صفحہ آخر


loading...