پاکستان اور بھارت کی رکنیت کے بعد شنگھائی تعاون تنظیم کی اہمیت میں اضافہ

پاکستان اور بھارت کی رکنیت کے بعد شنگھائی تعاون تنظیم کی اہمیت میں اضافہ

  



بیجنگ(آئی این پی )پاکستان اور بھارت کے شنگھائی تعاون تنظیم ( ایس سی او)کا مستقل رکن بننے کے بعد علاقائی سلامتی کے پس منظر میں اس کی اہمیت میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے۔یہ توقع کی جا رہی تھی کہ دونوں ممالک اس پلیٹ فارم کو باہمی سیکیورٹی خدشات کیلئے استعمال کریں گے اور اس پر دوطرفہ تنازعات زیر بحث نہیں لائے جائیں گے تا کہ خطے میں امن اور سلامتی کو فروغ دیا جا سکے۔دریں اثناء صدر شی جن پھنگ نے ایس سی او رکن ممالک پر زوردیا ہے کہ وہ اپنے حقیقی جذبے کے ساتھ منسلک رہیں اور تمام شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھائیں،خاص طور پر علاقائی امن اور سلامتی کے فروغ کیلئے مل کر کام کریں۔ صدر شی نے ان خیالات کا اظہار عظیم عوامی ہال بیجنگ میں ایس سی او کے رکن ممالک کے سینئر سفارتکاروں کے اجلاس میں کیا ۔ اجلاس کے بعد صدر شی نے ان ممالک کے وزراء سے بھی ملاقات کی تھی، پاکستان اور بھارت کا مکمل رکن بننے کے بعد ایس سی او کے وزرائے خارجہ کا یہ پہلا غیر رسمی اجلاس تھا۔ اب شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس جون میں شان ڈانگ صوبے کے شہر کنگ ڈا میں منعقد ہوگی، اس کے ارکان میں توسیع کے بعد اس کا اپنی طرز کا یہ پہلا اجلاس ہوگا۔ صدر شی نے سینئر سفارتکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی اور علاقائی صورتحال پیچیدہ ہے۔ اس کے عناصر غیر مستحکم اور غیر یقینی ہیں اس لئے ایس سی او کے رکن ممالک کو تمام اقوام کی توقعات پر پورا اترنے کیلئے حقیقی کوششیں کرنی چاہئیں۔ اجلاس کے دوران روس ، کرغزستان ، بھارت اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے بھی اظہار خیال کیا۔

شنگھائی تعاون تنظیم

مزید : علاقائی