پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے پی ایس او میں ڈائریکٹ بھرتیوں کے احکامات جاری

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے پی ایس او میں ڈائریکٹ بھرتیوں کے احکامات جاری

  



اسلام آباد(آئی این پی) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پاکستان اسٹیٹ آئل میں ٹھیکیدار کے ذریعے بھرتیوں کو خلاف ضابطہ قرار دیتے ہوئے محکمے کو ڈائریکٹ بھرتیوں کے احکامات جاری کر دئے۔خلاف ضابطہ بھرتیوں کے ذریعے ٹھیکیداروں کو42کروڑ سے زائد روپے کی ادائیگی کرنے پر پی اے سی شدید برہم ۔تفصیلات کے مطابق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا جس میں وزارت پیٹرولیم ڈویژن کے مالی سال 2016۔17 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔پاکستان اسٹیٹ آئل کے حکام نے بتایا کہ اخبارمیں اشتہار کے ذریعے تین پارٹیوں کے ذریعے ملازمین سیکورٹی کیلئے لئے گئے جن میں ایک کمپنی بعد میں بلیک لسٹ کر دی گئی۔ سپریم کورٹ کے حکم پر 210ملازمین کو ریگولر کر دیا گیا جبکہ ابھی 70ملازمین کو باقاعدہ نہیں کئے گے ۔ایم ڈی نے کہاکہ ہم پی ایس او میں خریداریوں کے حوالے سے پیپرا قواعد کی پابندی کرتے ہیں۔ پی ایس او میں ایک ریکروٹنگ کمپنی کے ذریعے بھرتیوں کے غیر شفاف معاملات پر پی اے سی نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ان ملازمین کو خلاف ضابطہ 42 کروڑ 28 لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگی کی گئی۔جس پر ایم ڈی نے بتایا کہ 2001 میں بھرتیاں کی گئیں اور کمپنی کی کارکردگی 2009 سے خراب ہوئی اور دیوالیہ ہوئی۔ 2010 سے ہم پیپرا قوانین پر عمل کر رہے ہیں اب تھرڈ پارٹی کا نظام ختم ہو چکا ہے ، اب سروسز کنٹریکٹ کا نظام چل رہا ہے ، ملازمین کو مستقل کرنے سے بوجھ پڑے گاملازمین کو ایک کروڑ بارہ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے ۔رکن کمیٹی عاشق گوپانگ نے کہاکہ ا پیپرا قوانین 2004 میں بنے کیوں عمل نہیں کیا۔ پی اے سی نے ملازمین کو مستقل کرنے کی ہدایت کر تے ہوئے کہا کہ وزارت پیٹرولیم کے جن محکموں میں تھرڈ پارٹی سسٹم ہے ، اس کی تفصیلات کمیٹی کو دی جائیں ، وزارتوں سے تھرڈ پارٹی نظام کے ذریعے بھرتیاں ختم کی جائیں۔ پی اے سی نے سوئی سدرن گیس ، پاکستان اوورسیز کے معاملات کو سیٹل کر دیا۔

مزید : علاقائی