عمران خان بہت بڑی وکٹ گرانے کا دعویٰ

عمران خان بہت بڑی وکٹ گرانے کا دعویٰ

  



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ’بہت بڑی زبردست وکٹ‘ گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ گزشتہ روزعمران خان نے لاہور کے اند ر و ن شہر میں مختلف مقامات پر ممبر سازی کیمپس کا دورہ ، کارکنوں سے خطاب کرنا تھا لیکن وہ داتا دربار پر حاضری کے بعد سکیورٹی خدشات کے باعث اسلام آباد کیلئے روانہ ہوگئے ۔اس موقع پر ان کا کہنا تھا ایک بہت بڑی زبر د ست وکٹ گرنے والی ہے، جس کے بعد صحافی نے سوال کیا کیا چوہدری نثار پی ٹی آئی میں شامل ہورہے ہیں؟ جس کے جواب میں انہوں نے کہا میں ابھی یہ نہیں بتاؤں گا،عمران خان کے جواب پر صحافی نے ایک مرتبہ پھر سوال کیا آپ کے چہرے پر خوشی بتارہی ہے چو ہد ر ی نثار پی ٹی آئی میں آرہے ہیں،تاہم جواب میں پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا 29 اپریل کے بعد سیلاب سونامی پلس بننے والا ہے، ایک عوام کی سونامی اور دوسری پی ٹی آئی میں سونامی آنیوالی ہے۔ سکیورٹی خدشات کے باعث چیئرمین تحریک انصاف عمران خان دورہ اندرون لاہور منسوخ کے بعد اب اندرون شہر کا دورہ برائے ممبر سازی چودھری سرور کریں گے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان رنگ روڈ کے را ستے ائیر پو ر ٹ کیلئے روانہ ہوئے۔قبل ازیں عمران خان گزشتہ صبح تقر یبا آٹھ بجے لاہور پہنچے اور گریٹر اقبال پارک میں انتیس اپریل کو منعقد کئے جا نیو ا لے جلسہ میں شرکت کے حوالے سے اہل لاہور کو متحرک کرنے کیلئے باقاعدہ اپنی رابطہ مہم کا آغاز کیا،سب سے پہلے انہوں نے مزار داتا د ر با ر پر حاضری دی ،پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کے بعد ملک کی سلامتی و استحکام کیلئے دعا کی اور عوامی رابطہ مہم کا آ غاز کرتے ہوئے ریلی کی قیادت کی،بھاٹی چوک میں موجود پارٹی ورکروں سے مختصر خطاب کیا،پھربالترتیب شاہ عالم چوک،شیرانوالہ گیٹ ،موچی دروازہ میں قائم پارٹی کی رکنیت سازی کے کیمپوں کے دورے کئے اور وہاں پر موجود پارٹی ورکروں سے اظہار خیال کیا، تاہم اچانک سکیورٹی وجو ہات کی بنا پر اپنی مزید سیاسی سرگرمیاں منسوخ کر کے اسلام آباد روانہ ہو گئے، اس سے قبل چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کی سالانہ سوشل ریسپانسبلیٹی ایوارڈکی تقریب میں چیئرمین بورڈ آف گورنرز شوکت خانم میموریل ٹرسٹ کی حیثیت سے بطورمہمانِ خصوصی شرکت کی جہاں اپنے خطاب میں انکا کہنا تھا عوام کو حکومت پر اعتماد نہیں جس کی وجہ سے کوئی ٹیکس نہیں دیتا، لیکن جب ملک کو عظیم بنانے میں پیسہ لگے گا تو قوم خود ٹیکس دے گی ،انکا مزید کہنا تھا اللہ ہر کسی کو زندگی بدلنے کا ایک موقع ضرور دیتا ہے اور والدہ کی کینسر کی بیماری نے مجھے بدلہ کیونکہ پاکستان میں کینسر کا کوئی ہسپتال نہیں تھا،والدہ کی بیماری کے دوران ہسپتالوں کو دیکھنے کا موقع ملا اورانکی حالت زار دیکھ کر انتہائی دکھ ہواکہ غریب کیلئے کینسر کا علاج کرانا نا ممکن اور وہ اس مہنگے علاج کیلئے سب کچھ بیچ دیتا ہے جبکہ رشتے دار کو علاج کیلئے بیرون ملک لیجانامشکل کام ہے۔عمران خان کا کہنا تھا ایک دور میں پاکستان ترقی کی شاہراہ پر گامزن تھا اور بر صغیر میں ہم سب سے آ گے تھے ، بھارت میں کرکٹ کھیل کر پاکستان واپس آتا تھا تو لگتا تھا غریب ملک سے امیر ملک میں آگیا ہوں لیکن اب وہ بھی ہم سے آ گے نکل گئے ہیں۔ پاکستان کے عوام ملک کی اصل طاقت ہیں لیکن جو پیسہ غریبوں پرخرچ ہونا تھا وہ محلات پر خرچ کیا گیااسلئے ہمیں ایسی حکو مت لانی ہے جو عوام کا پیسہ ان پر ہی خرچ کرے ۔ عمران خان نے امریکی صدر پر تنقید کرتے ہوئے کہا ٹرمپ جیسے لوگوں کا مقصد صرف پیسہ بنانا ہوتا ہے۔شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کی جانب سے سال 2017میں ہسپتال کے ساتھ نمایاں تعاون کرنے والے کاروباری اداروں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے سوشل ریسپانسیبیلیٹی ایوارڈ کی تقریب لاہور کے ایک مقامی ہو ٹل میں منعقد کی گئی، جس میں ملک کی بزنس کمیونٹی کی معروف شخصیات اور کارپوریٹ سیکٹر کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔عمران خان تھے۔ خطاب میں عمران خان کا مزید کہنا تھا شوکت خانم ہسپتال ایک ایسا فلاحی ادارہ ہے جس پر لوگوں کا اعتماد گزرتے وقت کیساتھ بڑھتا گیا ہے۔ اگرچہ ابتداء میں ہمیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن لوگوں کے بے پناہ جذبے کی بدولت نا صرف لاہور میں یہ ہسپتال بنا اور پچھلے 23سال سے کامیابی سے چل رہا ہے بلکہ لاہور کے بعد پشاور کا شوکت خانم ہسپتال بھی عوامی خدمت کے دو سال مکمل کر چکا ہے اور یہ سلسلہ یہاں نہیں رکا بلکہ انشااللہ اسی سال کراچی میں پاکستان کے تیسرے شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز ہو جائے گا۔ پاکستانی دنیا میں سب سے زیادہ عطیات و خیرات دینے والی پانچویں بڑی قوم ہے اگر عوام کو کسی ادارے کی کارکردگی پر اعتماد ہو تو یہ اپنے عطیات سے اس کی ایسے مدد کرتے ہیں جس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی ۔ 1994میں شوکت خانم ہسپتال 70کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہو ا تھا اور اب یہا ں سالانہ 6ارب روپے غریب مریضوں کے علاج پر خرچ کیے جاتے ہیں شوکت خانم کے علاوہ دنیا میں کہیں بھی کوئی کینسر ہسپتا ل 75فیصد مریضوں کا علاج مفت نہیں کرتا۔ انہوں نے حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا یہ ہسپتال آپ لوگوں نے بنایا تھا آپ ہی اسے چلا رہے ہیں اور امید ہے مستقبل میں بھی آپ لوگ ہی اسکے ساتھ ایسے ہی تعاون کرتے رہیں گے۔اس موقع پر شوکت خانم کینسر ہسپتال کی اسوسئیٹ ڈائریکٹر مارکیٹنگ نائلہ خان نے گزشتہ سال ہسپتال میں ہونیوالی ترقیاتی و توسیعی سرگرمیوں اورمستقبل کے منصو بو ں پر روشنی ڈالی ۔ آخر میں عمران خان نے شوکت خانم ہسپتال کیلئے 2017ء میں نمایاں تعاون کرنے پر کارپوریٹ اداروں کے نمائندگان میں شوکت خانم سوشل ریسپانسبلیٹی ایوارڈ تقسیم کئے۔اس موقع پر ان اداروں کے نمائندوں نے مستقبل میں بھی شوکت خانم ہسپتال کیساتھ اسی طرح تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

عمران خان

مزید : صفحہ اول


loading...