بھرتیوں پر پابندی کیس اسلام آباد منتقل،7یوم میں فیصلہ کرنے کاحکم

بھرتیوں پر پابندی کیس اسلام آباد منتقل،7یوم میں فیصلہ کرنے کاحکم

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے بھرتیوں پر پابندی کا از خود نوٹس کیس اسلام آباد ہائیکورٹ کو منتقل کرتے ہوئے ایک ہفتے میں فیصلہ کرنے کا حکم دیدیا۔گزشتہ روزسپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کی طرف سے سرکاری اداروں میں بھرتیوں پرپابندی کے کیس کی سماعت کی، سیکریٹری الیکشن کمیشن عدالت میں پیش ہوئے اورعدالت کو بتایا الیکشن کمیشن نے پری پول دھاندلی روکنے کیلئے بھرتیوں پر پابندی لگائی، وفاقی اورصوبائی پبلک سروس کمیشن کے تحت بھرتیوں پر پابندی نہیں لگائی، حلقے میں ترقیاتی کاموں کیلئے بھی رقم مختص کرنے پرپابندی لگائی۔چیف جسٹس نے کہا الیکشن کمیشن اپنے اختیارات واضح اور تعین کرے کس قسم کی بھرتیوں پر پابندی لگائی ہے، الیکشن کمیشن کے تعین کرنے سے آسانی ہو جا ئیگی۔عدالت نے کیس اسلام آباد ہائیکورٹ کو منتقل کرتے ہوئے جسٹس عامر فاروق کو 2 رکنی بینچ کا سربراہ مقرر کردیااور حکم دیا کیس کی سما عت روزانہ کی بنیاد پر ہوگی ، بینچ ایک ہفتے میں فیصلہ کرے گا۔سپریم کورٹ کی جانب سے جاری حکم میں کہا گیا ہے پنجاب حکومت کی پابندی کیخلاف رٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹرانسفر کی جائے، الیکشن کمیشن کا بھرتیوں پر پابندی کافیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے تک برقرار رہے گا، جو صوبہ پابندی چیلنج کرنا چاہے اسلام آباد ہائیکورٹ میں رٹ دائرکرے۔چیف جسٹس نے کہا کیس میں سپریم کورٹ نے براہ را ست فیصلہ دیا تو حتمی ہوگا، ہائیکورٹ فیصلہ کریگی توہمارے پاس ہائیکورٹ کا فیصلہ ہوگا، ہائیکورٹ کو صوبائی حکومتوں کی درخواستوں پر جلد فیصلے کا کہیں گے۔جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا آرٹیکل 218کے تحت شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔

سپریم کورٹ حکم

مزید : صفحہ اول


loading...