قومی اقبال کانفرنس کی افتتاحی تقریب

قومی اقبال کانفرنس کی افتتاحی تقریب

اسے آپ ایک اتفاق ہی سمجھیے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے شاعر مشرق علامہ اقبال کے یوم وفات /21 اپریل کو چھٹی مستقل طور پر ختم کی تھی اور اس سال اسی حکومت کے زیر انتظام کام کرنے والے ادارے اقبال اکیڈمی نے ان کے یوم وفات کے موقع پر ایوان اقبال لاہور میں ’’قومی اقبال کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا، اور اب تو لیگی حکومت نے اپنے قومی شاعر کے یوم ولادت کی چھٹی بھی پکی پکی ختم کر دی ہے۔ اس کانفرنس کو ’’انسانیت کو درپیش چیلنج اور فکر اقبال‘‘ کا عنوان دیا گیا تھا۔ قومی تاریخ اور ادبی ورثہ ڈویژن کے سربراہ عرفان صدیقی نے اپنی گفتگو میں یہ نکتہ اٹھایا کہ اقبال کے شہر میں اقبال کانفرنس 16 برس کے وقفے کے بعد منعقد ہو رہی ہے۔ ان کی بات میں گلے کی آمیزش تھی۔ ہمارے ملتانی گرائیں، گورنر پنجاب رفیق رجوانہ نے بھی کچھ ایسی ہی بات کہی۔ وہ بھی اس بات پر فکر مند نظر آئے کہ آخر اقبال کے شہر میں یہ کانفرنس اتنے طویل وقفہ کے بعد کیوں ہو رہی ہے؟ وہ اس بات پر بھی پریشان تھے کہ ہم خاص دن منانے کے بہت شوقین ہیں۔ اقبال کو یوم ولادت اور یوم وفات کے موقع پر یاد کرتے ہیں اور پھر سال بھر کے لئے بھول جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہماری یہی روش رہی تو ہم اسی طرح رسوا ہوتے رہیں گے۔

گورنر پنجاب محمد رفیق رجوانہ اور مشیر وزیراعظم عرفان صدیقی کی اقبال کے بارے میں یہ تشویش بجا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کبھی انہوں نے اپنی پارٹی کے سابق سربراہ اور تین بار وزیراعظم بننے والے اپنے محبوب لیڈر میاں نواز شریف سے پوچھا ہے کہ انہوں نے پہلے یوم وفات اور پھر ان کے یوم ولادت کی چھٹی کیوں ختم کر دی ہے۔ عرفان صدیقی صاحبٍ! آپ نے اس کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں نہایت درست بات کہی کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید علامہ اقبال کی شاعری، آج کے زمانے کا ساتھ دینے سے قاصر ہے تو جناب! یہ بعض لوگ کون ہیں؟ یہ شاید وہی لوگ ہیں جنہوں نے علامہ اقبال کو پرانے زمانے کا شاعر جانتے ہوئے ان کے یوم ولادت اور یوم وفات کی چھٹی منسوخ کر دی ہے۔ ابھی آپ کی حکومت چند ہفتے مزید باقی ہے۔ ابھی اختیار کی ڈوری آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر عرفان صدیقی صاحب وزیراعظم صاحب کے واقعی مشیر ہیں اور اگر گورنر پنجاب واقعی وفاق کے نمائندے ہیں اور اقبال سے عشق کرتے ہیں تو اپنی حکومت کو مشورہ دیں کہ اقبال کے یوم ولادت اور یوم وفات کی چھٹی بحال کی جائے اور دونوں مواقع پر سال میں دو دفعہ اقبال کی شاعری پر کانفرنسیں اور سیمینار منعقد کرائے جائیں۔

قومی اقبال کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں محمد بخش سانگی نامی کے ایک صاحب شرمائے شرمائے ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے 16 سال کے بعد قومی اقبال کانفرنس منعقد کروا کے انہوں نے کوئی گناہ کر دیا ہے۔ محمد بخش سانگی کا تعلق سندھ سے ہے۔ وہ ان دنوں اقبال اکیڈمی کے ڈائریکٹر ہیں۔ وہ سندھی ہونے کے باوجود ہم اہل لاہور پر بازی لے گئے۔ ویسے بھی اقبال سب کا ہے۔ ایران اور ترکی کے تعلیمی اداروں میں اقبال کے بارے میں شاید پاکستان سے بھی زیادہ کام ہو رہا ہے۔ محترم عرفان صدیقی کو یہ کریڈٹ بہرحال دینا پڑے گا کہ انہوں نے جب سے قومی تاریخ اور ادبی ورثہ ڈویژن کا چارج سنبھالا ہے۔ ہمارے تمام مردہ ادبی اداروں میں جان پڑگئی ہے۔ ان کی صفت یہ ہے کہ وہ ہر طرح کے آدمی سے کام لینا جانتے ہیں۔

آج کے عہد کے سب سے بڑے ماہر اقبالیات پروفیسر ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے نئی نسل کو علامہ اقبال کے چند واقعات سنا کر جگانے کی کوشش کی۔ اس واقعے پرحاضرین محفل نے انہیں خوب داد دی۔ ’’پٹنہ کی ایک عدالت نے علامہ اقبال کو بطور وکیل بلایا اور کہا گیا کہ انہیں فی یوم ایک ہزار روپے دیے جائیں گے۔ اقبال چاہتے تو اپنا کام پندرہ دن جاری رکھ کر پندرہ ہزار روپے کما سکتے تھے، لیکن انہوں نے اپنا کام ایک دن میں نمٹایا، ایک ہزار روپیہ لیا اور واپس لاہور آگئے‘‘۔ ہاشمی صاحب نے اردو کے نفاذ کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ اردو کے نفاذ ہی سے اقبال کی درست تفہیم ہوسکتی ہے۔

علامہ اقبال کے پوتے منیب اقبال نے دلائل دے کر ثابت کیا کہ اقبال جمہوریت کے زبردست حامی تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ لوگوں کے مسائل جمہوریت ہی حل کرسکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی ثابت کیا کہ اقبال عورتوں کی آزادی کے بہت بڑے حامی تھے۔ انہوں نے اپنی بیٹی منیزہ کو اپنی جائیداد میں سے جاوید اقبال کے برابر حصہ دیا۔ انہیں نہایت اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھنے کے لئے بھیجا۔ منیب اقبال نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان غلط، بے وزن اور بے معنی اشعار کا تذکرہ بھی کیا جو اقبال کے نام سے منسوب کیے جاتے ہیں۔

آخر میں میری نظم ملاحظہ کیجئے، جو میں نے یوم اقبال کی تعطیل منسوخ ہونے پر کہی تھی :

پہلے ہی ساری قوم ہے آمادۂ زوال

اس پر ستم کہ چھوٹا ہے اقبال کا خیال

تعطیل، یوم شاعر مشرق کی کیوں ہے بند؟

جس بزم میں بھی جائیے، ہوتا ہے یہ سوال

کہتے ہیں شاعری ہے، مسیحائی کا عمل

کہتے ہیں شاعری سے ہے زخموں کا اندمال

ہے شاعروں کا خون بھی بنیاد ملک میں

حملہ وروں کے سامنے شاعر بنے تھے ڈھال

اقبال نے جگایا تھا ہندوستان کو

یہ ارض پاک انہی کے تصور سے ہے نہال

عالم میں اک شناخت بنانے کے واسطے

درکار فکرِ شاعرِ مشرق کا ہے جلال

اقبال کو بھلانے کی کوشش نہ کیجئے

تعطیلِ یومِ شاعرِ مشرق کریں بحال

مزید : رائے /کالم