’’اوپر والے‘‘ بنی گالا میں ہی بیٹھے ہیں

’’اوپر والے‘‘ بنی گالا میں ہی بیٹھے ہیں

  



وزیر اعلیٰ پرویز خٹک ٹھیک کہتے ہیں کہ ’’اوپر والا‘‘ سے ان کی مراد بنی گالا کے پہاڑ پر بیٹھے ہوئے عمران خان تھے ، اور کچھ نہیں تھا۔ ہمیں ان کے کہے کا یقین اس لئے بھی ہے کہ ان دنوں ’’اوپر والے‘‘ بنی گالا کے پہاڑ پرہی بیٹھتے ہیں اور ملکی سیاست کو بنی گالا کی بلندی سے ہی ہینڈل کر رہے ہیں ۔

ہمیں بنی گالا جانے کا اتفاق ہوا ہے اورہمارا خیال ہے کہ بنی گالا کی اونچائی کسی طور بھی اتنی نہیں ہے کہ اسے کوہ ہمالیہ کے برابر قرار دے دیا جائے کہ جہاں سے کھڑے ہوکر ملک کا سیاسی منظر نامہ صحیح طور پر نظر آسکے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے ادارے مذاق بنے ہوئے ہیں ، ہماری سینٹ بے توقیر ہو چکی ہے اور ہمارے آئندہ کے عام انتخابات کا انعقاد مخدوش دکھائی دے رہا ہے۔ ہم ’’اوپر والوں ‘‘ سے گزارش کریں گے کہ وہ کم از کم نتھیا گلی کے پہاڑ پر ہی جا چڑھیں کیونکہ بنی گالا سے اونچی تو مری کی پہاڑیاں ہیں جہاں سے سابق وزیر اعظم نواز شریف براجمان بنی گالا سے ہونے والی سازشوں کو بآسانی دیکھتے ہیں اور وہ دیکھ کر جو کچھ بتاتے ہیں عوام کا اس پر یقین کرنے کو دل کرتا ہے!

ایک فیصلے نے حکومتی سیٹ اپ کو شیک اپ کردیا ہے۔انتخابات کے قریب آتے ہی جوڈیشل ایکٹوازم یعنی عدالتی پھرتیاں لوگوں کو حیران کئے ہوئے ہیں ، یہ حیرانی ہے کہ جانے کانام نہیں لے رہی ہے ۔ جس کسی سے ملئے ، وہ اپنی سیاسی وابستگی کے تناظر میں صورت حال کو دیکھتا پایا جاتا ہے بہادر میڈیا کا ایک غالب حصہ بے یقینی کی اس صورت حال میں جلتی پر تیل کا کام کر رہا ہے۔

یہ بھی ’’اوپر والوں ‘‘ کی مہربانی ہے کہ عوام کو درپیش صور ت حال کا کوئی حل سمجھ نہیں آرہا ہے ، ایک تماشہ ہے کہ لگا ہوا ہے جسے کچھ تو ٹی وی سکرینوں پر اور کچھ سپریم کورٹ میں جا کر دیکھتے ہیں، اعلیٰ عدلیہ کی چاند ماری عوام کو تلملانے پر اکسا رہی ہے ۔ عوام میں ردعمل پیدا ہورہا ہے جو ممکن ہے کہ نواز شریف کو سزا ملنے پر مہمیز ہو جائے اور شہباز شریف چاہیں بھی تو نواز شریف کی جگہ نہ لے سکیں !

نواز شریف اور ان کی سیاسی جماعت کے لئے سب سے بڑا چیلنج درپیش صورت حال کو کھینچ کر الیکشن تک لے جانا ہے ۔ اگر وہ اس میں کامیاب رہتے ہیں تو فی الوقت درپیش مشکلات خود بخود چھٹ جائیں گی لیکن اگر وہ انتخابات کے انعقاد میں ناکام رہے تو یہ مشکلات دوگنا ہو جائیں گی۔

کل ہم نے یہ بات چند دوستوں کے سامنے رکھی تو کہنے لگے کہ آ پ بالکل غلط کہہ رہے ہیں ۔ ہم نے جسارت کرکے ان سے گزارش کی کہ عام زندگی میں باپ کی وفات کے بعد دیکھا گیا ہے کہ خاندانی شریکے کی کوشش ہوتی ہے کہ بھائیوں کو آپس میں لڑوا کر تماشہ دیکھا جائے جن کے ہاتھ میں ہدف شدہ بھائیوں میں ایک آدھ بھائی بھی آ جاتا ہے جو ان کے مشورے پر جائیداد کی تقسیم میں رکاوٹیں پیدا کرنا شروع کردیتا ہے ، اگر دوسرے بھائی مزاج کے تیز ہوں اور غصے کے گاہک ہوں تو دنوں میں ہی اس گھر میں تھانہ کچہری شروع ہو جاتی ہے اور وہ خاک اڑتی ہے کہ زمانہ دیکھتا ہے ۔ لیکن اگر کوئی جہاندیدہ ہو تو معاملے کو دبانے کی سعی شروع کردیتا ہے ، خواہ اس کے لئے جائیداد کی تقسیم کے معاملے کو التوا میں کیوں نہ ڈالنا پڑے ۔

میاں نواز شریف کو بھی ایسی ہی صورت حال درپیش ہے کہ عوام ان کے ساتھ ہیں اور اسٹیبلشمنٹ خلاف ، ایسے میں اگر وہ کوئی ایسا کام کریں گے جس سے وقتی طور پر کچھ شہہ سرخیاں تو بن جائیں گی لیکن عام انتخابات کا انعقاد کھٹائی میں پڑسکتا ہے۔اس سے قبل ایسی ہی صورت حال 2014کے دھرنے کے دوران پیدا ہوگئی تھی جب چودھری نثار علی ،چودھری اعتزاز احسن سے لڑائی لے کر اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کو موقع فراہم کرنے والے تھے کہ وہ پارلیمنٹ کے ساتھ کھل کھیلے ۔وہ تو بھلا ہو سید خورشید شاہ کا جنھوں نے سیاسی تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے صورت حال کو سنبھالا اور نواز شریف کی معاونت اور جاوید ہاشمی کی جرات کے طفیل پارلیمنٹ پر قبضے کی کوشش ناکام بنائی۔

اس وقت تک کی صورت حال یہ ہے کہ ’’یاران تیزگام‘‘ بڑھ بڑھ کر پوچھتے ہیں کہ نواز شریف نے لندن کے فلیٹس کہاں سے بنائے لیکن جب نواز شریف بتاتے ہیں تو فوراً اسے جھوٹ قرار دیتے ہیں ، بھئی اگر وہ جھوٹ ہے تو آپ ہی سچ بتادیجئے۔ مگر بات کو جھوٹ اورسچ کے درمیان رکھا جا رہا ہے ، اس گومگو کیفیت سے عوام کنفیوژ ہیں ، انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیاہے اور ہر کسی نے اپنا سچ اور اپنا جھوٹ گھڑ لیا!....ایسے میں چھاچھ کو بھی پھونک پھونک کر پینے کی ضرورت ہے !

مزید : رائے /کالم


loading...