ریاست کے تمام ملازمین کو ادائیگی تک خود تنخواہ نہیں لوں گا و: چیف جسٹس

ریاست کے تمام ملازمین کو ادائیگی تک خود تنخواہ نہیں لوں گا و: چیف جسٹس

  



اسلام آباد(آئی این پی،آن لائن) چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ جب تک پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ ملازمین کو تنخواہیں نہیں مل جاتیں اس وقت تک اپنی تنخواہ بھی نہیں لوں گا،ایڈیشنل رجسٹرار صاحب یہ حکم ہے، میرے اکا ؤ نٹ میں چیک ڈیپازٹ نہیں کرانا،جب تک ملک بھر کے پی ڈبلیو ڈی ملازمین کو تنخواہیں نہیں ملتیں میرے اکا ؤ نٹ میں چیک نہیں آنا چاہیے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں پاکستان پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ(پی ڈبلیو ڈی) ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنی تنخواہ لینے سے بھی انکار کر دیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ جب تک باقی سرکاری ملازمین کو تنخوا ہ نہیں ملے گی مجھے بھی تنخواہ نہ دی جائے، یہ عام ہو چکا ہے کہ سرکاری ملازمین کو یکم کو تنخواہ نہیں ملتی۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ریاست کے تمام ملازمین کو تنخواہ کی ادائیگی تک چیف جسٹس کو تنخواہ نہ دی جائے، چیف جسٹس نے ایڈیشنل رجسٹرار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'ایڈیشنل رجسٹرار صاحب یہ حکم ہے، میرے اکا ؤ نٹ میں چیک ڈیپازٹ نہیں کرانا۔ ملازمین کو ادائیگی کی تصدیق کے بعد میرا چیک میرے سٹاف کو دیں۔ سپریم کورٹ نے بیرون ملک جیلوں میں قید پاکستانیوں سے متعلق تمام تفصیلات طلب کرلیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے بیرون ممالک جیلوں میں قید پاکستانیوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔اس موقع پر درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ متحدہ عرب امارات کی مختلف جیلوں میں 2 ہزار 710، برطانیہ میں 423، ایران میں 189، تھائی لینڈ میں 83۔ ترکی میں 69، سری لنکا میں 87 اور آذر بائیجان میں 3 پاکستانی قید ہیں۔اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے ملک کے قیدی مختلف ممالک میں قید ہیں، وزیر داخلہ کہاں ہیں، پاکستانی بیرون ملک جیلوں میں رل رہے ہیں، ہمیں بتایا جائے کہ کتنے عرصے میں قیدی پاکستان آجائیں گے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ چوہدری نثار کو خیال آیا تو قیدیوں کی حوالگی کا معاہدہ معطل کردیا، قیدی اپنے ملک میں سزائیں کاٹ سکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں وزارت داخلہ اور خارجہ دونوں سے پوچھ کر بتائیں کہ کتنے عرصے میں پاکستانی قیدی آجائیں گے۔سپریم کورٹ میں لاء کالجز میں اصلاحات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران بارکونسلز سے خوب گلے شکوے کیے، چیف جسٹس نے کہا آگر بنیادی مسائل اور مفاد عامہ کے معاملات کو دیکھ رہا ہوں تو کیا یہ جرم ہے میری بار کونسل میرے خلاف کھڑی ہو گئی ہیں بار کونسلز کی قرار دادوں سے تکلیف ہوئی ہے ۔منگل کے روز سپریم کورٹ میں لاء کالجز میں اصلاحات سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی، دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ بلوچستان میں میٹرک تک 11 ہزار مجموعی سکولز ہیں، 6400 سکولز میں نہ چار دیواری ہے نہ پانی اور نہ ہی باتھ روم، اگر میں بنیادی مسائل و مفاد عامہ کو دیکھ رہا ہوں تو کیا یہ جرم ہے۔ پتہ نہیں کیا سیاسی ایجنڈاہے ، میں اس طرف نہیں جانا چاہتا، چیف جسٹس نے کہا کہ وکلاء بتائیں اگر ازخود نوٹس نہ لوں تو آئینی درخواست دائر کریں، میرا خودنمائی سے کوئی تعلق نہیں ہے آج میں نے پمز امراض قلب کے ایشو کو اجاگر کیا، میں نے رپورٹرز کو تنخواہوں کی ادائیگی کی بات کی، صحافیوں کو تین تین ماہ تنخواہ نہیں ملتی، میں نے بچوں کی تعلیم اور ادویات کی فراہمی کی بات کی، چیف جسٹس نے کہا کہ مفاد عامہ کے علاوہ میرا کوئی مقصد نہیں، میں نے سرکاری گاڑیوں کی تفصیلات مانگیں، ستائیس گاڑیاں چھپا دی گئیں، چیف جسٹس نے کہا پمز میں لیور ٹرانسپلانٹ سینٹر نہ ہونے پر چھ سو ملین لوگ نجی ہسپتالوں میں جاتے ہیں، مفاد عامہ کی بات کرتا ہوں یہ کونسا جرم ہے، ٹھیک ازخود نوٹس نہیں لیتے لیکن جہاں قانون کی خلاف ورزی ہوگی نوٹس لیں گے دوران سماعت چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تعلیمی اصلاحات کیلئے کام کر رہے ہیں، تعلیمی اصلاحات پر حکومت کو تجاویز دیں، تعلیمی اصلاحات کرنا ہمارا کام نہیں ہے لیکن غیر معیاری لاء کالجز نہیں چلنے دیں گے بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت دس مئی تک ملتوی کردی۔ چیف جسٹس پاکستان نے نابینا وکیل یوسف سلیم کی اپیل کا نوٹس لیتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کو نابینا وکیل کادوبارہ انٹرویو کرنے کی ہدایت کردی۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کے رہائشی نابینا وکیل یوسف سلیم نے سول جج کے عہدے کیلئے امتحان دیا تھا جس میں کامیابی کے بعد وہ انٹرویو میں کامیاب نہ ہوسکے اور سلیکشن کمیٹی نے انہیں سول جج کے عہدے کیلئے مسترد کردیا تھا۔یوسف سلیم نے سلیکشن کمیٹی کی جانب مسترد کیے جانے کے بعد ان کا انٹرویو دوبارہ لیے جانے کی اپیل کی تھی جس پر چیف جسٹس پاکستان نے نوٹس لیتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کو یوسف سلیم کا دوبارہ انٹرویو کرنے کی ہدایت کردی۔واضح رہے کہ بصارت سے محروم 25سالہ یوسف سلیم نے نابینا ہونے کے باوجود پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کا امتحان پاس کرکے گولڈ میڈل حاصل کیا ہے۔ یوسف سلیم نے سول جج کے عہدے کیلئے امتحان دیاتھا جس میں کامیابی بھی حاصل کرلی تھی لیکن نابینا ہونے کی وجہ سے سلیکشن کمیٹی نے انہیں انٹرویو میں فیل کردیا تھا۔

چیف جسٹس

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...