خیبر پختونخوا سے کامیاب سینیٹرز کی اہلیت پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج

خیبر پختونخوا سے کامیاب سینیٹرز کی اہلیت پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج

  



پشاور(نیوزرپورٹر)سینیٹ کے انتخابات میں خیبرپختونخواسے کامیاب ہونے والے ارکان سینیٹ کی اہلیت کو پشاورہائی کورٹ میں چیلنج کردیاگیاہے آئین کے آرٹیکل199کے تحت رٹ پٹیشن گوہرخان ساکن ڈاک پشاور کی جانب سے گوہررحمان خٹک ایڈوکیٹ نے دائرکی ہے رٹ پٹیشن میں چیئرمین سینیٹ ٗ الیکشن کمیشن اور وزیراعلی خیبرپختونخوا پرویزخٹک کوفریق بناتے ہوئے موقف اختیارکیاگیاہے خیبرپختونخوا سے سینیٹ کے جوارکان منتخب ہوئے ہیں وہ آئین کے آرٹیکل62اور63پرپورانہیں اترتے کیونکہ حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اپنے 20 ارکان صوبائی اسمبلی کو پارٹی سے فارغ کرکے انہیں شوکاذ نوٹس جاری کیاہے جن پرالزام عائد کیاگیاہے کہ انہوں نے سینیٹ انتخابات میں اپناووٹ فروخت کیاہے اوراس کے عوض سینیٹ کے امیدواروں سے کروڑوں روپے وصول کئے ہیں اورچونکہ سینیٹ ایوان بالاہے اوراس میں قانون سازی کی جاتی ہے اوراس اہم ادارے میں بددیانت افراد کے بیٹھنے کاکوئی حق نہیں بنتا کیونکہ رشوت لینے والااوردینے والادونوں جہنمی ہیں اس بناء یہ آئین کے آرٹیکل پرپورانہیں اترتے لہذاانہیں نااہل قرار دیا جائے کیونکہ سینیٹ کے انتخابات میں مجموعی طورپرسترکروڑ روپے استعمال ہوئے ہیں اورسینیٹ کے ارکان غیرقانونی طریقے سے آئے ہیں لہذاانہیں نااہل قرار دیا جائے رٹ میں پٹیشن میں آئینی درخواست کی حتمی سماعت تک نومنتخب ارکان سینیٹ کو کام سے روکنے کی بھی استدعا کی گئی ہے پشاورہائی کورٹ کادورکنی بنچ آئندہ چند روز میں رٹ پٹیشن کی سماعت کرے گا

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...