مردان ، پاکستان میں ایک سال کے دورقان ٹریفک حادثات میں 7ہزار لقمہ جل

مردان ، پاکستان میں ایک سال کے دورقان ٹریفک حادثات میں 7ہزار لقمہ جل

  



مردان ( بیورورپورٹ)پاکستان میں ایک سال کے دوران مختلف ٹریفک حادثات میں ساڑھے سات ہزار سے زیادہ افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ 13لاکھ افراد حادثات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں جس کی بنیادی وجہ تیزرفتاری ، ٹریفک رولز سے ناواقفیت اور ہیلمٹ کا عدم استعمال ہے ۔یہ بات مقررین نے نیشنل موٹر ہائی ویز اینڈ موٹر ویز پولیس کے زیر اہتمام یو نیورسٹی آف انجنئیرنگ اینڈٹیکنالوجی مردان میں ایک روزہ روڈ سیفٹی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر محمد عثمان اس موقع پر مہمان خصوصی تھے ۔سیمینار میں یونیورسٹی کے ٹیچنگ فیکلٹی اور طلبہ وطالبات نے شرکت کی ۔اس موقع پر روڈ سیفٹی کے حوالے اپنے لیکچر میں ڈی ایس پی موٹروے پولیس انیس الدین، انسپکٹر باصر الیاس اور انسپکٹر زبیرنے کہا کہ روڈ ٹریفک حادثات میں مرنے والوں کی تعداد قدرتی آفات میں مرنے والوں سے کہیں زیادہ ہے ہم تریفک قانین سے آگہی ،روڈ سینس سیکھ کر اور دوران سفر تیز رفتاری سے گریز کرکے ان حادثات میں واضح کمی لاسکتے ہیں ۔اُنہوں نے کہاکہ پاکستان میں صرف دو فیصدلوگ فضائی، پانچ فیصد لوگ ٹرین اور سب سے زیادہ 90 فیصد لوگ سڑک کے ذریعے سفر کرتے ہیں ۔اُنہوں نے کہا کہ سیٹ بیلٹ کا استعما ل ، پیدل چلنے والوں اوردوسروں کے ر ائٹ آف وے کا احترام اور احتیاط کے ذریعے حادثات سے بچ سکتے ہیں ۔اُن کا کہنا تھا کہ 90فیصد حادثات ڈرائیور کی غلطی جبکہ باقیماندہ خراب سڑکوں اورگاڑی کی حالت کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتے ہیں ۔اسی طرح دوران ٹریفک موبائیل فون کے استعمال ،ایل سی ڈی سکرین اور سیگریٹ جلانے سے بھی حادثات ہوتے ہیں اس لیے گاڑی چلانے والوں کو اس سے گریز کرنا چاہیئے ۔اس موقع پر نیشن ہائی ویز ایند موٹر وے پولیس کے افسران نے شرکاء کے سوالوں کے جواب دیئے ۔آخر میں شرکاء کو تحائف بھی دیئے گئے

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...