عبدالولی خان یونیورسٹی سے 68 کنٹریکٹ ملازمین نوکری سے فارغ

عبدالولی خان یونیورسٹی سے 68 کنٹریکٹ ملازمین نوکری سے فارغ

  



مردان ( بیورورپورٹ) عبدالولی خان یونیورسٹی کے 68کنٹریکٹ ملا زمین کو نوکری سے فارغ کردیاگیا ، نکالے گئے ملازمین نے فیصلے کو معاشی قتل قراردیتے ہوئے اسے مستردکرتے ہوئے پریس کلب کے سامنے احتجاج کیاہے جب سے عبدالولی یونیورسٹی کے نئے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر خورشید احمد نے چارج سنبھالاہے کنٹریکٹ ملازمین کو فارغ کرنے کا سلسلہ شروع کردیاگیاہے گذشتہ روز تیسرے مرحلے کی کاروائی میں گریڈ 1سے 16تک 68ملازمین پر ملازمتوں کی دروازے بند کرتے ہوئے انہیں فارغ کردیئے گئے اس فیصلے کے خلاف درجنوں ملازمین نے باچاخان چوک سے پریس کلب تک ریلی نکالی اور یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف نعرہ بازی کی مظاہرین کے ہاتھوں میں پلے کارڈز اوربینرز تھے جن پر نعرے درج تھے بعدازاں پریس کلب کے سامنے ریلی نے جلسے کی شکل اختیار کرلی جس سے خطاب کرتے ہوئے دیارخان ،مشتاق خان ،محب اوردیگر نے کہا کہ مالی بحران کا بہانہ بناکر درجنوں خاندانوں کا معاشی قتل کیاگیا اورانہیں کنٹریکٹ کی مدت پوری کرنے سے پہلے فا رغ کر دیاگیاانہوں نے الزام عائد کیا کہ یونیورسٹی میں اقرابا پروری اور کرپشن کا بازار گرم ہے درجنوں غیر قانونی بھرتیاں کی گئی ہے جس کی انکوائری رپورٹ بھی سنڈیکٹ اجلاس میں پیش کی گئی ہے ۔لیکن اُن مافیا کو نکالنے کے برعکس کلرک اور کلاس فور کو نکالا جس کی تنخوا ہ 15 سے 20 ہزار ہے ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ دوہری شہر یت رکھنے والے یو نیورسٹی وائس چانسلر کی تنخواہ 9 لا کھ روپے ہے جبکہ فیول اور اسلام باد گیسٹ ہا وس کے خر چے کی مد میں 3,3 لاکھ روپے وصول کر رہا ہے۔ مظاہرین نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ یونیورسٹی کے اس ظالمانہ اقدام کے خلاف فوری نو ٹس لیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...