بچوں کی شرح اموات،پاکستان میں صورتحال تشویشناک ہے،ڈاکٹر خالد

بچوں کی شرح اموات،پاکستان میں صورتحال تشویشناک ہے،ڈاکٹر خالد

  



راولپنڈ ی(جنرل رپورٹر) ہیومن ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر محمد خالد ریاض نے کہا ہے کہ پیدائش سے ایک سال کی عمر تک کے بچوں کی شرح اموات میں پاکستان دنیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے جو کہ انتہائی تشویش ناک امر ہے ،سالانہ 3 لاکھ50 ہزار بچے پیدائش کے پہلے ہی سال موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں،اوران کی موت کی وجوہات غذائی قلت،ڈائریا، تشنج، نمونیا اور بخار جیسی چھوٹے چھوٹے امراض ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سکول جانے کی عمر کے 22 ملین بچے تاحال تعلیمی اداروں میں داخل ہی نہیں ہوئے، 40 فیصد بچے غذائی قلت ، 85 فیصد بچے دماغی کمزوری، 30 بچے نظر کی کمزوری جیسے امراض میں مبتلا ہیں، ملک کی 40 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جبکہ 15 فیصد �آبادی غربت کی لکیر کے قریب ترین ہے۔ انہوں نے کہا ہمارے ادارے کا مقصد صحت ، تعلیم اور غربت جیسے بنیادی اور اہم ترین مسائل کو اجاگر کرنا، عوام میں شعور پیدا کرنا اور ان مسائل کو حل کرنا ہے۔ ہمارا فوکس بڑے بڑے منصوبے 160بنانا اورمال کمانا نہیں 160ہے بلکہ ہمارافوکس صرف اورصرف انسان ہے اورہم انسانی مسائل کے حل پر ہی کام کررہے ہیں،ہم نے اپنے ادارے کے تحت ان تمام مسائل کے حل اورصحت و ابتدائی عمر میں اموات کی شرح کو کم کرنے کیلئے ایک انہتائی کم لاگت منصوبہ تیار کیا ہے جس کے ذریعے صحت ، تعلیم اور غربت کی اس شرح کو کم 160سے کم کیاجاسکت ہے۔انہوں نے کہا کہ اس پراجیکٹ پر عمل در آمد کیلئے 160ایک سے دو ڈالر سالانہ فی کس خرچ کر کے ابتدائی ایک سال کی عمر کے بچوں کی شرح اموات میں 5 سے 6 سالوں میں 35 فیصد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔ ڈاکٹر خالد ریاض نے کہا کہ ہم ملک بھر کے 3 سو علاقوں میں ماں اور بچے کی صحت ، تعلیم اور غربت میں کمی پر کام کر رہے ہیں دو لاکھ سے زائد افراد ہمارے ادارے کی سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں، ہم نے انتہائی ماہر سٹاف اور ہیلتھ ورکرز اور ہیلتھ وزیٹرز پر مشتمل �آٹھ جدید ترین ہیلتھ سینٹر قائم کر رکھے ہیں جہاں پر خواتین کی مکمل ویکسینیشن کی جاتی ہے جبکہ ماں اور بچے کی غذا اور بچے کی پیدائش سے لے کر میٹرک تک بچے کو مکمل طور پر مانیٹر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مذید کہا ملک میں غربت کا خاتمہ ، فرد واحد یا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ معاشرے کے ہر صاحب حیثیت فرد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اردگرد موجود ضرورت مند لوگوں کی مدد کریں اور انہیں قومی دھارے میں شامل کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بچے کی پیدائش کے پہلے دو سالوں میں اس کی غذا پر توجہ دی جائے تو شرح اموات سمیت اس کی بہتر نشوونما کیساتھ ساتھ اس کو ایک صحت مندانہ زندگی مہیا کی جاسکتی ہے۔

Back t

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...