روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر اقوام متحدہ خاموشی ترک کرے : لیاقت بلوچ

روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر اقوام متحدہ خاموشی ترک کرے : لیاقت بلوچ

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی جنرل سیکریٹری لیاقت بلوچ نے کہا کہ برما کے علاقے اراکان کے روہنگیا مسلمانوں کی بدھسٹ حکمرانوں اور افواج کی جانب سے نسل کشی پر اقوام متحدہ ،یورپی یونین اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو بے حسی اور خاموشی ترک کر کے نوٹس لینا چاہیئے۔عالمِ اسلام اور او آئی سی کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی رکوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نور حق میں برماویلفیئر آرگنائزیشن اورروہنگیا سالیڈرٹی آرگنائزیشن کے تحت ’’مظلوم مسلمانانِ برما ،اراکان کے روہنگیا مسلمان اور عالمی برادری کی بے حسی ‘‘ کے موضو ع پر منعقدہ سیمینار سے صدارتی خطاب کر تے ہوئے کیا۔سیمینار سے جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر اسد اللہ بھٹو ،امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ،نائب امیر و انچارج برما ڈیسک مظفر احمد ہاشمی ،برمی مسلم ویلفیئر آرگنائزیشن کے صدر نور حسین اراکانی ،مولانا محمد صالح ،محبان وطن سیل کے کنونیئر سید شہزاد مظہر اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔جبکہ نظامات کے فرائض سعید صدیقی نے ادا کیے۔سیمینار میں جماعت اسلامی سندھ کے نائب امیر محمد حسین محنتی اور دیگر بھی موجود تھے۔لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان اور پارلیمنٹ اراکان کے روہنگیا مسلم مہاجرین سمیت شام ،افغانستان ،یمن اور دیگر علاقوں کے مہاجرین کے لیے مجموعی طور پر ایک جامع حکمتِ عملی بنائے جس میں پورے عالمِ اسلام کو ساتھ لے کر چلا جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مقیم برمی مسلمان اور سابق مشرقی پاکستان سے آئے ہوئے مسلمانوں کو یہ حق حاصل ہے کہ ان کو مکمل آئینی ،شہری اور قانونی حقوق ملیں اور ان کو جو مشکلات و پریشانیاں ہیں وہ ختم ہوں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمِ اسلام کا دھڑکتا ہوا دل ہے لیکن یہاں کی پارلیمنٹ کے اندر وڑن نہ ہو نے اور امانت و دیانت کے فقدان نے پاکستان کے عالمی کردار کو نقصان پہنچایا ہے۔ملک میں ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو امت کا درد رکھتی ہو ،ملک کے عوام کو مسائل سے نجات دلائے اور پاکستان کو عالمِ اسلام کا ترجمان بنا سکے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر نوبل انعام یافتہ آن سانگ سوچی جو وہاں کی چیف ایگزیکیٹو بھی ہیں، نے خاموشی اختیار کی اور بدھسٹ انتہا پسندوں کی پشت پناہی کی جبکہ دوسری جانب بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد بھی روہنگیا مسلمانوں کے خلاف سازش میں آل? کار بنی ہوئی ہیں اور مسلمانوں کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اور الخدمت نے بر ما کے مسلمانوں کی حمایت اور امداد کے لیے آگے بڑھ کر کردار ادا کیا ہے اور یہ کام اپنا دینی فریضہ سمجھ کر سر انجام دیا ہے۔اسداللہ بھٹو نے کہا کہ اراکان میں برما کے بدھسٹ حکمرانوں اور افواج نے مسلمانوں پر بے پناہ مظالم ڈھائے ہیں۔عالمی ضمیر اور ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔جماعت اسلامی نے ان کے لیے پہلے دن سے آواز اْٹھائی ہے اور پاکستان کے اندر اور باہر ان کے موقف کی حمایت کی ہے۔حکومت پاکستان سر کاری طور پر عالمی اور سفارتی سطح پر یہ مسئلہ اْٹھائے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اراکان کے مسلمان اپنی آزاد ریاست میں رہتے تھے ان کے علاقے پر قبضہ کیا گیا ہے۔عالمِ اسلام کو یہ مطالبہ کر نا چاہیئے کہ اراکان مسلمانوں کی آزاد ریاست بحال کی جائے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اور الخدمت کی ٹیم بنگلہ دیش میں قائم ان کے کیمپوں کا دورہ کر کے آئی ہے اور ہم نے ان کے ریلیف کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے اور یہ ریلیف کا یہ کام آئندہ بھی جاری رہے گا۔ مظفر احمد ہاشمی نے کہا کہ بر ما میں مسلمانوں کی بستیاں جلا دی گئی ہیں۔خواتین کی بے حر متی کی گئی ہے اور ہجرت پر مجبور لوگوں کی کشتیاں سمندر میں ڈبو دی گئی ہیں۔اقوام متحدہ نے تصدیق کی ہے کہ برما کی حکومت اور فوج مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف ترکی واحد ملک ہے جس نے وہاں کے مسلمانوں پر مظالم کے خلاف ٹھوس اور عملی اقدامات کیے۔نور حسین اراکانی نے کہا کہ دلائی لامہ بدھسٹ روحانی رہنما ہیں۔یہ چیونٹی کو بھی مار نے کو جرم قرار دیتے ہیں مگر افسوس کہ مسلمانوں کو قتل کر نے اور زندہ جلانے سے اپنے ماننے والوں کو روکتے نہیں۔انہوں نے کہا کہ بر طانیہ اس خطے سے جاتے وقت مسئلہ کشمیر کی طرح یہ مسئلہ بھی پیدا کر گیا اور مسلمانوں کو برما کے بدھسٹ حکمرانوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔

Back to Conversion Tool

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...