شوہر کا نئی نویلی دلہن پر تشدد، سگریٹ سے جسم داغتا رہا

شوہر کا نئی نویلی دلہن پر تشدد، سگریٹ سے جسم داغتا رہا
شوہر کا نئی نویلی دلہن پر تشدد، سگریٹ سے جسم داغتا رہا

  



پاکپتن (ویب ڈیسک) نواحی گاﺅں 20 ایس میں دولہا نے نئی نویلی دلہن پر ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے، تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے جسم کے نازک حصوں پر سگریٹ سے داتا رہا، مظلوم خاندان نے پریس کانفرنس کے دوران دولہا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

روزنامہ خبریں کے مطابق گڑھا موڑ کے ضلع وہاڑی کے رہائشی اللہ دتہ نے اپنی بیٹی سمیرا بتول کی شادی پاکپتن کے گاﺅں 20 ایس پی میں اپنے قریبی رشتہ دار فضل محمد کے بیٹے محمد سلیم سے 9 مارچ 2018ءکو کی تھی، لیکن پہلے دن سے ہی دولہا محمد سلیم نے نئی نویلی دلہن سمیرا بتول پر تشدد شروع کردیا تھا۔ دلہن سمیرا بتول نے روتے ہوئے بتایا کہ محمد سلیم شادی سے ناخوش تھا، اس بنا پر اس نے آتے ہی دلہن پر تشدد کرنا شروع کردیا تھا۔ وہ روزانہ چیختی چلاتی تھی لیکن سسرال والوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگتی تھی۔

محمد سلیم کمرے کا دروازہ بند کرکے اسے بری طرح پیٹتا تھا، حتیٰ کہ کہ سگریٹ سے جسم کے مختلف حصوں پر داغتا تھا، دلہن نے متعدد بار اپنے سسر فضل محمد، جیٹھانی فرزانہ، دیور رضا کو رو رو کر فریاد کی لیکن سسرالیوں نے اس کی ایک نہ سنی۔ حتیٰ کہ وہ دو بار اپنے میکے بھی گئی لیکن اس نے اپنی زبان بند رکھی لیکن اب جب اس کے خاوند محمد سلیم کی طرف سے ظلم کی انتہا ہوگئی تو دلہن نے اپنے والدین اور قریبی عزیزوں کو بلایا اور سسرالوں کے ظلم سے آگاہ کیا تو وہ اپنی فریاد لے کر میڈیا کے پاس آئے۔

اس موقع پر سمیرا بتول کے والد اللہ دتہ اور والدہ نے ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ، آئی جی پنجاب سے اپیل کی ہے کہ ان کی بیٹی پر ظلم کرنے والیے درندے سلیم کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے اور اسے سخت سزا دی جائے کیونکہ سلیم نے ان کی بیٹی پر جو ظلم کیا ہے وہ ناقابل بیان ہے اور ہم پنجاب کے ان تین بڑوں کے انصاف کے منتظر ہیں۔

مزید : علاقائی /پنجاب /پاکپتن


loading...