وہ شخص جو زندہ کتاب کی طرح ہے

وہ شخص جو زندہ کتاب کی طرح ہے
وہ شخص جو زندہ کتاب کی طرح ہے

  



والد صاحب اکثر کہا کرتے ہیں، انسان کی زندگی سے اس کے پہلے پندرہ سال کبھی نہیں جاتے۔ذاتی زندگی میں مشاہدہ کرنے سے یہی معلوم ہوا کہ یہ جو لوگ اپنی زندگی کے پہلے پندرہ سال میں جس طرح کے ماحول میں پرورش پا ئیں،جیسی خوراک ان کو ملتی رہی،جیسا لباس پہننے کو ملتا رہا اور جو دینی دنیاوی تربیت دی جائے، وہ سب خون بن کر رگوں میں داخل ہوجاتا ہے۔ یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جو منڈی بہاوالدین کے چند سو گھرانوں پر مشتمل ایک گاﺅں میں انتہائی نمازی اور دین دار گھرانے میں پیدا ہوا۔ ابتدائی تعلیم ایک معیاری سکول سے حاصل کی اور اپنے بچپن کے دوران سب سے زیادہ دینی میلان والد سے پایا،یوں یہ شخص دینی اور دنیاوی تعلیم کا بہترین امتزاج بنتا چلاگیا۔ انسان کا سینہ جب اسلام کے نور سے بھر دیا جائے اور اس میں دنیا کے بہترین علم حاصل کرنے کا جذبہ بھی پیدا کردیا جائے تو انسان ، انسانیت کی معراج حاصل کرلیتا ہے۔گزشتہ دنوں راقم الحروف کو ایسے ہی ایک شخص کی کتاب پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ’ مشاہدات و تاثرات‘ نامی یہ کتاب ، نشتر اور قلم سے نکلا ایک شاہکار ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے بیٹھا تو جب تک پوری کتاب ختم نہیں ہوگئی ،نگاہیں صفحات سے اوجھل نہ ہوئیں۔ پرفیسر خالد مسعود گوندل صاحب جہاں ایک بہترین سرجن ، انتہائی شفیق استاد اور ستارہ امتیاز رکھنے والے چند فخر پاکستان افراد میں شامل ہیں، وہیں ان کا سینہ اسلام کی روشنی سے روشن ہے۔واڑہ عالم شاہ، منڈی بہاوالدین کے گاﺅں سے ملک کے بہترین میڈیکل کالج میں ڈاکٹری کے لیے داخلہ ،پھر پوسٹ گریجویشن کرکے ،اسی کالج و ہسپتال میں کم عمر ترین پروفیسر اور بعد میں اس ملک کے سب سے بڑے میڈیکل کے پوسٹ گریجویٹ ادارے کی اعلی ترین عہدوں پر فائز ہونے والے اس شخص کے قلم سے نکلی کتاب پڑھ کر انسانی عقل حیران رہ جاتی ہے۔

” مشاہدات و تاثرات “کا حسن یہ ہے کہ اسے پڑھنے کے بعد عشق مجازی اور عشق حقیقی کا ملاپ ، سفرناموں، زندگی کے تجربات ،ملاقاتوں اور زندگی میں گزارے پہلے پندرہ سالوں میں کی گئی دینی و دنیاوی تربیت کی صورت میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ تصنیف مختلف حصوں پر مشتمل ہے، پہلا حصہ مصنف کے عالمی مشاہدات پر مشتمل ہے ،جو ایک سفرنامے کی صورت میں ہے، مصنف نے تقریباً پچیس سے زیادہ ممالک میں ہونے والی جراحی اور مختلف میڈیکل کانفرنس کے دوران ہونے والے تجربات کے ساتھ ساتھ وہاں موجود دینی اہمیت کے حامل تاریخی مقامات کا ذکر بہترین کھوجی کی طرح کیا ہے۔ ان میں مصر، تیونس،اٹلی،روم،ہانک گانگ، سنگا پور ، نیپال،شنگھائی،کینڈا، بیشتر یورپی ممالک،ترکی،لندن،آئرلینڈ،امریکہ،ملائشیا ،تھائی لینڈ،،سعودی عرب اور بنگلہ دیش قابل ذکر ہیں۔ بطور ڈاکٹر یہ حصہ پڑھنے کے بعد اس بات پر شدید حیرانی ہونے لگی کہ کسی بھی نئی جگہ جانے والا ٹورسٹ یا تو وہاں کے کھانوں کا شیدائی ہوتا ہے، یا پھر وہاں کے حسن کا،وہ انٹرٹینمنٹ والے مقامات کا متلاشی ہوتا ہے اور خاص کر پاکستان سے تعلق ہو تو وہ ہر اس جگہ کو دیکھنے کا خواہشمند ضرور ہوتا ہے جو مخلتف وجوہات کی بنا پر یہاں وجود نہیں رکھتیں۔ان میں کیسینوز، کلب، ساحل سمندر قابل ذکر ہیں۔ مگر ان سفرناموں میں اہرام مصر ،قائرہ کے عجائب گھر،تیونس کی جامع زیتون،ابو سعید، شہر القیرون،ساحل سمندر سوس، روم کے سینٹ پیٹرس باسی لیکا،Gladiators والے سٹیڈیم، سنگاپور جنرل ہسپتال،کھٹمنڈو،دیوار چین،شہر کیوبک سمیت ہر مقام کا تاریخی و دینی تجزیہ ملتا ہے۔انہی سفر ناموں میں پوری دنیا سے آئے بہترین ڈاکٹروں سے ملاقاتوں ،ان کے تجربات اور بیرون ملک سیکھی گئی جدید جراحی کے طریقے سیکھ کر ملک میں متعارف کرانے کا ذکر ملتا ہے۔

لکھاری کا بچپن کا عشق ڈاکٹری تھا،اور والد صاحب چودھری سلطان محمود کی محبت نے اللہ اور رسولﷺ کی محبت فقط نماز،روزے اور قرآن کی پابندی سے دل کے چاروںکونوں میں بسا دی تھی یوں عشق حقیقی کا میلان بھی غالب تھا، چنانچہ نشتر،نماز اور قلم مشاہدات و تاثرات میں یکجا تھے۔اس کتاب کا دوسر ا حصہ کچھ ایسی ہستیوں کے بارے میں ہے کہ جو اب اس دنیا میں نہیں رہیں ،مگر لکھاری کی زندگی پر ان کا گہرا اثر رہا ،اس میں جہاں مصنف کے اساتذہ کا ذکر ملتا ہے وہیں اپنے میڈیکل کالج و ہسپتال کے خطیب مولانا محمد عارف مرحوم کا بھی تفصیل سے کیا گیا ذکر اس بات کا غماز ہے کہ مصنف کی زندگی کے پہلے پندرہ سال ،منڈی بہاوالدین کی جامع مسجد سے میڈیکل کالج کی جامع مسجد اور پھر پوری دنیا کی ہر مسجد تک اس شخص کا سائے کی طرح پیچھا کرتے رہے ہیں۔ کتاب کے تیسرے حصے میں مصنف نے جراحی میں اپنے بہترین استاد کو نظرانہ عقیدت پیش کیا ہے اور یہ استاد کوئی اور نہیں پاکستان کے نامور ترین سرجن ، ملک میں جدید جراحی کے بانی اور پاکستان کے میڈیکل کے سب سے بڑے پوسٹ گریجویٹ ادارے کے اعلی ترین عہدے پر فائز پروفیسر ڈاکٹر ظفر اللہ چوہدری صاحب ہیں۔جس طرح مصنف نے اپنے عظیم استاد کو شان عقیدت پیش کیا ،ان میں بھی الفاظ کا جادو نظر آتا ہے ۔’مشاہدات و تاثرات‘ کا چوتھا حصہ مصنف کی ذاتی زندگی اور چند انٹرویوز پر مشتمل ہے ۔پانچویں حصے میں مصنف مکمل طور دین کے میلان میں ڈوبا دکھائی دیتا ہے اور اس حصے کو پڑھنے کے بعد انسان کو اپنی زندگی کا اصل مقصد نظر آنے لگتا ہے۔مکہ،مدینہ،حج بیت اللہ کے بارے میں لکھا گیا یہ باب راقم الحروف کی آج تک کی حج کے موضوع پر نظروں سے گزری تمام تحریروں پر بازی لے گیا۔اس باب میں ایک عام آدمی جہاں طواف کرتا دکھائی دیا، وہیں ایک ایک منظر کا نقشہ کچھ ایسا کھینچا گیا کہ جیسے قاری خود طواف میں ہو۔اس باب کو پڑھنے کے بعد راقم القلم کے دل میں بھی خدا کا گھر دیکھنے کی تڑپ جاگ اٹھی اور جس طرح اس باب میں حج کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے وہ مجھ جیسے افراد کے لیے بہت رہنمائی کا باعث ہے۔اس تصنیف کے آخری حصے میں اس کتاب کا مسودہ پڑھنے والوں کے مشاہدات کو شامل کیا گیا۔اس لحاظ سے مشاہدات پر مبنی یہ کتاب ،علم و ادب کی ایک نئی روح متعارف کراتی ہے کہ جس میں ملک اور دنیا کے نامور افراد کے تجزیے بغیر کسی زیر زبر کی تبدیلی کے بغیر کتاب میں شامل کیے گئے ہیں۔ بطور قاری پروفیسر گوندل کی کتاب پڑھنے کے بعد بطور انسان ان کی یہی تصویر سامنے آئی کہ وہ اپنے کام میں یکتا،باعمل مسلمان،سچے پاکستانی اور یاروں کے یار ہیں۔آج کل کے اس پر آشوب دور میں کہ جب لوگ اسلام کو قدامت پسندی کی علامت جانتے، ویسٹرن معاشرے کا رخ کرتے دکھائی دیتے ہیں،اس شخص نے ذاتی زندگی میں اپنے والد کی انگلی پکڑ کر جو چلنا سیکھا،اس چال کو ہر ملک میں جا کر عمل سے روشناس کرایا۔ ایک ایک ورق پر یہی پڑھنے کو ملا کہ کس طرح یورپ آج بھی اسلام اور اس سے جڑی تاریخ اور امارات کے نشے میں ہے۔ان کی تمام تحقیق کس طرح اسلامی تاریخ کے گرد گھومتی ہے۔کس طرح اگر کوئی سچا مومن اگر دل میں خداکی محبت لے کر نکلے تو وہ مے خانے میں بھی خدا ڈھونڈ لے، اور جسے خدا نہ ملنا ہو،اسے مسجد،مندر،کلیسا میں بھی نور نظر نہ آئے ،یہ سب اس تصنیف میں نظر آتا ہے۔

پروفیسر گوندل ایک انتہائی شفیق استاد کی طرح ،انہوں نے پہلی ملاقات میں براہ راست مخاطب کر کے انتہائی شفقت کے جملے بولے اور وہ جملے اس کتاب کو پڑھنے کے بعد روح میں داخل ہوگئے۔ ”جوان پریشان نہ ہوا کرو، تمھاری ماں باپ کی ڈھیروں دعائیں تمھارے ساتھ ہیں، کامیاب ہوگے “۔ یہ ایک محفل کے دوران پوسٹ گریجویٹ تعلیم پر سرکار کی سخت ترین پالیسیوں پر کیے ایک کڑوے سوال کا انتہائی میٹھا جواب تھا، مگر کتاب پڑھنے کے بعد اس بات کا احساس ہوا کہ وہ کسی سوال کا جواب نہیں،غیب سے ولی کی ملی دعا تھی۔ اللہ نے واقعی بدترین مشکل سے معجزاتی طور پر نکال دیا، اور والدہ خوش خبری کے وقت جائے نماز پر بیٹھی میرے لیے ہی دعا کر رہی تھیں۔ جب یہ کتاب پڑھنے کو ملی ،پروفیسر صاحب کا نام پڑھا تو بے اختیار اچک لینے کا دل کیا،اور کتاب پڑھ کر احساس ہوا کہ عشق صرف مجازیت سے حقیقت تک کا سفر نہیں ہے۔عشق تو آپ اپنی تربیت ،اپنے والدین،اپنے پیشے سے بھی کر سکتے ہیں، مجازی عشق میں اپنے پیشے ، اپنی تعلیم کے ساتھ کسی حسین زلف کی اسیری جیسا رشتہ جوڑ لو، سخت محنت میں ، اللہ اور رسول ﷺ کی محبت شامل کرلو، تو دنیا پر ہی مجازیت بھی مل جاتی ہے اور سینے میں ورد بھی جاری رہتا ہے۔ مشاہدات و تاثرات ، ایلف شفق کی 40 rules of love جیسی تصنیف ہے، یہ آپ پر تصوف کی وجدانی کیفیت طاری کردیتی ہے ، کیونکہ دین و دنیا کا ملاپ،ہی انسانیت کی معراج ہے اور وہ صرف پروفیسر گوندل جیسے انسانوں کی زندگی کے مشاہدات سے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔

مزید : بلاگ


loading...