پنجاب کی وہ جٹی کے جس کے حُسن و جمال میں مہاراجہ رنجیت سنگھ دیوانہ ہوگیا تو جٹی نے بیاہ کے لئے ایسی شرط رکھ دی کہ مہاراجہ کو لاہور سے امرتسر ننگے پیر جانا پڑگیا 

پنجاب کی وہ جٹی کے جس کے حُسن و جمال میں مہاراجہ رنجیت سنگھ دیوانہ ہوگیا تو ...
پنجاب کی وہ جٹی کے جس کے حُسن و جمال میں مہاراجہ رنجیت سنگھ دیوانہ ہوگیا تو جٹی نے بیاہ کے لئے ایسی شرط رکھ دی کہ مہاراجہ کو لاہور سے امرتسر ننگے پیر جانا پڑگیا 

  



لاہور(ایس چودھری )پنجاب میں سکھ سلطنت کے بانی مہاراجہ رنجیت سنگھ نے دس سے زیادہ شادیاں کی تھیں۔اسکی عادت تھی کہ وہ کسی دبنگ خاتون سے شادی کرتا ۔پنجاب کے طاقتورسرداروں کی بیواوں اور بیٹیوں سے وہ شادیوں میں دیر نہیں لگاتا تھا تاہم ان خواتین کے نام کے ساتھ صرف رانی ہی لکھا جاتا تھا ۔ وہ حسن و جمال کا دیوانہ تھا لیکن اپنی رانیوں میں دلیری اور بے باکی کا بھی خواہاں ہوتا تھا ۔وہ چیلنج کرنے والی خاتین کو بے حد پسند کرتا تھا ۔26 جون 1839 ء کو مہاراجہ رنجیت سنگھ کے لاہور میں انتقال کے بعد لاہور میں سکھ دربار سیاسی خلفشار اور افتراق کا شکار ہوا اور دس سال تک رنجیت سنگھ کی گدی اسکی رانیوں نے سنبھال کر رکھی ۔ان پنجابی حکمران رانیوں میں اس کی تیسری بیوی امرتسر کی ایک خوبصورت سندھو جٹی مہارانی روپ کور تھی۔مہاراجہ تک جب اسکے حسن اور غرور کے چرچے پہنچے تو وہ دل ہار بیٹھا اور اس سے بیاہ کا سندیسہ بھیج دیا ۔محقق کہتے ہیں کہ مہارانی روپ کور سے بیاہ کے بعد مہاراجہ نے امرتسر شہر سے دس میل پہلے کوٹ خالصہ میں چھاونی بنائی تھی۔

مہارانی روپ کورکوٹ خالصہ کے سردار جے سنگھ گوریوال کی بیٹی اور کمدن چرٹ سنگھ اور کمدن بھپ سنگھ کی بہن تھی۔ روپ کور نے مہاراجہ سے شادی کے لئے ایسی کڑی شرط رکھ دی کہ کوئی مہاراجہ اسکو اپنی شان کے خلاف سمجھ کر اسکو سزادینے پر تل جاتا مگر حیران کن حد تک مہاراجہ نے اسکی شرط قبول کرلی ۔رانی نے شرط رکھی تھی کہ سکھ سلطنت کا مہاراجہ رنجیت لاہور سے ننگے پاؤں نکلے اور امرتسر تک ننگے پاوں ہی آئے ۔مہاراجہ نے اسکی شرط پوری کی تو روپ کوراس کے ساتھ شادی کرنے پر رضامند ہوئی ۔ 

مہاراجہ نے امرتسر میں دربار صاحب کی حفاظت کے لئے کوٹ خالصہ میں ایک چھاونی تعمیر کرائی تھی اور اس کا انتظام اس نے جے سنگھ کے سپر دکیا تھا ۔کوٹ خالصہ وہی مشہور تاریخی قصبہ ہے جو اپنی جغرافیائیا ور دفاعی اہمیت کی وجہ سے کئی بار جنگوں کا میدان بھی بنا ۔کوٹ خالصہ سے پہلے اسکا نام کوٹ سیدمود تھا جو ایک مسلمان جنگجو کے نام پر تھا ۔مہاراجہ نے کوٹ خالصہ میں مہارانی روپ کور کے نام پر ایک کنوان بھی تعمیر کرایا تھا جس کی دیوار کے ساتھ بیٹھ کر چھونی کی تعمیر اور فوجیوں کی بھرتی کای کرتا تھا ۔اس کنویں سے مسلمانوں کو بھی پانی لینے کی اجازت دی گئی تھی ۔وہ چمڑے کی بنی ایک بوکی کے ذریعے سے اس کنویں سے پانی لیتے تھے ۔یہ کنواں تین صدیوں تک قائم رہا ۔آج بھی کوٹ خالصہ جو کہ امرتسرسے دس کلومیٹر دوری پر جی ٹی روڈ واہگہ پر موجود ہے ،وہاں اس کنویں اور مہارانی روپ کور کی یادوں کے آثار موجود ہیں۔کوٹ خالصہ واہگہ بارڈر سے چوبیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /علاقائی /پنجاب /لاہور


loading...