ا گر بالا کوٹ کے ہسپتال ،سکول میں کوئی بھی کوتاہی نظر آئی تو ایکشن لوں گا،چیف جسٹس

ا گر بالا کوٹ کے ہسپتال ،سکول میں کوئی بھی کوتاہی نظر آئی تو ایکشن لوں ...
ا گر بالا کوٹ کے ہسپتال ،سکول میں کوئی بھی کوتاہی نظر آئی تو ایکشن لوں گا،چیف جسٹس

  



مانسہرہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ مانسہرہ میں زلزلہ زدہ علاقے آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، بالا کوٹ ،ودیگر علاقوں میں ہسپتال اور اسکول دیکھنے آیا ہوں۔اگرکوئی بھی کوتاہی نظر آئی توایکشن لوں گا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے مانسہر ہ بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا میرے اس موٹیویشن کے پیچھے جسٹس اعجاز افضل ہیں۔ انہوں نے کہا سکول اور ہسپتال کی فراہمی بنیادی حقوں میں شامل ہے، جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ میرے علاقے کامسئلہ ہے میں خود کیس نہیں سن سکتا، بنیادی حقوق کی پاسداری ہماری ذمہ داری ہے، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرونگا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس افضل نے بتایا کہ یہاں بنیادی حقوق کی پامالی ہورہی ہے اس لیے خود دیکھنے آیا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہاں کوئی ہسپتال یا اسکول فعال نہیں ہے۔ ہسپتال اور سکول کی فراہمی بنیادی حقوق میں شامل ہے۔ہسپتالوں میں بھی بنیادی سہولتیں موجود نہیں ہیں۔ہمیں عوام کوبنیادی سہولتیں دلوانی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دعا کریں جس مقصد کیلئے آیا ہوں وہ پورا ہوجائے۔چیف جسٹس نے کہا کہ بالا کوٹ ،ودیگر علاقوں میں ہسپتال اور اسکول دیکھنے آیا ہوں۔اگرکوئی بھی کوتاہی نظر آئی توایکشن لوں گا۔

انہوں نے کہا کہ مانسہرہ میں جج کی حیثیت سے نہیں آیاہوں۔ نیک جذبے کے تحت علاقوں کا دورہ کررہا ہوں۔ جسٹس اعجاز افضل کی درخواست پرمیں آج مانسہرہ آیا ہوں۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ زلزلے کے بعد یہاں بنیادی سہولتیں نہیں ہیں۔ انہوںنے کہا کہ زلزلہ زدہ علاقوں میں زیرتعمیر منصوبے بھی مکمل نہیں ہوئے۔

قبل ازیں سپریم کورٹ میں زلزلہ متاثرین فنڈز کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کے استفسار پر وزارت خزانہ کے نمائندہ نے بتایا کہ زلزلہ متاثرین کیلئے بیرون ملک سے دو ارب 89 کروڑ ڈالر امداد آئی، پاکستان سے اکٹھی ہونے والی امداد کی تفصیلات موجود نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا معلوم ہونا چاہیے کہ امداد میں مجموعی طور پر کتنا پیسہ جمع ہوا، ایرا میں چاچے مامے اور دوسرے رشتہ دار بھرتی کئے گئے، متاثرین کیلئے بیرونی امداد کسی دوسری جگہ استعمال کرنا جرم ہے، یہ نیب کیلئے روزانہ کی بنیاد پر تحقیقات کا فٹ کیس ہے۔

چیف جسٹس نے کہا بالاکوٹ میں ابھی تک لوگ بغیر چھت کے رہ رہے ہیں، ایرا کے نمائندہ نے بتایا وہاں زمین کا قبضہ مل جائے تو دو سال میں منصوبے مکمل ہو جائیں گے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کیا غریب لوگ دو سال تک کھلے آسمان تلے رہیں گے ؟ یہ متعلقہ اداروں کیلئے شرم کا مقام ہے ، زلزلہ زدگان کیلئے بنائے گئے شیلٹر میں چیئرمین ایرا رہ سکتے ہیں ؟ وہ تو بنگلوں میں رہتے ہوں گے۔ چیف جسٹس نے متعلقہ حکام کو بالا کوٹ پہنچنے کا حکم دیا اور براستہ موٹروے بالاکوٹ چلے گئے۔

مزید : اہم خبریں /قومی