’بھارت کی حکمران جماعت سمجھتی ہے کہ مسلمان خواتین کو ریپ کرنے سے۔۔۔‘ معروف بھارتی مصنف نے بھارتی حکومت کا شرمناک چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا

’بھارت کی حکمران جماعت سمجھتی ہے کہ مسلمان خواتین کو ریپ کرنے سے۔۔۔‘ معروف ...
’بھارت کی حکمران جماعت سمجھتی ہے کہ مسلمان خواتین کو ریپ کرنے سے۔۔۔‘ معروف بھارتی مصنف نے بھارتی حکومت کا شرمناک چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا

  



لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں اقلیتیں، بالخصوص مسلمان جس کسمپرسی اور خوف کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ اب ایک بھارتی مصنف نے نریندرمودی سرکار کے ایک ایسے شیطانی روپ سے نقاب الٹ دیا ہے کہ سن کر شیطان بھی شرم سے منہ چھپاتا پھرے۔ امرت ولسن نامی مصنف نے دی گارڈین میں شائع ہونے والے اپنے آرٹیکل میں لکھا ہے کہ ’’مسلمان خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کرنا بھارتیہ جنتا پارٹی کا نظریہ ہے۔ اس کے رہنماء کھلے عام مسلم خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کی بات کرتے ہیں اور ان کے نزدیک یہ نیکی کا کام ہے۔ ان رہنماؤں میں بی جے پی کے بانی مادھو سدیشو گولواکر، ونائیک دمودار سورکر اور دیگر شامل ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہٹلر اور اس کی پالیسیوں کی تعریف کرتے ہیں اور بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کرنے کے خواہش مند ہیں۔ سورکر نے اپنے ایک جلسے میں کھلے عام کہا تھا کہ ’’مسلمان لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہونی چاہیے، اگر ہم ان کے ساتھ جنسی زیادتی نہیں کریں گے تو ہم تباہ ہو جائیں گے اور یہ خودکشی کے مترادف ہو گا۔ان کی عزتیں لوٹنے میں ہی ہماری بقاء ہے۔‘‘

امرت ولسن نے مزید لکھا ہے کہ ’’چند روز قبل ایک مندر میں 8سال کی مسلمان بچی کو اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا، اس سے پہلے بھی ایسے لاتعداد واقعات پیش آ چکے ہیں۔ جب آپ بی جے پی اور آر ایس ایس کے پیچھے موجود ایسے لوگوں کو دیکھیں گے اور ان کی آئیڈیالوجی سے آگاہی حاصل کریں گے تو آپ کو مسلمان خواتین کے ساتھ اس غیرانسانی سلوک پر حیرت نہیں ہو گی، آپ کو سمجھ آئے گا کہ یہ سب کچھ کیسے منصوبہ بندی کے تحت ہو رہا ہے۔ بھارت میں مسلم خواتین کبھی بھی محفوظ نہیں رہیں لیکن نریندر مودی کی حکومت میں جہاں ان کے خلاف جنسی جرائم انتہائی تیزی کے ساتھ بڑھے ہیں وہیں ایک ایسا رجحان پنپنا شروع ہوا ہے کہ جس کا سوچ کر ہی انسان شرمندہ رہ جائے۔ اس سے قبل جب کسی مسلم لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی ہوتی تھی تو ملزم اپنا جرم چھپانے کی کوشش کرتے تھے، اب وہ مسلم لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اس پر جشن مناتے ہیں اور اس کی تشہیر کرتے ہیں۔‘‘

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...