سیکرٹری قانون روڑے اٹکا رہے ہیں ،مصالحتی عدالتی نظام نافذ نہ ہواتومقدمات نمٹانے میں320برس لگیں گے:ممبر ہائی کورٹ کمیٹی 

سیکرٹری قانون روڑے اٹکا رہے ہیں ،مصالحتی عدالتی نظام نافذ نہ ہواتومقدمات ...
سیکرٹری قانون روڑے اٹکا رہے ہیں ،مصالحتی عدالتی نظام نافذ نہ ہواتومقدمات نمٹانے میں320برس لگیں گے:ممبر ہائی کورٹ کمیٹی 

  



لاہور(نامہ نگار خصوصی )مصالحتی عدالتوں کے نظام کے لئے قائم لاہور ہائیکورٹ کی کمیٹی کے ممبر میاں ظفر اقبال کلانوری نے کہا ہے کہ اگر مصالحتی عدالتی نظام کو حقیقی معنوں میں نافذ نہ کیا گیا توزیر التواءمقدمات کونمٹانے کے لئے 320برس لگیں گے۔تاخیر سے دیا گیا انصاف ناانصافی ہے۔

مصالحتی سینٹرز کی کارکردگی سے متعلق ہونے والے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے میاں ظفر اقبال کلانوری ایڈووکیٹ نے کہا کہ انصاف کی عدم فراہمی مجرمانہ غفلت ہے، مصالحتی سینٹرز کی عدم فعالیت کے نتیجے میں عدلیہ سے مقدمات کادباﺅ کم نہیں کیا جا سکتا، انہوں نے کہا کہ پنجاب بھر کے 36اضلاع میں قائم مصالحتی سینٹرز بہترین کارکردگی کامظاہرہ کررہے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ ان سینٹرز کو بھیجے جانے والے مقدمات میں سے 87فیصد سے زائد نمٹا دیئے گئے ،یہ انصاف کی فوری فراہمی کے لئے حیران کن اور مثبت پیش رفت ہے، انہوں نے کہا کہ سیکرٹری قانون پنجاب ابولحسن نجمی کی ہٹ دھرمی کی بناءپر مصالحتی قانون کا مسودہ منظوری کے لئے اسمبلی میں نہیں بھجوایا جا رہا، وہ ذاتی طور پر اس معاملے کو آئین کے آرٹیکل 184 کے سب سیکشن 3کے تحت سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے،مصالحتی نظام کو جان بوجھ کر التواءکا شکار کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے بیرون ملک سے آنے والے سرمایہ کار واپس جانے پر مجبور ہیں، لاہور چیمبر کے سابق صدر انجینئرسہیل لاشاری نے کہا کہ لاہور چیمبر میں قائم مصالحتی سینٹر کو 158درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے 47درخواستیں مصالحت ہونے کی بناءپر نمٹائی گئی ہیں۔

(5)

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور


loading...