14پاکستانیوں کی شہادت اور سی پیک

14پاکستانیوں کی شہادت اور سی پیک
14پاکستانیوں کی شہادت اور سی پیک

  

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مملکت اسلامیہ پاکستان کے خلاف برسرپیکار قوتیں آخری راؤنڈ کھیلنے کے لیئے اپنے گماشتوں سمیت میدانوں میں اتر چکی ہیں ۔ جس کا اندازہ 18اپریل بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کو کوسٹل ہائی وے پر اورماڑہ کے مقام پر ہونے والے بدترین دہشت گردی کے واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ جس میں 14پاکستانیوں جن میں نیوی کے 10، فضائیہ کے 3 اور کوسٹ گارڈ کے ایک اہلکار کوبسوں سے اتار کر باقاعدہ شناختی کارڈ چیک کر کے پیچھے ہاتھ باندھ کر شہید کر دیا گیاتھا۔جس سے پوری قوم شدید غم وغصے کی حالت میں تھی ،اور یہ جاننا چاہ رہی تھی کہ اس اندوہناک واقعہ کے پیچھے کونسی قوتیں ہیں ؟ ۔ تب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک پریس کانفرنس میں تصدیق کی کہ دہشت گرد ایران کی جانب سے آئے تھے ۔ جس سے حکومت ایران کو آگاہ کر دیا گیا ہے اور انہوں نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے ۔

پاک سیکورٹی اہلکاروں کو جس ” براس BRAS “ نامی دہشت گرد تنظیم نے شہید کیا ہے ، یہ دراصل تین علیحدگی پسند مسلح بلوچ تنظیموں ( بلوچ لبریشن آرمی ، بلوچستان لبریشن فرنٹ اور بلوچ ریپبلکن گارڈ ) کا اتحاد ہے ۔ جس کو بدنام زمانہ بھارتی خفیہ ایجنسی RAW مکمل سپورٹ کر رہی ہے ۔ جبکہ اس کے ٹھکانے ایرانی سرحدوں کے اندر ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں رہنا چاہیے کہ مملکت اسلامیہ پاکستان کے خلاف بھارتی دہشت گردی کا سب سے بڑا بیرون ملک اڈہ چاہ بہار بندرگاہ ہے ۔ جہاں پر تمام تر الفاظی جنگ کے باوجود امریکہ ، اسرائیل ، بھارت اور ایرانی رجیم ایک پیج پر ہیں یعنی سی پیک کی مخالفت میں ۔ جس میں ان طاقتوں کو آستین کے سانپوں کی مدد بھی حاصل ہے   ۔ مملکت اسلامیہ کے بدخواہوں کے لیئے سی پیک ایک ایسا ڈراؤنا خواب بن چکا ہے جس نے ان کی نیندیں حرام کر دی ہیں ۔ جس کو سبوتاژ کرنے کے لیئے وہ آخری حد تک بھی جا سکتے ہیں ۔ آنے والی ان ہولناکیوں کے ادراک کے لیئے قوم کو فکری اور عسکری طور پر تیار کرنے کے ساتھ ساتھ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے آستین کے سانپوں کی موجودگی سے بھی آگاہ کرنا ہو گا ۔

المیہ یہ ہے کہ اتنے بڑے دہشت گردی کے واقعہ پر جذبہ وطنیت سے عاری ہمارے میڈیا کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو ۔ مجال ہے کہ اس اندوہناک دہشت گردی کے واقعہ پر ایک لفظ بھی بولا ہو یا لکھا ہو ۔ یہ آنے والی اس خوفناک صورت حال کی عکاسی کر رہی ہے کہ ہماری صفوں میں میرجعفر و صادق اتنے طاقتور ہو چکے ہیں، خدانخواستہ جو کسی وقت بھی مملکت اسلامیہ کو شام و عراق بناسکتے ہیں ۔ حقیقی طور پر پاکستانی عوام زندگی اور موت کے درمیان کھڑی ہے ۔ کیا ایرانی حکومت کی مرضی کے بغیر وہاں پر پاکستان مخالف دہشت گردی کا اتنا بڑا نیٹ ورک قائم ہو سکتا ہے ؟ کیا” براس “کے دہشت گرد ایرانی حکومت کی آشیر آباد کے بغیر اتنی گھناؤنی دہشت گردی کی واردات کر سکتے ہیں ۔ ؟جبکہ پاکستان کے سیکورٹی اداروں کے پاس پہلے ہی سے بلوچستان میں ایران و بھارت کی مداخلت کے ٹھوس شواہد موجود ہیں ۔ جس کی سب سے بڑی دلیل ماضی میں بھارتی فوج کے حاضر سروس کرنل کلبھوشن یادیو کی گرفتاری ہے جو چاہ بہار میں بیٹھ کر کئی سال تک پاکستان میں دہشت گردی کا گھناؤنا کھیل کھیلتا رہا ہے ۔ مملکت اسلامیہ پاکستان ، پاک فوج اور آئی ایس آئی کو ٹارگٹ کرنے والوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس دیوار توحید سے جو بھی ٹکرایا ، اس کودنیا میں عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔

پاک فوج اور آئی ایس آئی کی مخالفت کرنے والوں کو اس حقیقت کا بھی ادراک کر لینا چاہیئے کہ تمام تر حشرسامانیوں کے باوجود اسرائیلی قوم کا یہ ایمان ہے کہ بدنام زمانہ و دہشت گرد خفیہ ایجنسی” موساد“ ان کے دفاع کے لیئے کام کر رہی ہے ۔بین الاقوامی سروے کے مطابق ہراسرائیلی اپنی جان سے زیادہ موساد کی  فکر کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک کبھی بھی کسی بھی اسرائیلی یہودی نے موساد کے خلاف مورچہ نہیں سنبھالا ۔ جبکہ ہمارے ہاں آئی ایس آئی پر ایسے چلاتے ہیں کہ اللہ کی پناہ ۔ اور چیحنے چلانے والے وہ ہوتے ہیں جن کا اپنا شجرہ نصب بھی مشکوک ہوتا ہے ۔ عیار دشمن سمجھ چکا ہے کہ کلمہ توحید کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والی مملکت اسلامیہ کو توڑنے اور غیر مستحکم کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ پاک فوج اور آئی ایس آئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں ایک جانب پاک فوج کو عوام کی نظروں میں متنازعہ بنانے کی ناکام کوششیں کی جاتی ہیں تو دوسری جانب اس کی تحقیر کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا جاتا ۔ پاکستان میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہونے والے دہشت گردی کے واقعات اور آئے روز پاک سرحدوں کی پامالی جیسے واقعات سمیت پاک سیکورٹی اہلکاروں کی شہادتوں کے ایشو کو ایران کی سیاسی ، مذہبی اور ملٹری قیادت کے سامنے پوری قوت سے اٹھایا جائےکیونکہ مملکت اسلامیہ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں ۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ پر بھیج دیں۔ 

مزید :

بلاگ -