سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا پیغامِ رمضان

سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا پیغامِ رمضان

  

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے رمضان المبارک کی آمد پر دُنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے بھرپور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے، اپنے وڈیو پیغام میں اُن کا کہنا تھا کہ یہ رمضان المبارک پہلے کی نسبت بہت مختلف ہو گا، کیونکہ کورونا وائرس کے باعث تمام سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔ایک بار پھر جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے عالمی ادارے کے سربراہ نے کہا کہ کورونا وائرس سے لڑنے کے لئے جنگ بندی ضروری ہے۔ انہوں نے قرآن حکیم کی سورہ انفال کی آیت 61 کا حوالہ دیا،جس میں فرمانِ الٰہی ہے ”اے نبی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لئے آمادہ ہو“۔انہوں نے کہا کہ مَیں پوری مسلم دُنیا کی حکومتوں اور لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جو مہمان نوازی اور سخاوت کی بہترین اسلامی روایت میں امن پسند لوگوں کی حمایت کرتے ہوئے اپنے عقائد کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں، جو اِس دُنیا کے لئے ایک سبق ہے، جہاں کورونا وائرس سے بھی پہلے تحفظ کے محتاج افراد کے لئے بہت سے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں۔ وہ اِس مشکل وقت میں تمام افراد کے لئے اتحاد و یکجہتی،ہمدردی اور رحمتوں کے لئے دُعا گو ہیں۔

رحمتوں، برکتوں اور جہنم سے نجات کا مہینہ رمضان المبارک ایسے وقت میں شروع ہوا ہے، جب دُنیا کو ایک ذرّے نے محتاج بنا دیا ہے، دُنیا بھر میں روزانہ ہزاروں اموات ہو رہی ہیں اور مرض پھیلتا ہی جا رہا ہے۔ بہت ہی محدود پیمانے پر ایسی ادویات کی تیاری تجربات کے مراحل میں ہے، جن کے استعمال سے حفظ ِ ماتقدم کے اقدامات ہو سکتے ہیں۔روزانہ اربوں کھربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے اور ہنستی کھیلتی انسانی آبادیوں پر موت کے سائے منڈلا رہے ہیں، عالم ِ اسلام میں مساجد بند ہیں، اور محدود لوگوں کے ساتھ فرض نمازیں ادا کی جا رہی ہیں، رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی مساجد میں جو رونق معمول تھی، وہ اب کی بار مفقود ہے، آزمائش کے یہ لمحات کتنے طویل ہوتے ہیں کسی کو کچھ علم نہیں،جو اعلانات ہو رہے ہیں سب تخمینے اور اندازے ہیں،جو کبھی صحیح ہو جاتے ہیں اور کبھی غلط،جو لوگ اندازے لگاتے ہیں اور ان کی بنیاد پر اپنے اقدامات کی عمارت استوار کرتے ہیں، اُن کا فہم و ادراک بھی محدود ہے، جب سے وائرس حملہ آور ہوا ہے اس نے بڑے بڑے دانشوروں کی دانش کا بھانڈا بھی بیچ چوراہے کے پھوڑ دیا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ رہنماؤں کی دانش پر پڑے ہوئے سارے حجاب اٹھتے چلے جا رہے ہیں اور ان کی صلاحیتوں کا عجز نمایاں سے نمایاں تر ہوتا چلا جا رہا ہے،وائرس جتنا پھیلے گا، ان لوگوں کا فہم و ادراک اتنا ہی سکڑتا چلا جائے گا، فاعتبرو یا اولی الابصار۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے رمضان المبارک کے آغاز میں ایک بار پھر اپیل کی ہے کہ دُنیا کے ہر خطے میں لڑائیاں بند کر دی جائیں، انہوں نے اپنا فرض پورا کر دیا اب دیکھنا ہو گا کہ دُنیا کے متحارب رہنما اُن کی اِس اپیل پر کس طرح کان دھرتے ہیں،کورونا کی قہر سامانیاں اپنی جگہ، لیکن جہاں انسان انسانوں کو مار رہے ہیں اُن کا ہاتھ تو رُک جانا چاہئے، لیکن قتل و استہلاک کا یہ سلسلہ بھی بدستور جاری ہے اور نہیں لگتا کہ یہ مستقبل قریب میں رُک جائے گا۔ کورونا نے نئے مناقشات اور نئے تنازعات کو بھی جنم دے دیا ہے، امریکہ نے اس حوالے سے چین پر چڑھائی شروع کر رکھی ہے اور چینی لیبارٹریوں کے معائنے کا مطالبہ کر رہا ہے یہ الزام پہلے ہی لگایا جا چکا ہے کہ چین نے یہ وائرس کسی لیبارٹری میں تیار کیا۔ چین بار بار اس الزام کی تردید کر رہا ہے،لیکن ہر گزرتے دِن کے ساتھ نئے نئے حربے اور شوشے بھی سامنے آتے جا رہے ہیں۔صدر ٹرمپ کو نہ جانے کیسے یہ یقین ہو گیا ہے کہ کورونا کا علاج کلورو کوئین ہی سے ممکن ہے، جو بنیادی طور پر ملیریا کی دوا ہے اور انہوں نے اپنے ملک کے ایک ڈاکٹر کو اِس لئے سرکاری ادارے کی سربراہی سے ہٹا دیا ہے کہ وہ کورونا کے مریضوں کو یہ دوا دینے کی مخالفت کر رہے تھے۔اختلافِ رائے برداشت کرنے کے لئے جو جرأت اور حوصلہ چاہئے دُنیا کے رہنماؤں کی اکثریت اس سے محروم ہے چاہے یہ ملک جمہوریت کے کتنے بھی دعویدار ہوں۔ عقل ِ کل ہونے کے دعویداروں کی کمی دُنیا میں کبھی نہیں رہی اور آج بھی ہمارے اردگرد ایسے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ہمارے خطے میں ایران کورونا کی وبا سے بُری طرح متاثر ہوا ہے، پہلے سے جاری امریکی پابندیوں سے نہ صرف ایرانی معیشت بُری طرح متاثر ہوئی ہے، بلکہ انسانی صحت کے مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں،دُنیا بھر نے اس سلسلے میں اپیلیں جاری کیں،لیکن اس معاملے پر بھی سیاسی مصلحتیں انسانی ضرورتوں پر غالب آ گئی ہیں، ایران کو سیاسی طور پر مغلوب و مجبور بنانے کے لئے اِن پابندیوں کا استعمال جاری ہے، ایرانی قیادت گھٹنے ٹیکنے کے لئے تیار نہیں۔ البتہ وہ پابندیوں کے خاتمے کو اپنا حق تصور کرتی ہے، لیکن اس سلسلے میں مثبت پیش رفت نہیں ہو رہی، بھارت میں مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے، ہندوؤں کے زیر اثر میڈیا مسلمانوں کو وائرس پھیلانے کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے، اس سے جو اشتعال پھیل رہا ہے اس کی وجہ سے بھی بے گناہوں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، لیکن بی جے پی جسے تعصب کی سیاست کرنے پر اقتدار حاصل ہوا ہے، اس آگ کے شعلوں کو تیزی سے ہوا دے رہی ہے اور نفرت کا کاروبار فروغ پا رہا ہے۔بظاہر کوئی جنگ بھی نہیں ہو رہی،لیکن ہلاکتیں اسی طرح ہو رہی ہیں جس طرح جنگوں میں ہوتی ہیں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کئی بار بھارت کو کہہ چکے ہیں کہ وہ کشمیریوں کو اُن کے انسانی حقوق دیں اور کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کریں،لیکن اُن کی اِس آواز کو نہیں سنا جا رہا ہے، افغانستان میں طالبان کے ساتھ امریکہ نے امن معاہدہ کیا،لیکن افغان انتظامیہ بھارت کی شہہ پر اس معاہدے پر عمل درآمد کی راہ میں روڑے اٹکا رہی ہے، نتیجہ یہ ہے کہ جس جنگ کے خاتمے کے امکانات پیدا ہوئے تھے اس پر شکوک و شبہات کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ طالبان کے قیدی یک دم رہا کرنے کی بجائے سست روی کے ساتھ یہ سلسلہ جاری ہے،جس کی وجہ سے تنازعات ختم نہیں ہو رہے اور لڑائی کا سلسلہ بھی رُک نہیں رہا، بین الافغان مذاکرات کا امکان بھی پیدا نہیں ہوا۔

جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم سارک کے وزرائے صحت کی ایک آن لائن کانفرنس کا اہتمام پاکستان کی میزبانی میں ہوا، جہاں تجاویز پیش کی گئیں اور ان پر تبادلہ ئ خیال بھی ہوا،لیکن کیا عملی اقدامات بھی ہوں گے،اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ سارک ایک نیم مردہ تنظیم ہے جس کا سربراہ اجلاس کئی برسوں سے نہیں ہوا، اس کا متبادل ایک ٹیلی کانفرنس میں تلاش کیا گیا، جس میں سارک ممالک کے سربراہانِ مملکت و حکومت شریک ہوئے،لیکن پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم کے ایک معاونِ خصوصی نے کی، ایسی تنظیم کورونا کے پھیلاؤ میں کس طرح کا کردار ادا کر سکتی ہے،جس اخلاصِ نیت کی ضرورت ہے وہ بالکل نظر نہیں آ رہا، ایسے میں ٹیلی کانفرنسیں محض ذہنی عیاشی کا ذریعہ ہی ثابت ہو سکتی ہیں اصل ضرورت اِس بات کی ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی اپیل پر توجہ دے اور کشمیر کی کنٹرول لائن پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں بند کر ے،اگر ایسا نہیں ہوتا تو سارک کانفرنس کے بے کیف اجلاسوں سے کیا امیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں؟

مزید :

رائے -اداریہ -