عالمی معیشت امریکہ اور پاکستان

عالمی معیشت امریکہ اور پاکستان
عالمی معیشت امریکہ اور پاکستان

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کورونا وائرس کی عالمی تباہ کاریوں کے ترقی یافتہ معیشتوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے واحد آپشن کے باعث عالمی معاشی نظام تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ زر کی منڈی کریش کر چکی ہے۔ مغربی نظام زر کی جان شرح سود ہوتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام معیشت میں زرعی / بینکاری نظام مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔ گردش زر، سرمایہ کاری، بچتوں و اخراجات کا تعلق مروج شرح سود سے ہوتا ہے۔ شرح سود معاشی سرگرمیوں کو گرم و سرد رکھنے کا ایک موثر آلہ ہوتا ہے۔ حیران کن بات کہ کئی ملکوں میں شرح سود صفر قرار پا چکی ہے، یعنی یہ آلہ خاص بالکل بے کار ثابت ہو گیا ہے۔ دوسری طرف عالمی تجارت و سفارت میں تیل بنیادی اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔ گزشتہ صدی سے قائم عالمی سیاست، تیل اور تیل کی رسد و حمل و نقل اقوام کے درمیان دوستی و دشمنی کا باعث بنتی رہی ہے۔ تیل کی طلب کو حسبِ ضرورت یقینی بنانے کے لئے منصوبہ سازیاں ہوتی رہی ہیں اور جو قوم اپنی تیل کی ضروریات کو یقینی بنا لیتی تھی، وہ ترقی کے مراحل طے کرتی رہتی تھی اور ہنوز(کورونا سے پہلے) یہ عمل جاری ہے۔

قومی ترقی کے معیار کا فیصلہ توانائی کے استعمال میں پوشیدہ ہے اور توانائی کی بنیادی اور مرکزی صورت تیل ہے۔ بحری راستوں پر اجارہ داری اسی مقصد کے لئے قائم کرنے کی کاوشیں کی جاتی ہیں جو قوم بحری قوت میں موثر ہو گی، وہ اسی قدر بحری راستوں پر اپنی نگرانی قائم رکھ سکے گی۔ جنگ عظیم دوم کے بعد شروع کی جانے والی سردجنگ میں بحری راستوں پر کنٹرول کے لئے فوجی جدوجہد، تیل کی ترسیل کو یقینی بنانے کے لئے تھی۔ اشتراکی روس کے انہدام کے بعد امریکہ تھوڑے عرصے کے لئے ورلڈ سپریم پاور کے منصب جلیلہ پر فائز ہو گیا تھا، بلکہ یوں کہئے کہ امریکہ نے اپنے تئیں اپنے آپ کو عالمی چودھری قرار دے لیا تھا، لیکن چونکہ یہ بات غیر فطری تھی، یک قطبی دنیا کا دیر تک قائم رہنا ممکن نہیں تھا، اس لئے اس خلاء کو چین نے بھرنا شروع کر دیا اور ہنوز یہ عمل جاری ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کے ذریعے چین نے معاشی میدان میں اپنی قیادت کا سکہ جمانا شروع کر دیا ہے۔ دوسری طرف 5-G کی لانچ نے فنی و تکنیکی شعبے میں بھی اپنی برتری ثابت کر دی ہے۔


کورونا وائرس کو سب سے پہلے شکست دے کر بطور قوم اپنی تنظیمی اور طبی صلاحیتوں کا سکہ بھی جما لیا ہے۔ عالمی قیادت کی اس دوڑ میں چین بلا شبہ ایک کامیا ب کھلاڑی ہے۔ امریکہ تقریباً 4دہائیوں سے عالمی طاقت کے طور پر اپنی پوزیشن مستحکم رکھے ہوئے ہے، لیکن چین اس کے متوازی اور متبادل کے طور پر اپنی پوزیشن مستحکم بنا رہا ہے۔ امریکہ کا سیاسی، معاشی، عسکری اور تہذیبی ورثہ بلا شبہ موثر اور قابلِ قدر ہے، لیکن اب کورونا کے بعد معاملات جو ایک عرصے سے زوال اور کمزوری کی طرف جا رہے تھے، شائد کوئی حتمی شکل اختیار کر لیں۔ امریکی معیشت، عالمی دنیا میں معیشت کے انجن کی حیثیت رکھتی ہے۔ امریکی معیشت میں اتار چڑھاؤ،245ممالک کی معیشتوں پر اثر ڈالتا ہے۔ امریکی سٹاک مارکیٹ، زر کی عالمی منڈی میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ نیسڈک مارکیٹ، نیویارک سٹاک مارکیٹ انڈکس میں ہلچل پوری دنیا کی سٹاک مارکیٹ میں زلزلہ لے آتا ہے۔ امریکہ کے سیاسی اور سفارتی فیصلے 245ممالک کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔


ڈالر اب بھی عالمی تجارتی کرنسی کے طور پر صف اول میں شمار ہوتا ہے۔ تیل کی تجارت ہو یا حصص کا کاروبار، سونے کی تجارت ہو یا اشیا کا لین دین، ڈالر ایک قابلِ قبول اور مستحکم آلہ لین دین کی حیثیت رکھتا ہے۔ پوری دنیا میں علم و ہنر اور فن کے متلاشیوں کی حتمی منزل امریکہ ہے۔ کوئی اور ملک نہیں۔ امریکی تہذیب تمدنی شعبے میں بھی پسندیدہ ترین کے مرتبے پر فائز ہے، لیکن عالمی وبا کے نتیجے میں بھی امریکہ کا ہلاکتوں اور بربادیوں میں بھی اول نمبر ہے۔ مریضوں کی تعداد 9لاکھ کے قریب پہنچنے والی ہے، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 50ہزار تک پہنچنے والی ہے۔ سٹاک مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہے۔ تیل کی قیمت منفی ہو گئی ہے۔ شرح سود صفر کر دی گئی ہے۔ امریکی عظمت کے دیو کی رگوں میں دوڑنے والا خون منجمد نظر آ رہا ہے۔2200ارب ڈالر کا پیکیج دے کر معاملات کو ”پوائنٹ آف نو ریٹرن“ تک جانے سے روکنے کی کاوش ہے اس کا نتیجہ کیا نکلے گا ابھی کچھ پتہ نہیں ہے، کیونکہ کورونا نے ابھی تک مقابلے اور حملے سے ہاتھ نہیں کھینچا ہے وہ ابھی تک فتح مند ہی نظر آ رہا ہے، لاشوں کے کشتے کے پشتے لگا رہا ہے۔


پاکستان بھی سردست کورونا کی زد میں ہے تھوڑے ہی عرصے میں کورونا نے ہمارے کڑاکے نکال دیئے ہیں۔ ہم پہلے بھی بیساکھیوں پر کھڑے تھے، چل نہیں رینگ رہے تھے۔ کورونا کے حملے نے ہمیں نڈھال کر دیا ہے۔ ہماری معیشت اور معاشرت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ گو کورونا نے ہم پر اس شدت سے حملہ نہیں کیا، جس طرح وہ چین پر حملہ آور ہوا تھا، جس طرح اٹلی، سپین، امریکہ اور دیگر یوپری ممالک پر پل پڑا ہے۔ ہمارے ہاں اس کے غم و غصے کی وہ کیفیت نہیں ہے، اس لئے مریضوں اور ہلاکتوں کی تعداد میں ناقابل برداشت اضافہ نہیں ہوا ہے۔ گو ماہرین کہہ رہے ہیں کہ اگلے 3/4ہفتے بہت نازک ہیں، اگر ہم نے منظم طریقے سے اس کے آگے حفاظتی دیوار کھڑی نہ کی تو حالات بگڑ بھی سکتے ہیں۔ ویسے اموات کے علاوہ ہمارے باقی معاملات تو دگرگوں ہو ہی گئے ہیں۔ہماری معیشت لڑکھڑا رہی ہے 5/6ہفتوں کے دوران قرضے کی منڈی میں ٹریژری بلز اور پاکستان بانڈز کی فروخت کے باعث 2.69 ارب ڈالر نکل گئے اور منڈی میں مندی کا سماں پیدا ہو گیا ہے۔ منڈی سے اتنی بڑی رقم کی پرواز خطرناک ہے، کیونکہ اس سے ہماری معیشت کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔ دوسری طرف قدر زر میں بھی تقریباً 6فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی، اس طرح 9.08روپے کے اضافے کے ساتھ ڈالر کی قیمت 167.89روپے کی ریکارڈ سطح پر آ گئی ہے۔

قدر زر میں کمی کے ساتھ ساتھ گردشِ زر میں بھی کمی کے باعث قوت خرید میں سرد مہری پیدا ہو گئی ہے۔ لاک ڈاؤن نے عمومی معاشی سرگرمیاں بالکل ختم کر دی ہیں، جس کے باعث ڈیلی ویجرز ہی نہیں، بلکہ معاہدے کی بنیاد پر برسرروزگار لوگ بھی اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اب تو ریگولر ملازمین بھی سکتے کے عالم میں نظر آ رہے ہیں، کیونکہ صنعت کار انہیں فارغ بٹھا کر تنخواہیں دینے سے عاجز آ گئے ہیں۔ بے روزگاری عام ہو رہی ہے، نانِ جوین کی خریداری اور دستیابی مشکل ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ہمارا سماجی اور معاشرتی ڈھانچہ شکست و ریخت کا شکار نظر آ رہا ہے۔ ہمارا ریاستی ڈھانچہ جو پہلے ہی کسی ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے، اگر حالات ذرا سے بھی اور بگڑے تو پھر اللہ ہی حافظ ہو گا۔ اس لئے دیکھنا یہ ہو گا کہ معیشت اور معاشرت کو تباہی سے بچایا جائے، تاکہ لوگ روزمرہ کی ضروریات تک رسائی حاصل کر سکیں۔ دوسری طرف کورونا کے خلاف بھی بند باندھنا ضروری ہے، وگرنہ وہ بھی کاری وار کر سکتا ہے، جسے ہم کسی طور بھی برداشت نہیں کر پائیں گے۔

اب یہ توازن یعنی کورونا کے خلاف بند باندھنا اور لوگوں تک ضروریاتِ زندگی بہم پہنچانا اہم معاملہ ہے، اگر کورونا کے خلاف حقیقی لاک ڈاؤن کیا جائے، جیسا کہ چین نے کیا اور اس پر قابو بھی پا لیا۔ جیسا امریکہ و دیگر ترقی یافتہ ممالک کر رہے ہیں تو ہماری انفرادی و شخصی معیشت کا دھڑ ن تختہ لازمی ہے۔ لاکھوں افراد کی بے روزگاری پہلے ہی ہو چکی ہے۔ بھوکوں کے انبوہ بے قابو ہو کر سماجی اور انتظامی مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ حقیقی لاک ڈاؤن کی صورت میں عبادت گاہوں پر تالہ بندی بھی لازمی ہے، جس کے بارے میں لوگوں میں حساسیت اور جذباتیت پائی جاتی ہے، اس لئے اب یہ ہماری قومی قیادت اور فیصلہ ساز اداروں کی لیاقت و ذہانت کا امتحان ہے۔ کھرا امتحان کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں کہ جس پر نفاذ عملی طور پر ممکن بھی ہو اور اس سے نہ صرف کورونا کے خلاف جنگ جیتی جا سکے اور انفرادی معیشت بھی محفوظ رہے۔ کورونا کو شکست بھی دی جا سکے اور معاشی و معاشرتی معاملات بھی بگاڑ کا شکار نہ ہوں۔ قوم قیادت کے فیصلے کی منتظر ہے۔

مزید :

رائے -کالم -