خدارا ہوش کے ناخن لیں

خدارا ہوش کے ناخن لیں
خدارا ہوش کے ناخن لیں

  

کورونا کس قدر جان لیوا وائرس ہے،اس کا اندازہ کل اُس وقت ہوا جب پی آئی اے ملتان کے کارگو آفس میں تعینات پیارے دوست ہارون رشید احمد اسسٹنٹ منیجر آناً فاناً اس کا شکار ہو کر دُنیا سے رخصت ہو گئے۔ ایک صحت مند، مارننگ واک باقاعدگی سے کرنے والا،ہنس مُکھ اور ملنسار انسان نجانے کہاں سے اِس موذی وائرس کے شکنجے میں آیا، دو دن طبیعت خراب رہی، تیسرے دن ڈیوٹی کے دوران طبیعت زیادہ بوجھل ہوئی تو پی آئی اے کے ڈاکٹر کو دکھایا گیا،جنہوں نے کورونا کی علامات کے پیش ِ نظر فوراً نشتر ہسپتال کے کورونا وارڈ میں لے جانے کا کہا،وہاں داخل ہوئے ابھی چند گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ فرشتہ ئ اجل نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ کل جب مَیں سندھ کے ڈاکٹروں کی پریس کانفرنس سن رہا تھا تو مجھے بار بار ہارون رشید احمد کی دردناک موت یاد آ رہی تھی۔ اب مجھے سمجھ آئی کہ دُنیا بھر میں جو کہا جا رہا ہے کہ کورونا کی تباہ کاریوں سے بچو، گھروں میں رہو، وگرنہ یہ موت بن کر گلی گلی، محلے محلے،گھر گھر داخل ہو جائے گا۔

وہ درست ہے ہم اسے ایک مذاق سمجھے رہے ہیں، جب ابھی لاک ڈاؤن نہیں ہوا تھا تو ہارون رشید احمد کمپنی گارڈن میں ہمارے مارننگ واک گروپ کا لازمی حصہ تھے۔ایک لحیم شیم صحت مند جوان، اُن دِنوں جب کورونا وائرس پر بحثیں ہوتیں تو اُن میں شامل ہوتا،جو اِسے امریکہ کا ایک ڈرامہ قرار دیتے، وہ حکومت پر الزام لگاتے کہ یہ صرف ڈالرز لینے کے لئے کیا جا رہا ہے،مگر اس وقت کسی کے علم میں یہ نہیں تھا کہ کون کون اِس ڈرامے کو حقیقت کا روپ دینے والا ہے۔ہارون رشید احمد کی ناگہانی موت کے باعث پی آئی اے ملتان کے کارگو آفس کو سیل کر دیا گیا۔ ہارون رشید احمد کی طرح کارگو آفس میں تعینات دیگر ملازمین بھی روزانہ صبح ڈیوٹی پر آتے اور سارا دن فارغ بیٹھنے کے بعد گھروں کو چلے جاتے، کیونک فلائٹ آپریشن بند تھا اور کوئی کام نہیں تھا کرنے کو،کاش پی آئی اے کے اربابِ اختیار عملے کو چھٹی پر بھیج دیتے، کاش ہارون رشید احمد کی وفات کے بعد جو آفس سیل کیا گیا ہے، وہ پہلے بند کر دیا جاتا تو شاید گھر میں بیٹھے ہوئے ہارون رشید احمد کی جان بچ جاتی۔

ہماری حالت وہ ہے کہ جب تک کوئی قریبی شخص کورونا کا شکار ہو کر ہسپتال نہ جائے یا موت کا شکار نہ ہو ہمیں یقین ہی نہیں آتا کہ کورونا واقعی کوئی بلا ہے،جس نے دُنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ مئی کے مہینے میں کورونا وائرس بڑی تباہی مچا سکتا ہے اور اموات اُس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہیں۔جتنی اب تک ہو چکی ہیں،اس انتباہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس بار جنوبی ایشیاء کے ممالک زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں،اِس لئے وہ لاک ڈاؤن میں نرمی کی غلطی نہ کریں۔اس کا مطلب ہے خطرہ ٹلا نہیں، بلکہ بڑا خطرہ تو سر پر کھڑا ہے،اس کے باوجود ہمارے ہاں عجیب تماشا شروع ہو چکا ہے۔ ہر کوئی کورونا کو بھول کر اپنی بات منوانے کے جنون میں مبتلا نظر آتا ہے۔تاجر دھمکیاں دے رہے ہیں کہ وہ پہلے رمضان سے دکانیں کھول لیں گے، حکومت روک سکتی ہے تو روک کے دکھائے۔اِس سے پہلے حکومت مساجد کھولنے کی اجازت دے چکی ہے، جس کا اب دفاع علمائے کرام بھی نہیں کر پا رہے اور اُن کی طرف سے یہ بیانات آ رہے ہیں کہ وہ نماز اور تراویح گھر میں ہی ادا کریں گے۔

سوال یہ ہے کہ جب علمائے کرام نماز اور تراویح گھر میں پڑھ سکتے ہیں اور اس سے اُن کے ایمان میں بھی کوئی خلل واقع نہیں ہوتا تو پھر وہ عوام کے لئے کیوں اصرار کر رہے ہیں کہ وہ مساجد میں جا کر نماز پڑھیں، کوونا وائرس کے بارے میں سب انداز سے غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ یہ گرمی سے ختم ہو گا نہ ہمارا امیون سسٹم اس کی حشر سامانیوں سے کہیں دور رکھ سکے گا۔ یہ سب کہانیاں ہیں،جب سے اس نے ہارون رشید احمد کی موت کا سنا ہے، مجھے یقین ہو گیا ہے کہ کورونا موت بن کر ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے،اُسے جہاں موقع ملتا ہے، انسان کو دبوچ لیتا ہے۔ عمر دیکھتا ہے اور سماجی عہدہ، اِس لئے اس سے بچنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ اپنے گھر کی چھتوں کے نیچے رہا جائے تاکہ یہ اوپر سے حملہ نہ کر سکے۔

کیا ہم اندھے ہیں کہ سامنے کی حقیقت بھی ہمیں نظر نہیں آ رہی۔گذشتہ ایک ہفتے کے دوران کورونا کیسوں کی تعداد میں 40فیصد اضافہ ہوا ہے۔وہ تناسب جو ایک حد تک تھا اب پندرہ بیس اموات روزانہ تک پہنچ گیا ہے۔ کسی چیز کو سامنے رکھ کر ہم کہیں کہ حالات نارمل ہو رہے ہیں اِس لئے کاروبار کھول دیا جائے،مساجد میں باجماعت نمازوں کی اجازت دے دی جائے،تراویح جو کم از کم ایک گھنٹے کی اقامت پر مشتمل ہوتی ہے،اسے مسجدوں میں پڑھا جائے، کوئی اُن کی بھی سنے جن پر اس کا سارا بوجھ آنا ہے۔ ڈاکٹروں کے پاس اگر گنجائش ہی نہ ہوتی تو کیا وہ واقعی مریضوں کو سڑکوں پر لٹا کر اُن کا علاج کریں گے۔کیا ہم سوشل میڈیا پر دوسرے ممالک کی وڈیوز دیکھ نہیں رہے کہ وہ دفنانے کی گنجائش نہ ہونے کے باعث لاشوں کو پتھر باندھ کر سمندر میں پھینک رہے ہیں، کیا اجتماعی قبروں کے مناظر دیکھنے کو نہیں مل رہے، کئی کئی فرلانگ لمبی کھودی گئی ہیں، کیا ہم یہ چاہتے ہیں، خدانخواستہ ہمارے ہاں بھی ایسے حالات پیدا ہوں، کیا ہم پاگل جنونی قوم بن کر فیصلے کریں گے۔

کراچی کے ڈاکٹروں نے جرأت مندی کا مظاہرہ کر کے پہلا پتھر پھینکا ہے،وگرنہ تو یہاں کورونا کے حوالے سے غیر سنجیدہ باتیں ہی کی جاتی رہی ہیں، حکومتوں کی بدتدبیری ہے کہ وہ ابھی تک کوئی ایسا نظام وضع نہیں کر سکیں کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کو خوراک کے جو مسائل پیش آ سکتے ہیں اُن کا ازالہ کر سکیں۔ تاجروں کو صرف اپنی دکانوں میں پڑے مال کی فکر ہے۔ وہ ایک ہی بات دہرا رہے ہیں کہ حکومت جو بھی ایس او پی بنائے گی، اُس پر عمل کریں گے،ابھی تک جو دکانیں کھلی ہیں، جو مساجد لاک ڈاؤن سے مبرا قرار دی گئی ہیں، وہاں کون سا عمل ہو رہا ہے۔یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں۔ کورونا بوتل کا جن ہے۔ خدانخواستہ یہ جن بوتل بے باہر آ گیا تو پھر ہزاروں جانے لئے بغیر بوتل میں واپس نہیں جائے گا۔ یہ ہم اٹلی، سپین، برطانیہ، امریکہ اور ایران میں دیکھ چکے ہیں اگر پاکستان اس کی تباہ کاجریوں سے بچا ہوا ہے تو اس پر شکر کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ ایسے اقدامات اٹھانے کی جو پاکستان کو اس کا نیا گڑھ بنا دیں۔

مَیں سوچ رہا ہوں کہ ہارون رشید احمد ملتان کے پوش علاقے میں رہتے تھے، اُن کا آفس بھی ابدالی روڈ جیسے مہنگے ترین علاقے میں ہے، جب وہ اس وائرس کا شکار ہو گئے ہیں، تو باقی لوگ کیسے بچے ہوئے ہیں،اس کا واضح مطلب تو یہی ہے کہ کورونا وائرس ملتان کے اندر اپنی جڑیں بنا چکا ہے، نجانے کتنوں پر وار کر چکا ہے اور کتنوں کو ابھی معلوم ہی نہیں کہ وہ اس کا شکار ہو چکے ہیں۔ یہ صورتِ حال ہر بڑے شہر کی ہے۔ لاہور، کراچی،اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور،کوئٹہ، گوجرانوالہ، فیصل آباد، غرض وہ کون سا شہر ہے،جہاں کورونا وائرس کے کیس سامنے نہیں آ رہے۔اسلام آباد میں ایک خطیب اور اس کا پورا گھرانہ کورونا کا شکار ہو گیا ہے۔کیا یہ سب حقیقتیں اِس امر کی متقاضی نہیں کہ ہم ہوش کے ناخن لیں اور پورے معاشرے کو کورونا کے لئے تر نوالہ نہ بنائیں۔ تاجروں کو بھی جذباتی ہونے کی بجائے حالات کی سنگینی کو پیش ِ نظر رکھنا چاہئے۔ مجھے یقین ہے پاکستان میں بھوک سے کوئی نہیں مرے گا، کیونکہ یہ خدا ترس معاشرہ ہے البتہ کورونا پھیل گیا تو موت ہر دروازے پر دستک دیتی نظر آئے گی۔خدارا کچھ دن اور احتیاط اور صبر کر لیا جائے، زندگی ہے تو سب کچھ ہے، وگرنہ سوائے مٹ کی ڈھیری کے اور کچھ موجود نہیں۔

مزید :

رائے -کالم -