کورونا وائرس کے سبب کرکٹ میں بال ٹیمپرنگ قانونی قرار دینے پر غور

  کورونا وائرس کے سبب کرکٹ میں بال ٹیمپرنگ قانونی قرار دینے پر غور

  

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)کورونا وائرس کے سبب کرکٹ میں بال ٹیمپرنگ کو قانونی قرار دینے پر غور کیا جارہا ہے، بولرز کو گیند پر تھوک لگانے سے روکا جائے گا، اور اْس کے بجائے اْنہیں گیند چمکانے کیلئے مصنوعی مواد فراہم کیا جائے گا۔کرکٹ کی معروف ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اس قانون پر غور کیا جارہا ہے کہ جب کورونا وائرس کے بعد حالات معمول کے مطابق ہوجائیں گے اور کرکٹ دوبارہ سے شروع ہوگی تو بولرز کو گیند چمکانے کیلئے اْس پر تھوک لگانے کی اجازت نہیں ہوگی۔اس کے بجائے بولرز کو گیند چمکانے کیلئے مصنوعی مواد فراہم کیا جائیگا اور وہ امپائرز کی نگرانی میں اس مواد کو گیند پر استعمال کرکے اْسے چمکا سکیں گے۔یہ قانون طویل فارمیٹ والی کرکٹ کیلئے ہوگا، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی میڈیکل کمیٹی نے کچھ عرصے قبل اس بات کی جانب توجہ دلائی تھی کہ کورونا وائرس کے بعد جب کرکٹ دوبارہ شروع ہوگی تو بولرز کا تھوک کے ذریعے گیند چمکانے کا عمل کرکٹرز کیلئے خطرے کا سبب بن سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق وہ مصنوعی مواد موم، شو پالش یا چمڑے کو چمکانے والی پالش ہوسکتا ہے، توقع ہے کہ آئی سی سی کی کرکٹ کمیٹی میں اس بارے میں غور وخوض کیا جائیگا جس کا اجلاس مئی کے آخر یا جون میں ہوگا۔خیال رہے کہ موجودہ قوانین کے تحت گیند پر تھوک کے سوا کسی اور شے لگانے کی اجازت نہیں اور ایسا کرنا بال ٹمپرنگ یعنی گیند کیساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے اس کی ساخت تبدیل کرنا کہلاتا ہے۔فاسٹ بولرز ریورس سوئنگ کرنے کیلئے اکثر گیند کو سخت چیز سے رگڑتے ہیں تاہم یہ غیر قانونی ہے۔

بال ٹیمپرنگ

مزید :

صفحہ آخر -