اسلام آباد ہائیکورٹ کا قرض واپسی کیلئے شہریوں کو ہراساں نہ کرنے کا حکم   

  اسلام آباد ہائیکورٹ کا قرض واپسی کیلئے شہریوں کو ہراساں نہ کرنے کا حکم   

  

 اسلام آباد (آئی این پی) اسلام آباد ہائیکورٹ نے بینکوں کو قرض کی واپسی کیلئے شہریوں کوہراساں نہ کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت نے سٹیٹ بینک کے نمائندے کی ہدایات لینے کیلئے وقت دینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت 8 مئی تک ملتو ی کردی۔گزشتہ لاک ڈاؤن کے دوران بینک قرضوں کی واپسی میں ریلیف کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی جس میں چیف ایگزیکٹو نیشنل رورل سپورٹ پروگرام راشد باجوہ عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔دوران سماعت چیف ایگزیکٹو این آر ایس پی راشد باجوہ نے عدالت کو بتایا کہ قرضوں کی ادائیگی کیلئے ایک سال کا وقت دے دیا گیا ہے جبکہ چھوٹے قرضے دینے کیلئے این آر ایس پی کو کمرشل بینکوں سے قرض لینا پڑتا ہے۔ کمرشل بینکوں کو قرضوں کی اقساط ادا نہ کی گئیں تو وہ قرض ملنا بند ہو سکتا ہے۔راشد باجوہ نے استدعا کی کہ عدالت اس حوالے سے کمرشل بینکوں کو بھی ہدایات جاری کرے۔چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ آپ نے یہ بہت اہم معاملہ عدالت کے سامنے اٹھایا ہے۔ چیف جسٹس نے عدالت میں موجود اسٹیٹ بینک کے نمائندے سے استفسار کیا کہ اسٹیٹ بینک کی کیا پالیسی ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک بیوہ نے اس عدالت کو بھی ہاتھ سے لکھی ہوئی درخواست بھیجی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو قرضوں کی قسطوں میں ایک سال کی توسیع سے متعلق علم نہیں۔ این آر ایس پی کے ریجنل دفاتر میں فوکل پرسن مقرر کر دیا جائے جو لوگوں کی رہنمائی کرے۔

قرضی واپسی

مزید :

پشاورصفحہ آخر -