مردان،ڈپٹی کمشنر کے زیر صدارت علماء ومشائخ کا نفرنس کا انعقاد

مردان،ڈپٹی کمشنر کے زیر صدارت علماء ومشائخ کا نفرنس کا انعقاد

  

مردان (بیورورپورٹ)اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس افیسرمردان سجادخان، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو مشتاق حسین،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنائنس نیک محمد سمیت ضلع بھر کے تمام مکاتب فکر اور مسالک سے تعلق رکھنے والے علماء کرام نے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر نے صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان و صوبائی حکومت کی جانب سے کرونا صورتحال کے پیش نظر ماہ رمضان میں مساجد میں اجتماعات سے متعلق جاری ہدایات کے حوالے سے آگاہ کیا۔ علماء کرام سے مشاورت کے بعد کورونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ماہ رمضان میں مساجد میں فرض نماز اور نماز تراویح کی ادایئگی کے لئے حکومت اور طبی ماہرین کی جانب سے طے کردہ احتیاطی تدابیر پر من و عن عملدرآمد کرنے پر مکمل اتفاق کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے علماء کرام کی مشاورت سے کرونا کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ضلعی اور تحصیل کی سطح پر ہر مسلک سے تعلق رکھنے والے علماء و مشائخ کی کمیٹی تشکیل دی جس کا مقصدمساجد میں نماز، تراویح میں نظم و ضبط، سماجی فاصلہ برقرار رکھنے سمیت دیگر متعلقہ معاملات پر حکومت اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں رہے گی۔ڈپٹی کمشنر و ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک ضلع بھر میں ہمیشہ کی طرح علمائے کرام نے تمام معاملات میں ضلعی و پولیس انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کیا ہے- حکومت کو جب بھی ضرورت ہوئی علمائے کرام نے ہمیشہ اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے- انہوں نے کہا کہ کرونا وبا کے آغاز سے لیکر آج تک ضلع انتظامیہ و پولیس نے تمام علمائے کرام کو مشاورتی عمل میں شریک رکھا اور کرونا صورتحال کے پیش نظر اٹھائے گئے تمام اقدامات پر علما ء اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان مکمل اتفاق قائم ہے-کانفرنس سے سلطان محمد جے یو آئی، مولانہ امانت شاہ جے یو آئی، شاہ روم باچہ جے یو آئی 'س'، مولانہ سیفی اللہ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علماہ ماہ رمضان میں مساجد میں اجتماعات سے متعلق حکومتی اور طبی ماہرین کی احتیاطی تجاویز پر عملدرآمد کیلئے مکمل طور پر متفق اور متحد ہیں۔ کانفرنس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر مردان و ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مردان نے کانفرنس میں شریک تمام علماء کرام سے تعاون کی اپیل کی جسپر علماء کرام نے ماہ رمضان میں مساجد میں سماجی فاصلے یقینی بنانے،احتیاطی تدابیر سمیت کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ کی تائید کرتے ہوئے اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -