کورونا وائرس کی ویکسن بنانے میں کئی ملک مصروف لیکن یہ ویکسین سب سے پہلے کون استعمال کرے گا؟ عالمی برادری نے فیصلہ کرلیا

کورونا وائرس کی ویکسن بنانے میں کئی ملک مصروف لیکن یہ ویکسین سب سے پہلے کون ...
کورونا وائرس کی ویکسن بنانے میں کئی ملک مصروف لیکن یہ ویکسین سب سے پہلے کون استعمال کرے گا؟ عالمی برادری نے فیصلہ کرلیا

  

جنیوا(ڈیلی پاکستان آن لائن)کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے اور انسانی جانیں بچانے کیلئے دنیا بھر میں سائنسدان انتہائی تیزی سے کام کر رہے ہیں تاکہ ویکسین اور دیگر ادویات تیار کرکے اس موذی مرض کا دنیا سے خاتمہ کیا جاسکے ۔

دنیا بھرکے سائنسدان اس وائرس کا توڑ تیارکرنے میں مصروف ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک نہایت اہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ تیاری کے بعد ان جان بچانے والی ادویات کو پہلے استعمال کرنے کا حق کس ملک کو ملے گا؟

اس حوالے سے مختلف ممالک کے سربراہان اور اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدیداروں اور صحت عامہ سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے گزشتہ روز سر جوڑ لیے اور ایک ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اس اجلاس میں اس بات کا عہد کیاگیا کہ کورونا وائرس کی دوا چاہے کوئی بھی ملک بنائے لیکن یہ ویکسین صرف وہ اکیلا استعمال نہیں کرے گا بلکہ پوری دنیا کو اس کے استعمال کی اجازت دے گا ۔دنیا کے کسی بھی ملک کو چاہے وہ کسی بھی خطے میں کیوں نہ ہو یہ دوا بھیجی جائے گی۔

اس دوران ان امور کا بھی جائزہ لیا گیا کہ کس طرح ان ادویات کی تیاری میں تیزی لائی جائے اور کامیابی کی صورت میں کیا لائحہ عمل اختیارکیا جائے کہ یہ دوا بیک وقت دنیا کے تمام ممالک میں تقسیم کی جائے۔

یاد رہے  کہ 2009 میں جب H1N1 کی وبا پھیلی تھی تو امیر ممالک نے اس کی دوا بڑی تعداد میں خرید لی تھی جس کی وجہ سے غریب ممالک میں اس کی شدید قلت ہو گئی تھی اس افسوسناک صورتحال پر عالمی ادارہ صحت نے کہا تھا کہ اب ایسا دوبارہ نہیں ہوسکتا۔

مزید :

کورونا وائرس -