اچھے دن پھر آئیں گے

اچھے دن پھر آئیں گے
اچھے دن پھر آئیں گے

  

ذہن میں بے شمار باتیں تھیں سوچ رہا تھا کہاں سے شروع کروں تو ایک بات یاد آگئی جس پر ہلکا سا مسکرایا اور سوچا اسی سے شروع کرتا ہوں کہ کافی دن ہو گئے بابا جی نے " چمی " نہیں لی اور پھر مزید مسکرایا کہ بابا جی کو تو مجھ سے زیادہ پریشانی ہوئی ہوگی کیونکہ وہ تو سبھی کا منہ چومتے تھے.

کرفیو اور لاک ڈاون کی وجہ سے مہینہ سے زیادہ ہوگیا ہے کہ سعودی دارالحکومت ریاض میں سندھی قوم اور میمن برادری کے بزرگ قاضی اسحاق میمن موجود ہیں جن کو بابائے ریاض بھی کہا جاتا ہے وہ ہر کمیونٹی محفل میں جب شریک ہوتے ہیں تو تمام احباب کو سندھ کی روایت کے طور پر دوستوں کی گالوں پر بوسہ ضرور دیتے ہیں جس سے ان کی محبت اور خلوص سے سبھی احباب نا صرف محظوظ ہوتے ہیں بلکہ کئی بار مجھ جیسے لوگ شرارتا" دونوں گال اچھی طرح صاف کرکے ان کے سامنے پیش کر دیتے ہیں جس سے محفل میں خوب رنگ بھی جم جاتا ہے.

انسان کے پاس جب کوئی چیز نہیں رہتی تو وہ اس کی قدر کو سمجھتا ہے کورونا وائرس کی وجہ سے سعودی عرب میں غیر معینہ مدت کے لئے کرفیو اور لاک ڈاؤن ہے جس کی وجہ سے قاضی اسحاق میمن کے علاوہ دیگر تمام دوستوں سے میل جول بند ہوچکا ہے اور سبھی اپنے گھروں میں مہلک بیماری سے بچنے کے لئے موجود رہتے ہیں، کبھی کبھار جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیتے ہوئے سوشل میڈیا پر محفل جما لیتے ہیں اور ایک دوسرے کی شکلیں دیکھ کر دور سے ہی سہی مگر مطمئن ہوجاتے ہیں.

دارلحکومت ریاض میں لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی مقیم ہیں جن میں سے سینکڑوں ایسے ہیں جو روزانہ آپس میں ملتے ہیں یہاں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے ونگز موجود ہیں، مذہبی جماعتوں کی تنظیم سازی بھی ہے اور سماجی کاموں کو سرانجام دینے والی تنظیموں کے نمائندے بھی موجود ہیں اور شعرو شاعری سے لگاؤ رکھنے والی ادبی تنظیمیں بھی موجود ہیں جبکہ صحافیوں کی بھی اب بڑی تعداد موجود ہے اس لئے یہاں پر مقیم افراد نے ایسا گلدستہ بنا رکھا ہے جس میں سبھی رنگوں کے پھول ہیں رنگ الگ الگ خوشبو الگ الگ مگر دیکھنے والا اور یہاں مہمان بننے والا اس گلدستے کی خوشبو اور رنگوں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا.

اس کی واضح مثال کچھ یوں بھی ہے کہ کسی ایک سیاسی جماعت کی تقریب میں دیگر سبھی سیاسی جماعتیں موجود رہتی ہیں اور بڑی ہی دلجمی اور محبت کے ساتھ وہ اسی سیاسی بھائی چارگی کو پروان چڑھانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے بلکہ پاکستان سے قد آور سیاسی اور دیگر اہم شخصیات جب یہاں بطور مہمان خصوصی مدعو ہوتی ہیں تو وہ بھی اس عمدہ سیاسی بھائی چارگی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پاتی یہ اور بات ہے کہ وہ واپس جاکر کھلے سمندر میں اس روایت کو بھول جاتے ہیں اور اس کی مثال دینے کی بجائے دوبارہ اپنے پرانے کام میں مگن ہوجاتے ہیں ویسے اگر سیاسی ہم آہنگی کیا ہوتی ہے اور ایک دوسرے کو برداشت کیسے کیا جاتا ہے تو میرے خیال میں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈران کو ایک مرتبہ سعودی دارالحکومت ریاض کا چکر ضرور لگا لینا چاہئیے جہاں سفارت خانے کے افسران کو کیمونٹی کے افراد گھر کے فرد سے بھی زیادہ عزت سے نوازتے ہیں اور اکثر سفارتی افسران یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ جتنی محبت ہمیں یہاں ملی ہے سوچتے ہیں یہاں سے ٹرانسفر ہوگیا تو آگے اتنی چاہت اور محبت نہیں ملے گی.

آج دوسرا رمضان المبارک ہے اور میں گزشتہ کئی رمضان المبارک کو یاد کرکے اپنی یادوں کو تروتازہ کر رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ انسان ایک دوسرے کے لئے کتنے اہم ہوتے ہیں وہ کیسے ایک دوسرے کو ملکر اپنی اپنی تنہائیوں کو دور کر لیتے ہیں اور ایک دوسرے کے کام آتے ہیں اوپر جو کیمونٹی ممبران کے گلدستے کی بات کی میں اس کا ہمیشہ پرچار کرتا ہوں اور کیسے عام دنوں میں بھی اور رمضان المبارک میں ہماری کیمونٹی متحرک ہوتی ہے پہلے رمضان سے لیکر آخری رمضان تک تمام سحریاں اور افطاریاں دوست احباب ان کا اہتمام کرتے روز ایک جیسے چہرے صبح و شام نظر تو آتے مگر ان میں ہر شخص اپنے اندر ایک تحریک ایک انجمن کو سجائے ہوئے ملتا اور ایک دوسرے کو محبت دینے کی کوشش میں رہتا، ہمیں کبھی کبھار سحر و افطار میں مکتبہ دارالسلام کے مدیر اور ممتاز عالم دین عبدالمالک مجاہد کی فکر انگیز خطابات سننے کو مل جاتے جن سے راہ ہدایت کو سمجھنے اور اسے اختیار کرنے کے لئے جستجو پیدا ہوتی، نوجوان شاعر وقار نسیم وامق، بزرگ شاعر ڈاکٹر ریاض چوہدری اور دیگر کی شاعری بھی سماعتوں کو سکون بخشتی اسکے علاوہ تاریخی حوالوں کے لئے محمد خالد رانا اور احسن عباسی کی تاریخی گفتگو صدیوں پیچھے کا منظر دکھاتی جبکہ خالد اکرم رانا، اقبال ودود، ظہور لالہ، حنیف بابر، ڈاکٹر مزمل، حافظ عبدالوحید، ڈاکٹر سعید احمد وینس، سجاد چوہدری، خادم بجاڑ، زاہد لطیف سندھو، ناصر آرائیں، رانا خادم، شیخ سعید، عدنان بٹ، عبدالقیوم خان اور رانا عبدالروف جیسے سیاسی سمجھ رکھنے والے زیرک سیاست دان جب پاکستانی سیاست پر گفتگو کرتے تو سبھی ان کی بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے اور کبھی اختلاف رائے سامنے آ بھی جائے تو اسے نہایت خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوشش کی جاتی.

یہ تمام افراد مختلف سیاسی جماعتوں سے ضرور ہیں اور ان کے سینکڑوں کی تعداد میں کارکن بھی موجود ہیں مگر ان کا ایجنڈا صرف پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہے آج بھی اس لاک ڈاون اور کرفیو کے ماحول میں تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے طور پر ورکرز کو راشن دینے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے اور ہر ممکنہ مدد کو یقینی بنا رہے ہیں، یہاں رانا عبداروف جو کہ سیاسی اور سماجی طور پر ہر دلعزیز شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں وہ جس طرح خدمت خلق کی ذمے داری نبھا رہے ہیں وہ یقیناً قابل تعریف ہے اسکے علاوہ پاکستانی ایگزیکٹو فورم کے منیر احمد شاد، نافع حسین اور دیگر نامعلوم افراد جو اپنے پاکستانی بھائیوں کو مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑ رہے قابل تحسین اور قابل قدر ہیں انہوں نے دیار غیر میں ثابت کیا ہے کہ وہ پاکستان کی آن اور شان ہیں.

مشکل وقت ضرور ہے مگر کٹ جائے گا دوستوں سے میل ملاقات نہیں ہے اس کی تکلیف بھی ہے سعودی بھائیوں کی طرح پاکستانی اور دیگر غیر ملکی بھی کورونا وائرس کی وجہ سے متاثر ہیں اس کا افسوس بھی ہے مگر پنجابی میں کہتے ہیں، "جے وقت ریا او وی نئیں تے ریندا اے وی نئیں" یقینا کہ برا وقت گزر جائے گا اور اچھا وقت پھر آئے گا جب بابائے ریاض کی چمیاں بھی ہونگی، دوستوں کی شاعری بھی ہوگی اور سیاسی گفتگو سے ماحول گرمایا بھی جائے گا یقیناً وہ وقت بھی آئے گا.

ایک اور دکھ جو ہم سب کا سانجھا ہے وہ یہ ہے کہ اس رمضان ہم عمرہ اور درِ حبیب صلی الله عليه وآلہ وسلم کا دیدار نہیں کر سکیں گے مگر یہ وقت بھی گزر جائے گا اور ہم حرمین شریفین پر اپنی حاضری دے سکیں گے، انشاءاللہ

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -